انقلاب زندہ باد (1)

انقلاب زندہ باد (1)

  

آج کی دنیا میں افراد کے ہاتھوں طاقت کے ارتکاز کے عمل نے مقبول تحریکوں کا راستہ آسان بنا دیا ہے جو قطعی طور پرفعال انقلابات کی بنیاد بن سکتا ہے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب عوام میں مایوسی اور جبر انتہا کو پہنچ جائے تو انقلابات برپا ہوتے ہیں۔ایک کلاسک انقلاب جوابتدا میں جتنا زور آور ہوگا،اتنے ہی کسی بھی معاشرے پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے جو اگر صدیوں تک نہیں تو کئی دہائیوں تک ضرور برقرار رہتے ہیں۔جیسا کہ فرانس کے مشہور زمانہ انقلاب کے اثرات اور اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، کیونکہ اس انقلاب نے عام شہریوں کو اشرافیہ کے مقابلے میں ایک سیاسی طاقت بنا دیا تھا۔اسی طرح روسی انقلاب اور پھر بیسویں صدی کے وسط میں آنے والے چینی انقلاب نے پوری دنیا میں لوگوں کی زندگیوں پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔انقلابات کیا ہیں؟کیا یہ نا انصافی کے خلاف ایک فطری ردعمل ہیں؟ انقلابات کب وقوع پذیر ہوتے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جو اس سماجی و سیاسی ردعمل کا باعث بنتے ہیں؟ان سوالوں کا جواب دنیا کے مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات میں تلاش کیا جاسکتا ہے جو آج، یعنی 2017ء میں بھی اپنے عروج پر ہے۔انقلاب ،قلب سے مشتق ہے، جس کا لفظی مطلب لوگوں کے گروہ کے درمیان گھومنا اور چکّرلگانا ہے۔یہ ایک ایسا متوازی عمل ہے جوکسی معاشرے کے اندر نامناسب حالات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے گرد گھومتا اور ان کی نشاندہی کرتا ہے۔پولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی جیسے علوم کے نقطہ نظر سے انقلاب کسی مروّجہ سماجی و سیاسی نظام میں پیدا ہونے والے اس تغیر کو کہتے ہیں جو ایک طاقتور تحریک کے نتیجے میں پیدا ہوتاہے،جس کے نتیجے میں طاقت کا ڈھانچہ، کلچر اور معاشرے کے خدو خال تبدیل ہو جاتے ہیں۔اس وضاحت کو تاریخی مثالوں کے ساتھ مناسب طور پر جوڑنے کی ضرورت ہے۔

1789ء سے 1799ء کے درمیان آنے والے فرانسیسی انقلاب کو بجا طور پر جدید تاریخ میں تمام انقلابات کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔یہ فلسفیوں ، فنکاروں ،شاعروں اور ادیبوں سے تحریک پاتا ہے، جبکہ عملی طور پر سپاہی، مزدور، کسان اور عام لوگ انقلاب برپا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔اگرچہ فرانسیسی انقلاب نے یورپ میں سراُٹھایا، لیکن یہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔انقلاب کا باعث بننے والی وجوہات آج بھی زیر بحث ہیں،لیکن اس کے چند عوامل پر کم وبیش سب کا اتفاق ہے۔سترھویں صدی کے فرانس میں مطلق العنان شاہی نظام رائج تھا۔امیر اشرافیہ کے افرادکو بادشاہ کے مصاحبین و مقربین کا درجہ حاصل تھا،جنہیں وسیع جائیدادوں ، زمینوں اور دیگر وسائل کا مالک بنا دیا گیا تھا۔اس سے قبل فرانس کے کئی بادشاہ نسل در نسل اپنے وسائل کا بڑا حصہ معقولیت کی حد ود پار کرتے ہوئے انگریزوں کے ساتھ جنگوں میں صرف کر نے کی غلطی کر چکے تھے ۔برطانوی سامراج کے خلاف امریکی انقلاب کے دوران فرانس کے ملوّث ہونے سے یہ غلطی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔فوج پر ہونے والے کثیر اخراجات کے باعث فرانس کا بیرونی قرضہ بہت زیادہ بڑھ گیا، جس کی ادائیگی کے لئے عوام الناس اور کسانوں پر بھاری ٹیکس عائد کر دیئے گئے۔اس پر مستزاد یہ کہ فرانس میں تین سال تک فصل کی پیداوار خسارے کا شکار رہی، جس سے عوامی غم و غصّے کا توازن بگڑنے لگا۔انقلاب یا تبدیلی کے اس عمل کا باعث فنکار، شاعر، ادیب اور فلسفی تھے۔ روشن خیالی اور ترقی کے تصورات نے اختیارات اور طاقت کے روائتی نظریات کو چیلنج کرنا شروع کر دیا،چنانچہ شدید افراتفری، بے پناہ اموات، سول واراور بغاوت نے بادشاہی نظام کا تختہ اُلٹ دیااور طبقہ اشرافیہ کے زیادہ تر افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔اس دوران چالیس ہزار اموات کا اندازہ لگایا گیا۔ بالآخر جاگیرداری نظام اور اشرافیہ کی شاہانہ مراعات کا مکمل خاتمہ کر دیا گیااور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے مساوات کے اصول کو سختی سے نافذ کر دیا گیا۔

فرانسیسی انقلاب نے پورے یورپ میں لبرل اور سیکولر فلسفی پیدا کر دیئے۔بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں رائج آج کے زمانے کی بہت سی جمہوری حکومتیں انقلاب فرانس کی مرہون منت ہیں۔بلا شبہ اس انقلاب نے انسانی تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا۔انقلاب فرانس کی صورت میں دنیا کے ایک حصے میں برپا ہونے والی سماجی و سیاسی تحریک نے جس طرح دنیا کے باقی ممالک میں متوازن معاشروں کو فروغ دیا،اس سے انقلابات کی قُوّت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انقلاب کی ایک دوسری تصریح 1917ء میں آنے والے روسی انقلاب سے ملتی ہے، جس کا نتیجہ یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلک (یو ایس ایس آر) کے قیام کی صور ت میں نکلا۔اس مرتبہ زار روس کے جابرانہ نظام حکومت اورطبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اس کے منتخب کردہ پارلیمنٹیرین جو "ڈوما"کہلاتے تھے، کے خلاف پُر تشددمظاہروں کا آغاز ہوا۔ روس میں قحط پھیل چکا تھا اور عوام رسوائیوں کا شکار تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں روس کی شرکت اور اس کے نتیجے میں روسی شہروں میں ہونے والی تباہی نے روسی سپاہیوں اور عام عوام کو احتجاج اور بغاوت پر مجبور کر دیا۔ اس مرتبہ خارجی وجوہات انقلاب کا باعث بنی تھیں،کیونکہ جدید دور میں جنگیں جذبوں سے نہیں،بلکہ ٹیکنالوجی،پیسے اور وسائل کے بل بوتے پر لڑی جاتی ہیں۔روس کے اقتصادی زوال نے مزدور پیشہ افراد اور عام ورکنگ کلاس کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی، جبکہ دوسری طر ف کارل مارکس کے فلسفیانہ نظریات پر ابھرنے والی سوشلسٹ تحریک بھی عروج پر تھی، جس نے انقلاب کے لئے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ کارل مارکس کا ’’تاریخ کی مادی تشریح اور سرپلس ویلیو‘‘کافلسفہ ولادی میر لینن جیسے مقبول عوامی راہنماؤں کے لئے بہت متاثر کُن تھا۔تقابلی طور پر فرانسیسی انقلاب میں جو کردار فنکاروں ، شاعروں اور ادیبوں کا تھا،روسی انقلاب میں یہ کردار ماسکو میں کارل مارکس اور لیون ٹرائسکی جیسے فلسفیوں نے ادا کیا۔شدید لڑائی کے بعد روسی شہنشاہت کا خاتمہ ہو گیا اور شہنشاہ نکولس ثانی کو خاندان سمیت 1917ء میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد اغوا کر لیا گیا۔ اب دوسری جدو جہد اس دوران قائم ہونے والی عبوری جمہوری حکومت کے خلاف تھی جسے ورکرز بالشویک پارٹی نے لینن کی قیادت میں اپنی شدید مخالفت سے ناکام بنا دیا۔ کسان آخر کار اب مالک بن چکے تھے۔ (جاری ہے)

چینی سرخ انقلاب کے امکانات بھی دیگر انقلابات سے مشابہہ تھے۔چینی دانشوروں نے انقلاب روس کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسے ایک اہم واقعہ کردار دیا۔ انہیں مکمل یقین تھاکہ یہ انقلاب ہمیشہ کے لئے چین کی سمت تبدیل کر دے گا ۔1919ء میں لینن کو جب مکمل طور پر کامیابی حاصل ہو گئی تو اسے چین میں بھی بے پناہ حمایت حاصل ہونا شروع ہو گئی، یوں 1921ء میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی پہلی باقائدہ میٹنگ شنگھائی میں منعقد ہوئی۔چین میں چانگ کائی شیک کی حکومت نے کمیونسٹ پارٹی کو سختی سے کچلنا شروع کر دیا ،جس سے ایک خونریز جنگ کا آغاز ہوا۔بعد ازاں دوسری جنگ عظیم کے دوران چین کی قومی حکومت نے جاپانی جارحیت کا متفقہ طور پر مقابلہ کرنے کے لئے کمیونسٹوں سے اتحاد کر لیا۔جنگ کے بعد امریکیوں نے چین کی نیشنل حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ روس نے کمیونسٹوں کی امداد جاری رکھی۔یکم اکتوبر 1949ء میں ماؤزے تنگ نے نیشنلسٹوں کے خلاف بھر پور جنگ کا اعلان کر دیا۔ دوطرفہ بھاری جانی نقصان کے بعد بالآخر ماؤزے تنگ نے کامیابی حاصل کی۔بعد ازاں، انقلابیوں کی مدد سے ماؤزے تنگ نے چینی معاشرے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ماؤزے تنگ کی اصلاحات اور مہم جوئیوں نے لاکھوں انسانوں کی جان لی، جن کی اصل تعداد پر آج بھی بحث کی جاتی ہے ،لیکن اس سب کے باوجود اس نے موجودہ چین کو اٹھا کر آج کی سپر پاور بنا دیا۔ چین میں کوئی ایسا شعبہ حیات نہیں، جسے انقلابیوں نے تبدیل نہ کیا ہو۔ اصلاحات اور تبدیلی کی یہ لہر برصغیر میں بھی آئی، لیکن اس کا نتیجہ بہت مختلف نکلا۔۔۔ان حالات کا اطلاق اگر پاکستان پرکیا جائے توجغرافیائی اعتبار سے روس اور چین کے قریب ہونے کے سبب ایسی ہی طرز کا انقلاب یہاں بھی کچھ بعید نہیں تھا، جس کے سد باب کے لئے ایک جوابی حکمت عملی کے تحت مغربی طاقتوں نے اس خطے میں تیزی سے کمیونسٹوں کی پیش رفت کو روکنے پر کام شروع کیا۔شروع میں ہی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو منافع بخش پیشکشیں ملنے لگیں،جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنا متوقع دورۂ روس منسوخ کر دیااور اس کے بجائے واشنگٹن جانے کو ترجیح دی۔

جارح ہمسائے ہندوستان کی طرف سے درپیش سیکیورٹی کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ واضح طور پر مغرب کی طرف ہو گیاجس کے بدلے میں پاکستان کو سیٹو اورسینٹوکا ممبر بنا دیا گیا اور دفاعی سازو سامان کی فراہمی نے یہاں اینٹی کمیونسٹ ماحول کے لئے ایک متبادل بیانیہ کی داغ بیل ڈالی۔جبر اور اقتصادی محرومی جو انقلابات کے لئے اکسیراور چارے کا درجہ رکھتی ہے ،اس کا ازالہ امریکی امداد نے کر دیا۔امریکی امدادسے بننے والے ڈیموں اور غذا برائے امن جیسے پروگراموں نے وقتی طور پر پاکستان میں کسی بھی انقلاب کا راستہ روکنے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ اس عارضی اقتصادی ترقی نے عوام کو نظام کی مکمل تبدیلی سے دور رکھا۔اس کے ساتھ ہی فیض احمد فیض،میجر اسحٰق، جنرل اکبر اور دیگر انقلابیوں کو راولپنڈی سازش جیسے فرضی مقدمات میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ انقلاب کا ایک اور احساس 1962ء میں ہونے والی چین بھارت جنگ اور اس کے بعد 1971ء میں پاکستان کے بطن سے بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں پیدا ہوا۔ایک مرتبہ پھر عدم تحفظ اور اقتصادی بدحالی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوئے،لیکن اس بار ملٹری حکومت کے قیام اور نیوکلیائی طاقت کے حصول کی کوششوں نے کسی بھی ممکنہ انقلاب کے آگے بند باندھ دیااور حکومت نے ملک میں موجود انقلابیوں کی طاقت کو سختی سے کچل دیا۔1984ء میں کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے تحفظ کی یقین دہانی کرا دی گئی، جب جنرل ضیاء نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران شدو مد سے بھارتیوں کو بتایا کہ اگر پاکستان کے بارڈر پر چھیڑ خانی شروع کی گئی تو علاقے میں مکمل ایٹمی جنگ کے سبب پوری دنیا میں ہندواکثریت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ضیائالحق حکومت کے بعدمذموم عزائم کے ساتھ طاقت کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لئے سیاسی پارٹیوں کی باہمی چپقلش نے پاکستان کو ایک بار پھر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا،لیکن نقصان پہلے ہی ہو چکا تھااور مسلح افواج کی مداخلت کے سبب انقلاب کے لئے حالات کمزور کر دیئے گئے تھے،تاہم ملک میں شدت پسندی اور علیحدگی کی تحریکوں کو مکمل طور پر نہ روکا جا سکا ۔اب پاکستان اپنی تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔سی پیک اور اوبور جیسے منصوبوں سے منسلک ہونے کی بدولت ابھرتے ہوئے چین کے ساتھ تعلقات نے پاکستان میں ایک نئی طرز کے انقلاب کی راہ ہموار کر دی ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ اس انقلاب کی انتہا امن اور اقتصادی ترقی پر منتج ہو گی۔ اس منصوبے کی کامیابی سے پاکستان میں کسی بھی افراتفری اور خونی انقلاب کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا۔

(مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں۔)

مزید :

کالم -