کورونا وائرس اور طلباء مسائل کی اصل جڑ

کورونا وائرس اور طلباء مسائل کی اصل جڑ
کورونا وائرس اور طلباء مسائل کی اصل جڑ

  

کسی بھی قوم کی ترقی و کامیابی کی کنجی اْس کی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔نوجوان، جن کو میں ملکی خزانے سے تشبیہ دیتا ہوں کیونکہ ان کی صلاحیتوں کو اْسی طرح لوٹا گیا ہے کہ جس طرح ستر سال سے پاکستان کے خزانے پر شب خون مارا گیا- اس امر کی اشد ضرورت تھی کہ ان نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، ان میں قابلیت اور خود اعتمادی کو بڑھانے کے لیے انہیں تعلیم، سیاست اور کھیل کے میدان میں یکساں مواقع فراہم کیے جاتے اور ان کی درست سمت میں راہنمائی کی جاتی، ان کو پاکستان کی نظریاتی اساس کا وارث بنایا جاتا اور پھر انہی نوجوانوں کو طلبا سیاست کے ذریعے مزید نکھارکر سیاسی میدان میں خدمات سرانجام دینے کے لیے تیار کیا جا تا- اگر ایسا ہوتا تو آج ملک میں قحط ا لرجال کی کیفیت نہ ہوتی۔ بدقسمتی سے ملکِ پاکستان، جس کی آبادی کا بیشتر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اس کی معاشی و معاشرتی ترقی کا انحصار بھی انہی نوجوانوں پرہے، ابتدا سے ہی اْن کی اخلاقی،سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی تربیت کے لیے تعلیمی اداروں میں کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔اور نہ ہی تعلیمی نصاب کو اسلام کے رہنما اصولوں کے سانچے میں ڈھالا گیا۔

پاکستان کیاوائل سے ہی طلباء کو ایک خاص منصوبے کے تحت اشرافیہ نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے افکار و راہنما اْصولوں سے دور رکھا تاکہ وہ نوجوانوں پر اپنی بالادستی قائم رکھ سکیں اور ان سے اپنے ذاتی اور گروہی مفادات حاصل کر سکیں۔ ان سیاسی پنڈتوں نے نوجوانوں کو ٹیشو کی طرح استعمال کیا اورپھر کوڑے دان کی زینت بنا دیا۔ اب اس کو گروہ کہیں یا مافیا کسی حد تک یہ اپنے یا اغیار کے منصوبوں میں ابھی تک کامیاب رہے ہیں کیونکہ نوجوانوں کیلئے جو خواب اقبال نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے وہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ جس شاہین کی بات علامہ اقبال نے کی تھی وہ محض ایک گدھ بن کر رہ گیا جو دین سے دور، والدین سے دور، ملکی ترقی میں ہاتھ بٹانے سے دور، اخلاقیات سے دور، محنت اور لگن سے دور، وقار و شعور سے دورہونے کے ساتھ ساتھ وفا اور خودداری سے بھی دور ہو چکا ہے حتیٰ کہ پہاڑوں پر مسکن بنانے کی بجائے پب اور انٹرنیٹ کی دنیا میں بسیرا کر بیٹھا ہے۔ آپ جائزہ لے کر دیکھ لیجیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے ونگز طلباء تنظیموں کی صورت میں بنائے اور اْن کو اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا مگر کبھی بھی ا ن طلباء تنظیموں کو ایک خاص وقت کے بعد یونین بننے نہیں دیا گیا تاکہ ان کی آواز طاقتور نہ ہو سکے اور سیاسی جماعتیں ان کو پریشر گروپ کے طور پر استعمال کر سکیں۔ ان سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہر ماہ ان طلبہ تنظیموں کے لیے کچھ فنڈز جاری کر دئیے جاتے ہیں تاکہ ان کا طلباء ونگ ان کے اشاروں پر چلتا رہے۔ یہ ایک ڈراؤنی حقیقت ہے جس کو ماننے سے بہت سے لوگ انکار کرتے ہیں مگر ہے یہ ایک کھرا سچ۔

میں سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ خود بتائیے کہ کس طلباء ونگ کی سرپرست سیاسی جماعت نے پاکستان پر حکومت نہیں کی کم و بیش سب کی سب جماعتیں کسی نہ کسی حد تک پاور میں رہی ہیں مگر کسی ایک سیاسی پارٹی نے بھی اقتدار میں آکر طلباء یونینز کو بحال نہیں کیا۔حالانکہ آج کے بیشتر سیاسی راہنما انہی طلباء یونینز کے دور کی پیداوار ہیں۔ جن میں جاوید ہاشمی،خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، جعفراقبال، عارف علوی، سراج الحق، لیاقت بلوچ، شہلا رضا، اعجاز احمد چوہدری، فیصل سبزواری، قمر زمان کائرہ اور شیخ رشید سمیت بہت سے راہنما شامل ہیں مگر سوائے چند ایک سیاسی جماعتوں کے کبھی کسی نے بھی طلباء یونینز کی بحالی کے لیے آواز بلند نہیں کی اور جنہوں نے آواز اْٹھائی بھی تووہ کبھی اس قدر پاور میں نہیں آئے کہ تبدیلی لا سکیں۔

