برطانیہ میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور افغان باشندوں کا منفی طرز عمل

برطانیہ میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور افغان باشندوں کا منفی طرز عمل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان نے انگلینڈ میں پاک افغان کرکٹ میچ کے دوران پاکستان مخالف بینر لہرانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیل کے میدانوں کو اس نوعیت کے سنگین پروپیگنڈے کے لئے استعمال کرنا قابل قبول نہیں ہے خدشہ ہے کہ پاکتان مخالف بینر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے لہرائے گئے ترجمان دفتر خارجہ نے کھیلوں سے متعلقہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ترجمان دفتر خارجہ نے میچ کے دوران افغان تماشائیوں کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے نامناسب روئیے اور جھگڑے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے ان کا کہنا تھا کہ معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں پاکستان اور افغانستان کے میچ کے دوران دو مختلف روئیے سامنے آئے، جب کھیل ہو رہا تھا ایک ہوائی جہاز عین گراؤنڈ کے اوپر سے گزرا جس کی ٹیل پر ایک ایسا بینر لہرا رہا تھا جس پر پاکستان مخالف نعرہ درج تھا، فضا میں جو بھی اڑنے والی چیز بلند ہوتی ہے (بشمول ڈرون، ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز) وہ فضا کنٹرول کرنے والے ملٹری اور سویلین اداروں کے علم میں ہوتی ہے اس لئے یہ تصور تو نہیں کیا جا سکتا کہ بینر لہراتا ہوا یہ جہاز برطانوی سول ایوی ایشن کے حکام کی اجازت کے بغیر ہی میچ کے دوران گراؤنڈ کے اوپر سے گزر گیا تھا یہ اگر کسی ایسی کمرشل فضا ئی کمپنی کا جہاز تھا جو تشہیری مواد، اجازت لے کر فضا میں بلند کرتی ہے اور وہ اپنی اس سرگرمی کو شاید قانونی بھی قرار دے تو بھی یہ مصلحت ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ اسے گراؤنڈ کے اوپر سے اس وقت کیوں گزارا گیا جب میچ جاری تھا کیا اس کا مقصد میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہونا تھا یا پاکستانی کھلاڑیوں کے مورال کو متاثر کرنا تھا۔
یہ ایک سنسنی خیز میچ تھا اور دوران میچ ایسے لمحات بھی آئے جب ہار جیت چند اچھی گیندوں اور سٹروکس کی محتاج نظر آتی تھی، کیا اس وقت جہاز گزار کر پاکستانی ٹیم کے حوصلے پست کرنا یا کھلاڑیوں کو کنفیوژ کر کے انہیں ہروانا تھا، پھر جب پاکستان جیت گیا تو افغان تماشائی احتجاج کے لئے گراؤنڈ میں آ گئے ایک ایسے افغان کی تصویر بھی چھپی ہے جو پچ خراب کر رہا تھا جسے پولیس والے نے قابو کر لیا، یہ تو گراؤنڈ کے اندر کا احوال تھا، افغان باشندے پاکستانی کھلاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر بھی تلے ہوئے تھے اور شہر میں احتجاج بھی کر رہے تھے حتی کہ مساجد میں نمازیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا گیا اور انہیں اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا، کسی شخص کی آزادی میں خلل ڈالنا برطانوی قوانین میں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ افغان باشندوں کا یہ طرز عمل براہ راست ایسے قوانین کی زد میں آرہا تھا۔ حیرت ہے کہ ایسے افغان باشندوں سے بھی برطانوی پولیس نے تعرض نہ کیا اور وہ پوری آزادی کے ساتھ مسجد کے باہر کھڑے ہو کر پاکستانی نمازیوں کو اندر داخل ہونے سے روکتے رہے، اگر افغان ٹیم ہار گئی تھی تو اس میں ان نمازیوں کا کوئی قصور نہ تھا اس لئے ان کی عبادت میں مخل ہونے اور انہیں خانہ خدا میں داخل ہونے سے روکنے کی کوئی وجہ بظاہر نظر نہیں آتی۔
حیرت کی بات ہے کہ ابھی 28جون کو افغان صدر اشرف غنی پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے تھے اور انہوں نے پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کر کے بڑے اچھے خیالات کا اظہار کیا تھا ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ماضی کے واقعات کو بھول کر آگے بڑھنا چاہئے لیکن ان کی یہ اچھی سوچ کیا افغان عوام کو متاثر نہیں کرتی جنہوں نے بلاوجہ برطانیہ میں پاکستان مخالف مظاہرے کئے۔ کمرشل کمپنیاں عموماً تشہیری میٹریل کی تشہیر کے لئے ہوائی جہازوں کو استعمال کرتی ہیں لیکن جس انداز سے یہ جہاز استعمال ہوا وہ کمرشل مقصد سے کہیں ا ٓگے تھا اور اس کے پاکستان مخالف جذبات بالکل عیاں تھے، چند سال قبل برطانیہ اور یورپ کے کچھ دوسرے شہروں میں بسوں اور ٹیکسیوں پر بھی پاکستان مخالف نعرے لکھے گئے جن میں بعض پاکستانی بھی ملوث بتائے گئے تھے اور اس مقصد کے لئے فنڈز بھارت نے خرچ کئے تھے لیکن میچ کے موقع پر ہونے والے واقعات کا معاملہ سنجیدگی سے برطانوی حکام کے ساتھ اٹھانا چاہئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ برطانوی حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر بات کی جائیگی یہ فوری نوعیت کا معاملہ ہے اور اس سلسلے میں تو کوئی بھی قدم بلا تاخیر اٹھانے کی ضرورت ہے، کیونکہ ابھی ورلڈ کپ کے میچ جاری ہیں اور آنے والے میچ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اگر ان میچوں کے دوران بھی ایسی کوئی حرکت کی گئی جس کا امکان ہے تو یہ کھیل کے لئے بہت برا ہو گا،نہ صرف برطانوی حکام بلکہ افغان حکومت کے ساتھ بھی یہ معاملہ اٹھانا چاہئے کیونکہ ان مظاہروں کا تعلق افغانستان کی اندرونی سیاست سے بھی ہو سکتا ہے افغان میڈیا پاکستان کے خلاف جذبات کو ہوا دیتا رہتا ہے اور فارسی کے اخبارات، جنہیں مقامی لوگ دری بولتے ہیں پاکستان مخالف پروپیگنڈے سے بھرے ہوتے ہیں کسی دن کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں ان میں آپ کو پاکستان کے خلاف زہریلا مواد ہی ملے گا، اسی طرح الیکٹرانک چینلوں پر بھی تبصرے اور تجزیئے کرنے والوں کی زبانیں پاکستان کے خلاف شعلے اگلتی رہتی ہیں، ہم نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان نے کبھی یہ معاملہ افغان حکام کے ساتھ اٹھایا کہ نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ جن افغان نوجوانوں نے برطانیہ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی فتح کے موقع پر ان پر حملوں کی کوشش کی اور پاکستانیوں کو مساجد میں جانے سے روکا وہ اپنے ملک کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے اس زہریلے مگر بے بنیاد پروپیگنڈے کے زیر اثر لگتے تھے پاکستان ہر وقت افغانستان میں امن کی بات کرتا ہے لیکن یکطرفہ طور پر یہ اظہار محبت کتنی دیر چل سکتا ہے پاکستان کی حکومت کو اس کا بھی جائزہ لینا چاہئے اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کے ساتھ بھی فوری طور پر اس معاملے پر بات کرنی چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -