پٹرولیم قیمتوں کا تعین حکومت کا اختیار، مداخلت آئینی حدود سے تجاوز

        پٹرولیم قیمتوں کا تعین حکومت کا اختیار، مداخلت آئینی حدود سے تجاوز

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف کیس کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت کا اختیار ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم اپنے وکیل راؤ عبدالرحیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ اوگرا کی سمری کے بغیر جون کے ختم ہونے سے پہلے ہی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔ حکومت قانونی طور پر اوگرا کی سفارش کے بغیر قیمتیں نہیں بڑھا سکتی۔ حکومت کی پانچ دن پہلے قیمتوں میں (بقیہ نمبر49صفحہ6پر)

اضافہ کے پیچھے بدنیتی شامل ہے۔ اوگرا کی ویب سائٹ پر آج بھی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے کچھ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آئل کمپنیز کی پٹیشن ہم نے مسترد کی، حکومت نے ایکشن لینا تھا۔ وکیل نے کہا کہ ٹیکسز کو حکومت خواہشات کے مطابق بڑھا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے کی بجائے حکومت نے اس کی خلاف ورزی کی۔ کابینہ میٹنگ میں کچھ نہیں ہوا ایک پریس ریلیز کے ذریعے پٹرول کی قیمتیں بڑھا دیں گی۔ کورونا میں تو عوام کو ریلیف دینا چاہیے لیکن حکومت نے ان پر بوجھ ڈال دیا۔چوں کہ اوگرا کا نوٹیفکیشن ہی نہیں آیا، اس لیے قیمت بڑھانے کا حکومتی حکم معطل کیا جائے۔ اوگرا کے جون کے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت کو پٹرول کی قیمت مقرر کرنے کی ہدایت کی جائے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں اپنے فیصلہ میں عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے مسترد کر دی اور کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مقدمہ قابل انصاف نہیں، اگر پیٹرول قیمتوں پر فیصلہ کریں تو عدالت آئینی حدود سے تجاوز کرے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت کا اختیار ہے۔

درخواست خارج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -