ڈاکٹر عائشہ امریکہ سے ماس کام میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنیوالی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں 

ڈاکٹر عائشہ امریکہ سے ماس کام میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنیوالی پہلی پاکستانی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
لاہور (نمائندہ خصوصی) انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکشن اسٹڈیز جامعہ پنجاب کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ اشفاق  امریکہ سے شعبہ ابلاغیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ  کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں۔  انہوں نے رواں ماہ  ’ایری  زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے والٹر کرنکائٹ اسکول آف جرنلزم‘ سے ریکارڈ مدت میں پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔  ایری زونا یونیورسٹی کے ممتاز محقق اور اسکالر پروفیسر جوزف روزومانو نے ڈاکٹر عائشہ کے ریسرچ ورک کو دیکھتے ہوئے گزرے برس انہیں اامریکہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی پیشکش کی تھی۔  انہوں نے بارہ ماہ کی مقررہ مدت سے تین ماہ پہلے ہی اپنا ریسرچ ورک مکمل کرتے ہوئے پوسٹ ڈاکٹریٹ ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔  والٹر کرونکائٹ اسکول آف جرنلزم نے ڈاکٹر عائشہ اشفاق  کے  متاثر کن ریسرچ ورک کو دیکھتے ہوئے ان کے اعزا زمیں گذشتہ ہفتے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔


کیا اور انہیں  ریسرچ اینڈ اکیڈیمکس کے میدان میں  پاکستان کے لئے فخر قرار دیا۔  اس موقع پر ان کے سپروائزر نے انہیں ’میڈیا اینڈ پالیٹیکس‘ کے موضوع پر مشترکہ کتاب لکھنے  کے لئے تعاون کی پیشکش بھی کی۔  اپنے پوسٹ ڈاکٹریٹ مقالے میں ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مسند اقتدار تک فائز ہونے میں  میڈیا کے کردار کو موضوع بحث بنایا۔ ڈاکٹر عائشہ اشفاق شعبہ ابلاغیات جامعہ پنجاب میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے ماس کام کی فیلڈ میں کم عمر ترین  فارن کوالیفائیڈ پی ایچ ڈی ہونے کا اعزاز بھی انہی کے پاس ہے۔  وہ اپنے ریسرچ ورک کی وجہ سے بین الاقوامی  حلقوں میں بھی اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ اشفاق  نے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس ا?نرز  کی ڈگری جامعہ پنجا ب سے حاصل کی، جہاں وہ مسلسل ا?ٹھ سمیسٹرز میں چار میں سے چار سی جی پی اے حاصل کر کے گولڈ میڈلسٹ قرار پائیں۔   انہو ں نے ایم فل کی ڈگری کا ایک حصہ ناروے اور بقیہ جامعہ پنجاب سے مکمل کیا، وہ ایم فل میں  بھی گولڈ میڈلسٹ ہیں۔  ملائیشیا کی یونیورسٹی سینز امریکہ سے پی ایچ ڈی میں بھی انہیں گریجویٹ ا?ن ٹائم ہونے کا اعزاز  بھی حاصل ہے۔ ان کے متعدد ریسرچ پیپزر مقامی اور بین الاقوامی ریسرچ جرنلزمیں چھپ چکے ہیں۔  ایجنڈا سیٹنگ، میڈیا اینڈ پالیٹیکس، استعاری ابلاغ، ایڈیٹوریل، کارٹون اور سوشل میڈیا کے ذریعے ابلاغ  جیسے موضوعات پر ان کی  دسترس انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