پاکستان گرے لسٹ میں اور ہمارا کردار

پاکستان گرے لسٹ میں اور ہمارا کردار
پاکستان گرے لسٹ میں اور ہمارا کردار

  

دنیا جانتی ہے اور گاہے گاہے اس کا اعتراف بھی کرتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیتے ہوئے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ اس کے باوجود ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا،جبکہ ہم نے سجدۂ شکر ادا کیا ہے کہ ہم بلیک لسٹ ہونے سے بچ گئے ہیں، مگر یاد رہے کہ یہ تلوار ہنوز ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے اور اگر ہم دہشت گرد گروہوں کو مالی امداد روکنے میں ناکام رہے تو پھر پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔

آخر وجہ کیا ہے کہ ہم نے پوری دنیا میں سب سے زیادہ قربانیاں بھی دیں، اپنے فوجی جوانوں اور افسران کی شہادتیں بھی پیش کی ہیں، عوام کی جان ومال کے نہ صرف خطرے مول لئے، بلکہ ہزاروں کی تعداد میں عوام کی جان کے نذرانے پیش کر کے، کھربوں کے مالی نقصانات اٹھا کر بھی گرے اور بلیک لسٹ کے درمیان لٹکنے پر بھی ہم ہی کیوں مجبور ہیں؟ ہمارے ساتھ کیوں ایسا سلوک ہو رہا ہے؟ ہمیں اس پر سوچنا چاہیے۔

کیا ساری دنیا اس قدر اندھی ہے، جس کو ہماری قربانیاں نظر نہیں آئیں، ساری دنیا ہماری دشمن ہے یا تمام دنیا کے حکمران عقل سے بے بہرہ ہیں کہ انہیں ہماری قربانی کا ادراک ہی نہیں ہے؟آخر کوئی تو وجہ ہے ناں، مگر ناانصافیوں اور متعصبانہ فیصلوں پر تنقید سے پہلے ہمیں اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہم اپنے گھر میں خود کیا کر رہے ہیں، ہمارا بحیثیت قوم کیا کردار ہے، ہماری خارجہ پالیسی کے کیا خدوخال ہیں، ہماری پالیسیوں کا تسلسل کیا ہے؟

اگر ہماری پچھلی چار دہائیوں کی تاریخ پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ہمیں اپنی قربانیوں اور اپنے یو ٹرنوں کی فہرست قریب قریب یکساں ہی نظر آتی ہے۔جب ہم نے ایک کمانڈو کی زیر قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ بننے کا فیصلہ کیا اور کشمیریوں کو یقین دہانی کرائی کہ اس قربانی کے عوض دنیا بالخصوص امریکہ کشمیریوں کو بھارت کے پنجہ استبداد سے آزادی دلانے میں ہماری مدد کرے گا تو کشمیریوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

انہیں کیا معلوم تھا کہ ہم خود بھی اس جنگ کا لقمہ بن جائیں گے۔ امریکہ بہادر طالبان کی حکومت کا خاتمہ کرنے سے جیسے ہی فارغ ہوا تو اس کا اگلا نشانہ کشمیری حریت پسند بنے۔

اس کے بعد پاکستان میں تحریک طالبان نے سر اٹھایا اور جگہ جگہ عوامی مقامات اور ملکی سیکیورٹی فورسز پر حملے کئے اور سخت نقصان پہنچایا۔ پھر امریکہ کے ساتھ مل کر دنیا نے شور مچایا کہ پاکستان میں مختلف دہشت گرد گروپ موجود ہیں جو امریکہ کے افغان مشن میں خلل پیدا کر رہے ہیں، لہٰذا پاک فوج ان گروہوں کے خلاف جنگ کرے۔

لیکن پاکستان کا اصرار تھا کہ شمالی وزیرستان میں کوئی دہشت گرد نہیں، پھر آخر کار ہم نے ضرب عضب کا آغاز کیا اور دو سال سے بھی زیادہ عرصہ یہ جنگ لڑی گئی، اسی جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں کسی حد تک امن واپس لوٹا ہے، متعدد بار ہمارا دوہرا معیار دنیا کے سامنے عیاں ہوا ہے۔

ہماری ان تمام قربانیوں کا مقصد امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی خدمت اور ان کی حفاظت بھی تھا، صورت حال یہ ہے کہ نہ تو امریکہ ہم پر مہربان ہے، نہ کوئی اسلامی ملک ہمارا دوست ہے۔

کچھ ہی عرصہ پہلے دوبئی کے سیکیورٹی چیف کا پاکستان کے خلاف نفرت بھرا بیان اور اب سعودی فوجیوں کی بھارت میں ٹریننگ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ افغانستان پہلے ہی بھارت کی گود میں جھولے لیتے ہوئے ہماری طرف شکایتی انگلیاں اٹھا رہا تھا۔

یہ سب کیا دھرا ہے ہماری خارجہ پالیسی کا۔ ہماری آپس کی لڑائیاں ہی اتنی زیادہ اور طویل ہیں کہ ہمیں خارجہ امور پر سوچنے کا وقت ہی کہاں ملتا ہے، پھر ہمارے میڈیا اور عوام کے مسائل ہی کچھ اور ہیں۔

ہم نان ایشوز میں اُلجھ کر اصل مسائل بھول گئے۔خدارا ذرا اپنے ملک کے حقیقی مسائل کا بھی ادراک کر لیں اور اپنے ملک کو دنیا میں ایک مذاق بننے سے بچائیں۔

جن عوامل کی بنا پر ہمارے ملک پر گرے رنگ کی لکیر کھینچی گئی ہے، ان کو سمجھنے کی کوشش کریں، اگرچہ پاکستان نے کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے، لیکن دہشت گردی کا سبب بننے والے رویے ہنوز اپنی جگہ پر موجود ہیں۔

ہمارا ایک نیشنل ایکشن پلان بنا تھا، اس کا کیا ہوا؟ ہمارے ہاں مذہبی انتہا پسندی میں کوئی کمی نہیں آئی، لوگوں کو اپنے حقیقی دین سے آگاہی نہیں ہے اور سوچنے کی صلاحیت بہت محدود پیمانے پر ہے۔ پاکستان کو جس جرم کی پاداش میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے وہ دہشت گرد گروہوں کو مالی امداد کی روک تھام نہ ہونا ہے۔

مزید : رائے /کالم