سنجرانی کو ہٹانے میں تعاون کیلئے کسی نے رابطہ نہیں کیا، اخترمینگل

سنجرانی کو ہٹانے میں تعاون کیلئے کسی نے رابطہ نہیں کیا، اخترمینگل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (آئی این پی) بلو چستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، اگر کسی نے رابطہ کیا تو پارٹی کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے، بلو چستا ن کا مسئلہ سیاسی، واحد حل سیاسی ڈائیلاگ ہے، بلوچستان کی ترقی کیلئے امید کی کرن نظر آئی ہے، دس لا پتہ افراد کی بازیابی خوش آئند ہے ا مید ہے باقی بھی رہا ہونگے، تمام اختیارات ان لوگوں کے پاس ہیں جو عوام کو چیو نٹی کے برابر سمجھتے ہیں اور اپنے مفاد کی خاطر انہیں روند ڈالا، معاشی و سیاسی بحران کے ذمہ دار سیاستدان، بیورو کریسی، سرمایہ داری اور اسٹیبلشمنٹ ہیں جنہوں نے ملکر ملک کی پالیسیاں بنائیں،عالمی حالات جس طرف جا رہے ہیں کشکول کو ترجیح دے کر کسی اور کی جنگ میں ملک کو اب نہ جھونکیں، بغیر سوچے سمجھے اور منتخب نمائندوں کی رائے کے بغیر اگر کسی جنگ میں آئندہ کود پڑے تو اس جنگ کے نتائج سنگین اور خطرناک ہونگے اورماضی کی عالمی جنگ بھول جائینگے، خدشہ ہے بلوچستان نئی جنگ کا مرکز بنے گا، بلوچستان کی محرومیوں کا ذمہ دار وفاق کیساتھ وہاں کے نمائندگان بھی ہیں جو جھرلومرلو اور جادو کے زو ر سے منتخب ہو کر آئے، بلوچستان کو کنٹرولڈ انداز میں چلایا جاتا ہے، حکومت کا ساتھ دینے پر آج کچھ مسنگ پرسن رہا ہوئے ہیں جن سے چا لیس گھروں میں خوشی کی لہر پیدا ہوئی ہے، امید ہے اب بلوچستان میں احساس ماتم اور غم میں روز بروز کمی آئے گی، بلوچستان میں مسئلہ کے حل کیلئے آج تک کوئی کوشش نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے باہر کے لوگوں کو بھی پاکستان کیخلاف بات کرنے کا موقع ملا اور بات لندن و جنیوا تک جا پہنچی، یہ سب کیلئے افسوسناک ہے، لندن میں بینرز تو نظر آرہے ہیں لیکن بلوچستان میں اجتماعی قبریں نظر کیوں نہیں آرہیں۔پیر کو نیشنل پریس کلب اسلام آ باد کے پرو گرام 'میٹ دی پریس' میں پارٹی رہنماؤ ں کے ہمراہ اظہار خیال کرتے ہوئے انکامزید کہنا تھا بلو چستا ن کے مسائل کے حوالے سے ہم نے حقائق سے ہمیشہ چشم پوشی اختیار کی اور فریب کا راستہ اختیار کیا، جھوٹ اور غلط بیانی کی، ملکی خارجہ پا لیسی اور بجٹ کی ترتیب جیسے حساس معاملات کا صرف چند طبقات کے ہاتھوں میں ہونا بھی افسوسناک ہے۔ ملک کو جس طرف لے کر جایا جا رہا ہے، اس سے نقصان ہو گا، کاش میری پیشگوئی غلط ثابت ہو، ملک کو بحران سے کوئی معجزہ ہی نکال سکتا، آج تک کوئی ایسا بجٹ نہیں آیا جو عوامی ہو،وقت نے کسی بجٹ کو عوام دوست نہیں کیا گیا، ماضی میں بلوچستان کے مسائل ڈنڈے اور بندوق کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، حکومت وقت نے مطالبات کے حوالے سے کمزوری اور سست روی کا مظاہرہ کیا، صوبائی یا قومی اسمبلی سے اعتماد یا عدم اعتماد کی تحریک کا پاکستان کا آئین اجازت دیتا ہے یہ غیر جمہوری نہیں، اگر حکومت مثبت قدم اٹھائے گی تو اس کا ساتھ دیں گے، اپوزیشن کی اے پی سی سے قبل حکومت نے ہمارے مطالبات مان لئے، اپوزیشن میں جانے سے تو حکومت پر کوئی اثر نہ پڑتا۔
اختر مینگل

مزید :

علاقائی -