عام آدمی کا خاص رنگ

عام آدمی کا خاص رنگ
عام آدمی کا خاص رنگ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جہاں سے انسان کی بے بسی کا آغاز ہوتا ہے، وہیں سے اس کا خدا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ بڑے سے بڑا طاقتور اور بااختیار فرد بھی جونہی بذاتِ خود کسی حقیقی خطرہ میں گھرنے لگتا ہے تواس کی زبان جہاں اپنے بندوں کو طرح طرح کے احکامات جاری کرنے لگتی ہے، وہیں اس کا دل جو اس گھڑی دعا سے چھلکتا جاتا ہے ، وہ تو اپنے ازلی وابدی مالک ومحافظ کی بارگاہ میں ہی پڑا ہوتا ہے۔ مگر، ہر ہر مصیبت سے تو انسان کو صرف اور صرف خدا بچا سکتا ہے۔ اور، اس کائنات میں انسان کے لئے مصیبتیں بہت۔۔۔ سب سے بڑی مصیبت، موت۔ جو کہیں بھی ، کبھی بھی، کسی بھی انداز میں بپا ہو سکتی ہے۔ اور، انسان ، کم از کم ، اپنے خوابوں کی تکمیل تک تو زندہ رہنا ہی چاہتا ہے۔ پھر، انسانی زندگی کا ضامن تو صرف ایک ملتا ہے، وہی خدا! ہاں، صرف وہ ہے ، جو حتیٰ کہ انسانی موت کو بھی ٹال سکتا ہے۔ وہ خالق! وہ قادر! وہ قادرِ مطلق!!! پھر، ایسا کمال اور کامل سہارا تو (فانی بدن رکھنے اور لافانی خواب دیکھنے والے) انسان کی اٹل ضرورت ہی گویا۔ اس زمین پر، المختصر، خدا پر انسان کا یقین پھر اتنا عام ہے، اور پھر اتنا پرانا اور پختہ ہے کہ اب تو نسلِ انسانی کے جینز تک میں کہیں نقشاں ہی نظر آتا ہے۔۔۔
خیر! مذکورہ بالا ایقان ان کی آنکھوں میں پھر خوب ہی دکھائی دے رہا تھا۔ دراصل، وہ سرتاپا اپنے خدا کی محبت میں مبتلا ہیں۔ اور ، یہ عشق وہ کرتے ہیں ، بے دار ذہن کے ساتھ۔ کمال یہ کہ وہ رب کو صرف چاہتے نہیں، بلکہ خود رب اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے؟ بندے اپنے رب سے کیا چاہتے پھرتے ہیں؟ وہ رب کہتا کیا ہے؟ ہم بندے کرتے کیا جاتے ہیں؟ کیسے اہم سوالات!!! ہاں، پھر جہاں بڑی محنت سے ایک اپنے گھر بار کے لئے وہ سکے جمع کرتے پھرتے ہیں، عین اسی جہان میں، اپنی تنہائیوں میں، کسقدر عظیم سوالوں پر وہ کسقدر غوروفکر بھی کیا کرتے ہیں گویا، آئندہ نسلوں کی خاطر۔۔۔ وہ بڑا سوچ سکتے ہیں، سوچا کرتے ہیں۔ میری دلچسپی ان میں یک لخت بڑھ گئی۔ ۔۔ اب وہ کہہ رہے تھے، اب وہ گفتگو میں جوابات پیش کرنے کے مقام پر آ چکے تھے۔ اور، وہ فرما رہے تھے کہ رب صحیح اور سچا ہے! ہاں مگر، ہم ہی اور ہم ہی ،کہیں غلط ہیں! اور، گم کردہ راہ ! آہ!!! ہمارا حال غالباً، اسی لئے ، بد سے بدتر ہوتا جاتا ہے! ہاں، ہاں،ہم اپنی ہی ایک بڑی غلطی کی سخت سزا پا رہے ہیں۔۔۔ تو، وہ جوش سے کچھ ایسا ہی کہتے جا رہے تھے، اور اب ان کا تخیل اپنے پر پوری طرح کھولتا جا رہا تھا گویا۔اور، وہ گویا تھے کہ ہماری وہ بڑی غلطی یہ کہ ہم رزق تو اپنے زورِ بازو سے کمانا چاہتے ہیں مگر جنت صرف دعاﺅں سے پانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ، رزق کا وعدہ خدا نے خود کر رکھا ہے، صرف مطلوبہ کوشش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر، جنت! وہ تو بڑی جدوجہد سے ملنے والی منزل ہے۔ ۔۔ رزق تو ہر محنتی کو باآسانی مل جاتا ہے۔ مگر، جنت کمانا کوئی کوئی جانتا ہے۔ اور، ہم ہیں کہ رزق پانے کے چکر میں تو دن رات کوشش کیا کرتے ہیں، جبکہ جنت کو ہم صرف دعاﺅں سے پا رکھنے چاہتے ہیں۔۔۔ کیا یہ تباہ کن رویہ نہیں؟ تو پھر کیا ہم تباہ حال ہی نہیں؟؟؟ ہاں مگر، ہمیں بدلنا ہو گا۔ ہمیں گہرائی میں بدلنا ہو گا۔ ۔۔ وہ اپنی بات کہتے جاتے تھے۔ اور، یہ عام آدمی کا خاص رنگ تھا۔ پھر، ان کا جوش مزید بڑھتا جاتا تھا۔۔۔ مجھے اچھا لگ رہا تھا۔ انسان کا مثبت اور تعمیری جوش کسے اچھا نہیں لگتا!
راقم خود بھی قدرے پرجوش ہو چکا تھا۔ دراصل، میں یہ موٹی سی بات بھی سمجھ چکا تھا کہ جو نکتہ انہوں نے پا لیا ، اس پر تو وہ پوری کتاب لکھ سکتے ہیں۔ وہ کتاب جو تب تک زندہ رہ سکتی ہے جب تک اس جہان میں ان کا عقیدہ قائم اور اہم رہتا ہے۔ہاں، وہ کتاب، جو بالخصوص ان کے ہم عقیدہ ان گنت افراد کو تو، کہیں نہ کہیں ، ایک بہت ہی اہم نکتہ سمجھا نے میں اپنا کردار کمال ادا کر سکتی ہے۔ اور وہ نکتہ پھر سادہ لفظوں میں، بقول محترم اشفاق مرتضیٰ: ”خالی زبانی ریاضت سے نہیں ملتی۔مگر، صبر، شکر، اخلاص، ایثار اور انسان دوستی سے کمائی جاتی ہے جنت!“ عظیم ترین دولت گویا، وہ جنت! اور وہی بات کہ ” اتنی بڑی دولت، خیرات میں نہیں ملتی!“ ہاں، رزق تو خیرات میں بھی مل سکتا ہے۔ دنیا میں ہزاروں لنگر خانے ۔۔۔ مگر، معلوم ساری کائنات میں ایسا ایک بھی لنگر خانہ نہیں کہ جہاں سے جنت کا ذرہ سا ٹکرا بھی پھر خیرات میں مل جاتا ہو!
المختصر، کیسا بڑا نکتہ! کیسی بڑی بات! خیر، میں یہ بھی سمجھ گیا کہ ایسی اہم تر بات کو وہ باقاعدہ کتاب مگر شاذ ہی کر پائیں گے۔۔۔ اس زندگی میں انہیں اتنا وقت ہی کہاں مل پائے گا! پھر، سلسلہ ہائے روزگار کی راہوں پر خرچ ہو جانے والا انسانی وقت کیسے کیسے روشن اذہان کو بھی ابھی خوب ابھرنے ہی کہاں دیتا ہے! اور، یہ بڑا ہی دکھ ہے! بے شک! یہ انسان کا بڑا ہی خسارہ ہے!!! پھر، اور بڑا دکھ یہ کہ اپنے ایسے پریشان کن خسارہ پر ابھی نسلِ انسانی کی نگاہ تک نہیں گویا۔ ذہین سے ذہین فرد بھی عمر بھر صرف سکے جمع کر تا پھرے، کسی کو ایک پل بھی رنج نہیں ہوتا۔ الٹا سبھی خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو کیسا کام کا آدمی! (توبہ ، المختصر!) ہاں مگر، ذرا ٹھہر کر دیکھا جائے تو پھر داد بھی دل کھول کر دینی پڑتی ہے۔ یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نادانستہ طور پر سہی مگر، دھیرے دھیرے، انسان وہی دنیا تشکیل دیتا جا رہا ہے کہ جو ہو گی پھر، حقیقتاً ، کام کی دنیا ۔ ۔۔
اور، ہر گذرتی صدی کے ساتھ، زیادہ ذہین انسانی بچوں کا وقت تحقیقی وتخلیقی سرگرمیوں میں زیادہ صرف ہونے کا ماحول تو اس نیلگوں کرہ میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔۔تو، بالآخر، نسلِ انسانی یہ اقرار بھی کر ہی لے گی کہ بے مثل یادداشت وتخیل کا حامل جاندار، انسان، درحقیقت، تحقیق وتخلیق کی خاطر ہی بنا ہے! پھر، یہ تو طے ہے کہ انسان کے مسائل ، ازل سے آج تک، تحقیق وتخلیق ہی سے حل ہوتے آئے ہیں۔۔۔ اور، اٹل ضرورت کا پورا نہ ہونا، بڑا ہی مسئلہ!اور، انسان کی اٹل ضروریات: اپنے جسم کی صحت وسلامتی، اپنے وقت کی بچت، اپنی توانائی کی بچت، اور اپنے امکانات میں اضافہ۔۔۔ تو پھر، دوادارو، پہیہ وپر، اوزارو مشین، اور انسانی امکانات کو بھانپتے اور ابھارتے سب علوم و فنون، تمام ہی شعبہ و پیشہ ہائے حیات۔۔۔ مذکورہ تو سب کچھ ہی، تحقیق وتخلیق سے!پھر، قصہ مختصر، افلاک میں پوشیدہ عالیشان اور ابدی جنت پانے کی راہ تو وہی ، جو کہ اس تحریر میں متذکرہ ایک محترم نے راقم پر بخوبی واضح کر دی۔ ہاں مگر، راقم الحروف یہ بھی جانتا ہے کہ جہاں تک انسان کو مل رہنے والی دلکش جگہ، اس زمین کا معاملہ ہے، تو گذشتہ تین چار سو کروڑ سال سے قائم یہ کرہ ءارض اگلے دو تین سو کروڑ سال اور بھی، خلا میں سلامت رہ بھی سکتا ہے۔ پھر کہیں جا کر اس سیارہ کا مرکزی ستارہ انتقال کرے گا۔ ہاں، دو تین سو کروڑ سال بعد ہی کہیں اپنا سورج ٹھنڈا پڑے گا۔ اور، تب ہی کہیں، یہ نظام شمسی پھر کائنات میں یہیں کہیں تحلیل ہو جائے گا۔ پھر، تب تلک بھی اگر کسی اور کہکشاں میں حضرت انسان نے اپنے ٹھکانے بخوبی نہ بھی بنا لئے ہوں، تو بھی جس زمین پر ہمارے بچے ابھی دو تین سو کروڑ سال اور ہی جیا کریں گے، تو پھر خاص ان کی خاطر ہی، اسی عظیم ٹھکانہ کو جنت بنا رکھنا بھی تو ایک بڑا ہی خواب ہے نا! جس کی تعبیر پھر صرف تحقیق وتخلیق سے ممکن ! ہاں، اپنے بچوں، اپنی آئندہ سب نسلوں کی خاطر، عین اسی کرہ ءارض کو باغِ بہشت بنا رکھنے کی منزل بھی تو محبوب و مطلوب ہی ۔ تو پھر، سادہ اور سیدھے ہی رستے ہیں۔ تحقیق وتخلیق کے رستے۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -