دنیا میں ممنوع ادویات پاکستان میں جانوروں کو دی جا رہی ہیں‘اسماعیل چغتائی

 دنیا میں ممنوع ادویات پاکستان میں جانوروں کو دی جا رہی ہیں‘اسماعیل چغتائی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


فیصل آباد(سٹی رپورٹر)جانوروں کی غیر محفوظ ادویات دینے سے جانوروں کا گوشت اور دودھ مضر صحت ہو جاتا ہے پاکستان میں جانوروں کے امراض کی تشخیص خود ہی کر کے خود ہی ادویات دی جاتی ہیں اور انجکشن بھی لگا دیئے جاتے ہیں جبکہ ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع ہی نہیں کیا جاتا پوری دنیا میں ممنوع قرار دی گئی ادویات کلورم فینی کال اور ٹائیروفیرون ہم آج بھی گوشت دینے والے اور دودھ دینے والے جانوروں کو لگا کر ان سے زہریلا دودھ اور گوشت حاصل کر کے کھا رہے ہیں جس سے اینیمیاء‘ گرے بے بی سنڈروم‘ دل کی بیماریاں‘ خون کی کمی‘آنت کی بیماریاں اور الرجی جیسے امراض پیدا ہو رہے ہیں یہ بات شعبہ بائیوٹیکنالوجی میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے پی ایچ ڈی اے کرنے والے سکالر محمد اسماعیل چغتائی نے اپنی ریسرچ کے حوالے سے روزنامہ ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ایسوسی ایٹ پروفیسر و چیئرپرسن شعبہ بائیوانفارمیکٹس و بائیو ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر اسماء حق بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ اسماعیل چغتائی نے بتایا کہ پاکستان جو گوشت ملک سے باہر یورپ وغیرہ میں بھجواتا ہے وہ عین یورپ کے سٹینڈرڈ ISO17025کے مطابق بھجواتا ہے اور ایکسپورٹ سٹینڈرڈ میں پاکستان پابند ہے کہ ایسا گوشت اور دودھ باہربھجوا سکتا ہے جو کہ مضر صحت ادویات سے پاک جانور کا ہو۔ اب پاکستان سے باہر جو بھی دودھ گوشت انتڑیاں وغیرہ جاتی ہیں ان کو ڈرگ فری سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے اور پاکستان نے سٹینڈرڈ کی ایکسپورٹ شروع کر دی ہے۔ محمد اسماعیل چغتائی نے اپنی ریسرچ کے متعلق مقاصد کے حوالے سے بتایا کہ یہ خوراک کو محفوظ کرنے کے لئے ایک ایسی تحقیق ہے جس سے ثابت ہو گا کہ ہم کتنے فیصد غیر محفوظ خوراک بذریعہ گوشت اور دودھ لے رہے ہیں جس کی وجہ صرف وہ ادویات ہیں جو ہم ویٹرنری ڈاکٹر کی تجویز کیبغیر ہی جانوروں کو دیئے جا رہے ہیں جس سے نہ صرف جانور کی صحت کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ انسان بھی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے۔
 اسماعیل چغتائی

مزید :

صفحہ آخر -