”راناثناءاللہ کی گرفتاری اورشکوک و شبہات کی پرچھائیاں“

”راناثناءاللہ کی گرفتاری اورشکوک و شبہات کی پرچھائیاں“
”راناثناءاللہ کی گرفتاری اورشکوک و شبہات کی پرچھائیاں“

  

مسلم لیگ ن کے رہنما راناثنا ءاللہ کو اے این ایف نے گرفتار کرلیا ہے ، ملک میں جار ی احتسابی عمل کے باعث کچھ بعید نہیں کہ کسی بھی وقت کسی بھی سیاستدان کوگرفتار کیاجا سکتاہے ۔خودتحریک انصاف کی حکومت بھی احتساب کرنے کانعرہ لگا کر اقتدار پر براجمان ہے اور باربار وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن کو این آراونہ دینے کی بات تواتر سے کی جارہی ہے جس کی وجہ سے جن سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات ہیں ان میں کچھ اندر ہیں اورباقی کو بھی اندر بھیجنے کی سزائے بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے ۔

یہ بھی حقیت ہے کہ عوام کی اکثریت چاہتی ہے ملک میں غیر جانبدار اور شفاف احتساب ہو اور لوٹی ہوئی دولت کوبھی ملک میں واپس لایا جائے جس کولانے کے وعدے تحریک انصاف کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کے دوران بڑے دھڑلے سے کئے جاتے رہے ہیں۔ اس لئے اب کسی سیاستدان کا کرپشن کے الزام میں نیب کے یاکسی اورادارے کے ہاتھوں گرفتار ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی لیکن رانا ثناءاللہ کی اے این ایف کے ہاتھوں منشیات کیس میں گرفتاری نے بہت سے سوالات کوجنم دیدیا ہے۔ ان کو جن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ، وہ ماضی میں ان کے بارے میں نہ کہے اورنہ سنے گئے ، راناثناءاللہ کو پرویز مشرف کے کو کے وقت بھی حراست میں لیا گیا ، بعد ازاں کئی فوجدار ی مقدمات میں جن میں سانحہ ماڈل ٹاﺅ ن سرفہرست ہے ان کانام آیابلکہ مخالف سیاسی دھڑوں کی جانب سے ان کو سانحہ ماڈل ٹاﺅ ن کاماسٹرمائنڈ قرار دیا جاتارہااور آج تک بھی دیا جارہا ہے لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں کہاکہ راناثناءاللہ منشیات فروشی میں بھی ملوث ہیں یا ان کی جانب سے منشیات فروشو ں کی سرپرستی کی جاتی ہے ۔

ایک ایساشخص جو پہلے پیپلز پارٹی کارکن اسمبلی رہا بعد میں ن لیگ کا رکن اسمبلی منتخب ہوا ، پنجاب میں مسلم لیگ ن کے شہباز دور حکومت میں دس سال تک ملک کی آدھی آبادی کے حامل اس بڑے صوبے کا وزیرقانون رہا لیکن ملک میں بشمول اے این ایف قانون نافذ کرنے والے اداروں ،انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے اس کے بارے میں یہ علم نہ ہو سکا کہ ایک منشیات فروشی میں ملوث شخص اس ملک کے بڑے صوبے کا وزیرقانون ہے۔  یعنی منشات فروشی کے پیسوں سے کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرنیوالا شخص اتنی بڑی پوسٹ پر فائز رہا اور کسی کو کانوں کان خبرنہ ہوئی۔

حیرت اس بات پر ہے کہ ہماری انٹیلی جنس جس کو گلی محلے تک کے پڑیاں فروخت کرنیوالے انتہائی نچلے طبقے کے منشیات فروشوں کے متعلق بھی معلومات ہوتی ہیں،ایک ایسے شخص کا کھوج نہ لگا سکیں جو  دوبار پنجاب کا وزیر قانون رہااور حالیہ الیکشن کے بعد بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلسل ایک سال تک دھڑلے سے اپوزیشن کی سیاست کرتا رہا۔ رانا ثنا ءاللہ کی گرفتاری کے بعد ذرائع کے حوالے سے اے این ایف کی جانب سے ملنے والی اطلاعات میں کبھی کہا گیا کہ رانا ثناءاللہ کی گاڑی سے منشیات بر آمد ہوئی ہے اور پھر کہا گیا کہ ان کی گاڑی ان کی مرضی سے منشیات فروشی کیلئے استعمال ہوتی تھی ۔ اگر یہ باتیں درست بھی تسلیم کرلی جائیں تو پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کا رہنماجس کے پاس اپنے صوبے کی پارٹی صدارت کا اہم عہدہ بھی موجود ہے تو وہ ایسی حرکت کیوں کرنے لگا ؟ کہ اپنی گاڑی کو منشیات فروشی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دیدے یا اس وقت جب اپنی پارٹی کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کیلئے جارہا ہوتو اپنے ساتھ گاڑی میں منشیات بھی رکھ کرلے جائے ۔

موجودہ سیاسی تناظر میں رانا ثناءاللہ جس انداز میں پارٹی موقف کی ترجمانی کررہے تھے اور ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز اور مباحثوں میں ان کا حکومت مخالف جارحانہ رویہ بھی سب کے سامنے تھا ،حکومت مخالف بیانیے میں بعض او قات ان کے لہجے کی تلخی حد سے تجاوز کرجاتی تھی ۔ ان کی جانب سے ان لیگی ارکان کے گھروں کا گھیراﺅ کرنے کابھی اعلان کیا گیا تھا جواطلاعات کے مطابق بنی گالا میں وزیر اعظم عمران خان سے ملے اور ن لیگ سے الگ ہونے کی تیاری کررہے ہیں ۔ملک میں جاری سیاسی صورتحال، جب حکومت اور اپوزیشن الیکشن کے بعد روز اول سے ہی ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں ، دونوں اطراف سے الزامات کی بوچھاڑ ، پارلیمنٹ میں جاری رہنے والی ہنگامہ آرائیوں ، ہاتھاپائی اور مولانا فضل الرحمان کی اے پی سی کے اعلامیے مطابق جب اپوزیشن25جولائی کویوم سیاہ منارہی ہے اور اس کے بعداپوزیشن کی مہنگائی کیخلاف متوقع مہم جس میں رانا ثناءاللہ کا ایک کلیدی کردار یقینی تھا ،ایک ایسے الزام کے تحت رانا ثناءاللہ کی گرفتاری نے جو اس سے قبل کبھی ان پر لگا ہی نہیں ، اگر اس میں حقیقت بھی ہو تو شکوک و  شبہات کو بہر حال جنم دیاہے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -