مسجدنبوی کے خادم پاکستانی

  مسجدنبوی کے خادم پاکستانی
  مسجدنبوی کے خادم پاکستانی

  

 دیکھاجائے توصرف اعتکاف ہی نہیں  حرمین شریفین میں دیگر نیک کاموں میں بھی پاکستانی پیش پیش رہتے ہیں۔  افطاری اور سحری کے وقت پاکستانیوں کی کثیر تعداد افطاری اور سحری تقسیم کرتی نظر آتی ہے۔باقاعدہ اچھے اچھے کھانے تقسیم کیے جاتے ہیں۔سحری اور افطاری کے وقت حرمین شریفین خصوصا مسجد نبوی کا منظر دیدنی ہوتاہے۔کوئی چائے تقسیم کررہا ہوتاہے تو کوئی دسترخوان لگا کر لوگوں کو سحری کے لیے بلارہاہوتاہے۔بہت سے لوگ تو سالہا سال سےحرمین شریفین میں سحری اورافطاری  کے لیے دسترخواں لگاتے ہیں۔جب کہ کچھ اصحاب خیر پاکستانی ایسے بھی ہیں جو خود تو یہاں نہیں آپاتے البتہ کسی کے واسطے سے یہاں افطاری اور سحری اور عام روٹین میں حجاج کرام اور معتمرین پر خرچ کرتے رہتے ہیں۔

حرمین شریفین کے خداموں کی بات کی جائے تو یہاں بھی عام طور پر سب سے زیادہ پاکستانی ہی نظرآئیں گے۔راقم نے کئی بار ان خداموں سے پوچھا کہ آپ یہاں کس مقصد کے لیے  آئے ہیں کیا صرف پیسے کمانے کے لیے حرمین شریفین میں خدمت کی ڈیوٹی لگوائی ہے؟جس کسی سے بھی یہ سوال پوچھا تو انہوں نے ایمان افروز جواب دیا کہ یہ کام تو وہ صرف اللہ اور اور اس کے رسول کے گھر کی خدمت کے طورپر کرتے ہیں۔جب کہ پاکستان سے بہت سے لوگ راقم سے  ای میل اور سوشل میڈیا کے ذریعے عموما حرمین شریفین  میں خدمت  کرنے کے حوالے سے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔پوچھنے پر یہ رابطہ کرنے والے صرف یہی بتاتے ہیں کہ وہ بس حرمین شریفین  سے محبت کی خاطر خداموں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔مقدس مقامات بالخصوص غار حرا ورغارثور  وغیرہ  کی زیارات  پر بھی عموما پاکستانیوں کو زیادہ دیکھاجاتاہے کہ جو آقائے نامدار محبوب عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت میں تپتی دھوپ میں بھی غارحرا  اورغارثو رایسے بلندپہاڑ پر چڑھنے سے نہیں کتراتے۔  

پاکستان کے لیے بھلا یہ اعزاز کیا کم ہے کہ دوپاکستانی نژاد سعودی مسجد نبوی میں امام ہیں ۔جن میں شیخ احمد حمیدطالب  بن المظفر مستقل طورپر مسجد نبوی کے امام ہیں،جب کہ شیخ محمدخلیل القاری دو سال سے مسجد نبوی میں تراویح پڑھانے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔حرمین شریفین سےپاکستانیوں کی اس قدر والہانہ عقیدت اور محبت پر نہ صرف سعودی بلکہ دنیا بھر سےآئے مسلمان  رشک کرتے ہیں اور ہرکسی کی زبان پر یہی جاری ہوتا ہے کہ حرمین شریفین میں تو صرف پاکستانی ہی پاکستانی ہیں۔

بہرحال  حرمین شریفین مسلمانوں کی اجتماعی عبادات گاہیں ہیں۔یہ تو نصیب کی بات ہے کہ یہاں عبادت کے لیے توفیق کس کو زیادہ ملتی ہے۔پاکستانی ہوں یا سعودی یا ترکی یاکوئی اور اللہ کے ہاں کسی نسل ،قوم اور قبیلے  کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اللہ کے ہاں عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے،جو جتنا متقی ہوگا وہ رب کے ہاں  اتنا ہی معزز ہوگا۔اللہ تعالی سب مسلمانوں کو متحد ہونے کی ،حرمین شریفین کے تقدس کا پاس رکھنے،باربارحرمین شریفین میں حاضر ہونے  اور رمضان المبارک سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطاکرے ۔آمین

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -