آج کی خبریں!

آج کی خبریں!
آج کی خبریں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


آج کی پاکستانی خبریں تو یہی ہیں کہ حکومت نے ایمنسٹی سکیم کی مدت میں تین دن کی توسیع کر دی ہے۔اب اگر آپ نے اپنے کوئی اثاثے چھپا رکھے ہیں تو ان کو ہویدا کرنے کی آخری گھڑی بدھ اور جمعرات کی وہ درمیانی شب ہے جو عین 12بجے بدھ کا خاتمہ کر دے گی اور اگلے لمحے جمعرات کا آغاز ہو جائے گا…… پاکستان کی دوسری خبر ان لیگی ’لوٹوں‘ (Turncoats) کے بارے میں ہے جو ایک روز قبل بنی گالہ گئے تھے اور وزیراعظم سے ملاقات کرکے ان کو اپنی سپورٹ کا یقین دلایا تھا اور فریاد بہ لب تھے کہ اب ہماری پارٹی کا رویہ ہمارے بارے میں ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ ہمیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا اس لئے نئے مرغزاروں کا رخ کیا ہے کہ یہاں کے زعفرانی کھیت ہمارے منتظر نظر آنے لگے ہیں۔


جھگڑا ان لوٹوں کی تعداد کے بارے میں پڑا ہوا ہے۔ اول اول علی الصبح تو ان کی گنتی 15بتائی گئی تھی جو دن ڈھلے 26ہو گئی اور کل سوموار کو صرف دو بتائی گئی۔ ان کے نام بھی میڈیا پر آ چکے ہیں اور ان تین چار صفاکیش لیگی اراکین اسمبلی کے نام بھی ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم زنہار نون لیگ نہیں چھوڑ سکتے۔ حکومتی اراکین(از قسم شاہ محمود قریشی، فواد چودھری اور نعیم الحق وغیرہ) نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ منحرف اراکین کی ایک بھاری تعداد نے عمران خان سے ملاقات کی ہے اور پی ٹی آئی کو یہ نوید بھی دی ہے کہ ان ’لوٹوں‘ کی تعداد میں آنے والے دنوں میں اور اضافہ ہونے والا ہے۔دوسری طرف لیگی رہنماؤں (از قسم ثناء اللہ اور دیگر) نے اس خبر کو محض افواہ قرار دیا ہے۔


میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے بیشتر قانون سازوں کا آخری مقصود اپنے حلقہ ء نیابت کی ترجمانی نہیں بلکہ اپنی ذاتی جیب کی گرانی اور فراوانی ہوتی ہے کہ گزشتہ دس برسوں تک یہی رٹ لگائی جاتی رہی کہ یہی لچھن تو جمہوریت کا حسن ہیں!
ایک تیسری ’بڑی اور اہم‘ خبر ہمارے سابق سفید فام افرنگی حکمرانوں کی نژادِ نو کے بارے میں تھی۔ خوش خبری دی گئی کہ پرنس ولیم اور ان کی اہلیہ محترمہ کیٹ (Kate) موجودہ برس کے موسم خزاں میں پاکستان میں قدم رنجہ فرمائیں گی اور ہمارے اشرافیہ کو قدم بوسی کا موقع عنایت فرماویں گی۔ موسم خزاں تو ابھی بہت دور ہے۔ موسم گرما جا رہا ہے، اس کے بعد برسات کا موسم آئے گا اور پھر جا کر کہیں خزاں کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اس لئے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ چھ ماہ قبل اس شاہی دورے کی خبر بریک کرنے میں کیا مصلحت تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ گزشتہ پورا عشرہ پاکستان میں دہشت گردی کا دور دورہ رہا ہے اس لئے کسی شاہی جوڑے نے ہمارے ملک کا دورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب چونکہ امن قائم ہو چکا ہے اور پاکستان میں کسی بھی جگہ قتل و غارت گری کا کوئی واقعہ دیکھنے میں نہیں آتا اس لئے پرنس اور ان کی نصف بہتر نے یہی بہتر سمجھا کہ اپنی اس پرانی کالونی کے باسیوں کی نئی نسل کو یاد دلائیں کہ:


کبھی ہم میں، تم میں بھی، ”پیار“ تھا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


یاد دلانے کی کئی اور تقریبات اور شاہی دورے بھی ہیں۔ مثلاً آج سے 13سال قبل 2006ء میں پرنس چارلس اور شہزادی کامیلا کا دورہ اور 1996ء میں شہزادی ڈیانا کی وزٹ جو شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لئے تشریف لائی تھیں۔(لیکن بعض بدخواہوں نے خواہ مخواہ ان کی اس وزٹ کو نئے معانی پہنائے تھے۔ مثلاً یہ کہ فنڈ ریزنگ بہانہ تھی وہ دراصل عمران خان سے ملنے آئی تھیں۔واللہ اعلم بالصواب) ان کو کیا پتہ تھا کہ وہ جب اس دنیا سے اپنے ساتھی اور ہمدم دودی فیض (Dodi Fayed) کے ساتھ فرانس میں ایک حادثے کا شکار ہو کر انتقال فرما جائیں گی تو اس کے کئی برس بعد بعد عمران خان، نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے اور کرکٹر ہیرو سے اٹھ کر ملک کے وزیراعظم بن جائیں گے!


یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے


انگلینڈ میں آج 10لاکھ سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں اور یہ تعداد یورپ میں کسی بھی دوسرے ملک میں پاکستانی تارکین وطن سے زیادہ ہے۔ اس ملک کا ایک اور حوالہ بھی بڑا تاریخی ہے کہ یہاں پاکستان کے خلاف بہت سے ’لندن پلان‘ بنتے اور سنورتے رہے۔ الطاف بھائیو جیسے ’محب وطن‘ بھی یہاں عشروں سے مقیم ہیں اور مزے اڑا رہے ہیں۔ مزید برآں پاکستان کے تین بار کے وزیراعظم جو آج کوٹ لکھپت جیل میں ہیں ان کے دو صاحبزادے، بھتیجے اور داماد وغیرہ بھی لندن کی سڑکوں پر آتے جاتے دیکھے جاتے ہیں۔ سابق وزیراعظم کے سمدھی اور پاکستان کے نامور سابق وزیر خزانہ بھی سر پر مولیویانہ سفید ٹوپی اوڑھے لندن کی شاہراہوں پر رواں دواں دیکھے جاتے ہیں۔ البتہ تسبیح ان کی جیب میں ہوتی ہے، عمران خان کی طرح ہاتھ میں نہیں!
آج کی خبروں میں ایک غیر ملکی خبر وہ بھی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا نے بڑا بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ اور وہ خبر ہے صدر ٹرمپ کے شمالی کوریا کی سرزمین پر ”پہلا قدم“ رکھنے کی!…… نجانے مجھے لتا کے اس فلمی گیت کی یاد کیوں آ رہی ہے:


بڑے ارمانوں سے رکھا ہے بلم تیری قسم
پیار کی دنیا میں یہ پہلا قدم


شمالی کوریا اور امریکہ کا پیار کیا ہے اور جھگڑا کیا ہے، یہ ایک پرانا مسئلہ ہے جس کی ابتداء خود امریکہ نے کی تھی۔1945ء کے صدر امریکہ کے بوئے کانٹے آج 74برس بعد صدر ٹرمپ کو چننے پڑ رہے ہیں۔ 6اگست 1945ء کو جب امریکہ نے پہلا ایٹم بم، جاپان پر گرایا تھا تو اس کو زعم تھا کہ عالگیر بربادی کی یہ صلاحیت ہمیشہ اس کے پاس رہے گی۔ لیکن چار سال بعد روس نے بھی جب یہ بم بنا لیا تو گویا اس ٹیکنالوجی کا فلڈ گیٹ کھل گیا…… اور پھرتو چل سو چل!…… امریکہ آج ایک وسیع و عریض براعظم ہے اور اس کے دونوں ساحلوں پر دوعظیم سمندر واقع ہیں (بحرالکاہل اور بحراوقیانوس) اور ہزارہا میلوں پر پھیلے سمندری پانیوں کی گود میں امریکی آبادی سمٹ کر بیٹھی ہے اور بظاہر خوشحالی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ لیکن اس کی جو قیمت امریکہ کو دینی پڑ رہی ہے وہ بظاہر تو زیادہ گراں قدر معلوم نہیں ہوتی لیکن بہ باطن ہر آنے والا لمحہ امریکی انتظامیہ کو لرزہ براندازم رکھتا ہے۔ 1945ء کے بعد امریکہ نے جتنی جنگیں بھی لڑیں وہ خواہ حقیقی تھیں یا پراکسی، اسی خطرے کے پیش نظر لڑیں کہ اس نے 1945ء میں جو کچھ جاپان کے ساتھ کیا تھا، وہی کچھ کوئی دوسرا ملک اس کے خلاف نہ کر ڈالے۔

روس کے بعد فرانس، برطانیہ اور اسرائیل نے جوہری وارہیڈز بنانے اور ان کو ڈلیور کرنے کی اہلیت پیدا کر لی۔ لیکن فرانس اور برطانیہ تو دونوں امریکہ کے حلیف تھے۔ امریکہ کو بھی معلوم تھا کہ وہ دونوں دوسری عالمی جنگ کے شکست خوردہ فریق ہیں۔ اس جنگ میں فاتحین صرف امریکہ اور روس تھے۔ یورپ کے باقی تمام ممالک مفتوح تھے اور آج بھی ان کی ذہنیت، خوئے شکست سے ”مالا مال“ ہے۔ یہ سارے امریکی تُکّل کا دم چھلہ ہیں۔ اور رہا اسرائیل تو وہ تو امریکہ کی ایک ایسی جغرافیائی توسیع ہے جو اپنے خالق(امریکہ) کے خلاف نہیں جا سکتی۔روس (جو کبھی سوویٹ یونین تھا) اور دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کا اتحادی تھا بعد از جنگ اس کا حریف بن گیا اور اس طرح دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہو گئی۔ 1945ء سے 1990ء تک کا دور اگرچہ خالی از گرم جنگ و جدال تھا لیکن سرد جنگ و جدال سے لبالب تھا۔ اس کے بعد چین بھی ابھرنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کی آنکھ کا خار بن گیا۔ یہ سارے ممالک اس لئے امریکہ کے دشمن یا دوست تھے کہ ان میں وجہِ دشمنی و دوستی صرف اور صرف جوہری اہلیت کا عدم اور وجود تھا۔


دنیا کے نقشے پر نظر ڈالئے……آج شمالی اور جنوبی امریکہ میں کوئی ملک ایسا نہیں جو شمالی امریکہ (جسے عرفِ عام میں صرف امریکہ بھی کہا جاتا ہے حالانکہ اس میں کینیڈا بھی شامل ہے) کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے۔ جنوبی امریکہ میں صرف ونزویلا ایسا ملک تھا جو تیل کی دولت سے مالامال تھا لیکن امریکی ریشہ دوانیوں کے سبب آج وہاں بھی غربت اور گداگری کا دور دورہ ہے۔ براعظم یورپ کا ذکر اوپر کر چکا ہوں۔ ایک طویل عرصے تک امریکہ اور سوویت یونین دو سپرطاقتیں تھیں۔

پھر سوویت یونین بکھر گیا لیکن جو باقی بچ گیا وہ اپنی جوہری اور ویپن ٹیکنالوجی کے سہارے اب از سرِ نو سر اٹھا چکا ہے اور چین کے ساتھ مل کر امریکہ کے لئے ایک بڑا دردِ سر بن رہا ہے۔ براعظم افریقہ میں چونکہ کوئی بھی ملک جوہری اہلیت کا حامل نہیں، اس لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اہمیت صرف براعظم ایشیا کی ہے جس میں پانچ ملکوں کے پاس جوہری اور میزائلی صلاحیت ہے (پاکستان، چین، شمالی کوریا، انڈیا اور اسرائیل) …… آج امریکہ کے لئے اگر کوئی فلیش پوائنٹ خطرے کا باعث ہے تو وہ اس لئے ہے کہ وہاں جوہری وارہیڈز ہیں …… ایران، پاکستان اور شمالی کوریا تین ایسے فلیش پوائنٹ ہیں جو حجم میں چھوٹے اور عسکری قوت میں کمزور سہی لیکن امریکہ اور ناٹو (مغربی یورپ) کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔


گزشتہ دو عشروں میں عراق، شام، لیبیا اور افغانستان وغیرہ اس لئے امریکی جارحیت کا شکار بنے کہ ان کے پاس وہ جوہری قوت نہیں تھی جو امریکہ اور اس کے حلیفوں کے پاس تھی۔2017ء میں امریکہ نے شمالی کوریا کو جس زبان اور لہجے میں دھمکیاں دی تھیں وہ ایک تاریخ ہے۔لیکن جب اس نے یکے بعد دیگرے چھ جوہری دھماکے کر دیئے اور ایسے بین البراعظمی میزائل بھی بنا لئے جو جوہری بموں کو امریکہ کے کسی بھی شہر پر پھینک سکتے تھے تو امریکہ دم دبا کر پیچھے ہٹ گیا۔ شمالی کوریا کے لیڈر کم جانگ اُن سے دو ملاقاتیں، امریکی صدر ٹرمپ کی ہو چکی تھیں لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا تھا۔ اب خود ٹرمپ نے ماشاء اللہ شمالی کوریا کی سرزمین پر پاؤں دھرا ہے۔ میڈیا کہتا ہے کہ صرف 20قدم تک صدر امریکہ شمالی کوریا کے اندر گئے ہیں لیکن مغربی میڈیا ان 20قدوم کو ایسی اہمیت دے رہا ہے جیسی کسی فاتحِ عالم کو دی جاتی ہے۔ امریکی دانش ور اگر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو ان کو معلوم ہو گا کہ ٹرمپ کا اچانک 38عرض بلد (خط متارکہء جنگ) پر جا نکلنا اور شمالی کورین صدر / چیئرمین کا ان سے ملنا، پپوکِم کی فتح اور بابے ٹرمپ کی ایسی شکست ہے جس کو دنیا کی نظروں میں ’فتح‘ کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے۔


اس کے بعد ایران، دنیا کا دوسرا فلیش پوائنٹ ہے۔ امریکہ آج ٹائیں ٹائیں ضرور کر رہا ہے لیکن کوئی ہی دن جاتا ہے کہ فِش کر جائے گا۔ اپنے بی۔52، اپنے ابراہم لنکن طیارہ بردار اور اپنے پیٹریاٹ میزائل خلیجی زون سے نکال کر کہیں اور لے جائے گا۔


اور اسی طرح پاکستان کو بھی دیکھیں …… دنیا کشمیر کو عالمی جنگ کا تیسرا فلیش پوائنٹ سمجھتی ہے۔ امریکی صدر کو بھی اب سمجھ آ چکی ہے کہ پاکستان اس خطے میں انڈیا سے بھی زیادہ موثر قوت ہے کہ طاقت کا دارو مدار آجکل جوہری طاقت پر ہوتا ہے خواہ وہ نمائشی ہی کیوں نہ ہو…… اور ہاں نمائشی سے آپریشنل بننے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ …… کیا وزیراعظم عمران خان کا آئندہ پانچ روزہ امریکی دورہ (20تا 24جولائی 2019ء) پاکستان کی درخواست پر کیا گیا ہے؟…… اگر نہیں تو امریکہ ان تینوں فلیش پوائنٹوں (شمالی کوریا، ایران اور کشمیر) سے پیچھے کیوں ہٹ رہا ہے؟

مزید :

رائے -کالم -