نیشنل بنک کا سسٹم بیٹھ گیا؛ ملازمین اور بزرگ پنشنرز خوار، سٹیٹ بنک کا آخری پنشنر کو ادائیگی تک بنک کھولنے کا وعدہ وفا نہ ہوا

نیشنل بنک کا سسٹم بیٹھ گیا؛ ملازمین اور بزرگ پنشنرز خوار، سٹیٹ بنک کا آخری ...
نیشنل بنک کا سسٹم بیٹھ گیا؛ ملازمین اور بزرگ پنشنرز خوار، سٹیٹ بنک کا آخری پنشنر کو ادائیگی تک بنک کھولنے کا وعدہ وفا نہ ہوا

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں نیشنل بینک کی برانچز کا آٹی سسٹم بیٹھ گیا جس کے باعث لنک ڈاون ہونے سے تنخوا دار طبقہ اور بزرگ پنشنرز انتہائی اذیت میں مبتلا ہوگئے اور دن بھر رقم کی وصولی کے لیے ر±لتے رہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی، لاہور، پشاور اور کراچی میں ملازمین نے بینکوں کے باہر احتجاج کیا جب کہ معاملہ میڈیا پر آنے کے بعد نیشنل بینک نے بند برانچز دوبارہ کھلنے کا حکم دے دیا اور کراچی میں نیشنل بینک نے آپریشن بحال کردیا جس کے بعد پنشنر کو پینشن ملنا شروع ہوگئی ۔ لاہور میں بزرگ پنشنرز صبح سات بجے ہی بنکوں کے باہر لائنوں میں لگ گئے جیسے ہی بنک کھلے تو حسب معمول لنک ڈاو¿ن ہو گیا پھر کیا تھا بزرگ پنشنرز کا پارہ چڑھ گیا۔ لنک اپ ہونے کے انتظار میں اکثر پنشنرز خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ گئے۔راولپنڈی میں گھنٹوں خوار ہونے والے پنشنرز سراپا احتجاج نظر آئے۔ ملتان میں پنشنرز ہینڈ پمپ سے پانی سروں پر ڈال کر گرمی سے لڑتے رہے۔ پشاور میں نیشنل بنک کا عملہ بنک کے اندر خوش گپیوں میں مصروف رہا اور پنشنرز باہر خوار ہوتے رہے۔میڈیا پر خبریں شائع ہونے پر سٹیٹ بنک نے پنشنرز کی مشکلات کا نوٹس لیا اور نیشنل بنک کی تمام برانچوں کو تاحکم ثانی کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے احکامات موصول ہونے کے بعد نیشنل بنک حکام نے بھی اعلان کیا تھا کہ آخری پنشنر کو رقم کی ادائیگی تک نیشنل بنک کی تمام برانچیں کھلی رہیں گی تاہم یہ وعدہ بھی سرکار کے دیگر وعدوں کی طرح پورا نہ ہو سکا اور بیشتر برانچوں کا عملہ افطاری کے وقت گھر بھاگ گیا۔

مزید : قومی