تاریخ اْٹھا کر دیکھیں تو سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے باقی سب ادوار میں کسی نہ کسی حد تک طلباء یونینز پر پابندی رہی ہے۔ مجھے یاد ہے آج سے 36سال قبل1984میں سابق آرمی چیف و صدر جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں طلبا یونینز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔غلام جیلانی جو اس وقت گورنر پنجاب اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے، نے مارشل لا آرڈر نمبر 1371جاری کر کے اس پر پابندی کا نفاذ کیا اور اس کے ساتھ ہی یونینز کے دفاتر بند اور بینکوں میں ان یونینز کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے۔ جبکہ حکم نامے کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید و جرمانہ کی سزا کا بھی اعلان کیا گیا۔ آپ سوچ رہے ہوں گئے کہ شاید میں موضوع سے ہٹ گیا ہوں مگر ایسانہیں ہے دراصل سارا مسئلہ ہی طلباء یونینز کے بحال نہ ہونے سے شروع ہوتا ہے اور یہیں پر ختم ہوتا ہے۔ اگر آج طلباء یونینز موجود ہوتیں تو ان کو اپنی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچانے کے لیے اس قدر مشکل پیش نہ آتی اور نہ ہی ان کو سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا پڑتا۔ جب سے کورونا وائرس کی وبا شروع ہوئی ہے تعلیم اور تعلیمی نظام رْک سا گیا ہے۔ کورونا کے پاکستان میں آتے ہی سکول، کالجزاور یونیورسٹیز کو پہلے ہی مرحلے میں بند کردیا گیا تھا جو کہ ایک اچھا قدم تھا مگر بات پھر وہی ہے نہ کوئی ہوم ورک تعلیمی اداروں نے کیا اور نہ ہی حکومت نے اپنی دانش کے پھول نچھاور کیے۔ کئی مہینوں بعد کسی حد تک طلباء کے لیے آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا گیا مگر آن لائن کلاسز کے انعقاد سے پہلے پسماندہ علاقوں میں بسنے والے طلباء کوانٹرنیٹ کی سہولت یقینی بنانے کا کوئی انتظام تو نہ کیا گیامگر اْن سے فیس پوری وصول کی گئی جوکہ طلباء کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔اس کے برعکس امریکہ، یورپ اور برطانیہ نے لاک ڈاؤن سے قبل ہی آن لائن کلاسز کا اجرا کرکے اپنی تعلیم دوستی اور بہترین ہوم ورک کی اعلی مثال قائم کر دی۔

بارش کے پہلے قطرے کی مانند پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے فیسوں میں کٹوتیوں کی با ضابطہ پالیسی بناتے ہوئے طلباء کی میڈیکل فیس، ٹرانسپورٹ فیس اور لائبریری فیس ختم کرکے ان کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا اس کے علاوہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سپورٹس فیس، ہاسٹل چارجز اور لیبارٹری چارجز بھی ختم کر نے کا اعلان کیا گیا۔ جبکہ صرف آن لائن کلاسز کے دوران طلباء سے ٹیوشن فیس وصول کی جائے گی جو کہ ایک احسن اقدام ہے مگر مسئلہ پھر وہی ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت کا کیا کیا جائے؟ پنجاب گورنمنٹ نے بھی کالجز کے طلباء کے لیے مختلف ذرائع سے آن لائن لیکچر کی سہولت پیدا تو کر دی ہے مگر پسماندہ علاقے تو پسماندہ ہی ہیں۔ علاوہ ازیں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے طلباء کو بڑا ریلیف دینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سرکاری و نجی یونیورسٹیز کو انسٹالمنٹ میں فیسوں کی وصولی کا حکم دیا ہے، تمام نجی و سرکاری یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کے نام جاری مراسلے میں طلباء کو ریلیف دینے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ مگر یہ سب طلبہ تنظیموں کی ان تھک محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے جو انہوں نے احتجاج اور ملاقاتوں کی صورت میں ممکن بنایا ورنہ تو کئی مہینوں سے حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اب ان تمام حکومتی اقدامات سے طلباء کے مسائل کا طوفان تو شاید عارضی طور پرتھم جائے مگر طلباء یونینز،پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت، کیریر پلاننگ، بعد از تعلیم ملازمتوں کے مواقع، خودی اور خود اعتمادی کے مسائل پر قابو پانے کے لئے ابھی تک کوئی موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرحکایات رومی کے مصداق توبہِ نسو کی ضرورت ہے اور طلباء کو ان کے جائز حقوق دینے چاہیئں۔ طلباء یونینز کو بحال کر کے طلباء کے مسائل کے حل کے لیے موثر فورم فراہم کیا جانا چاہیے۔

میں تو در حقیقت سمجھتا ہوں کہ اگر طلباء کو سیاسی جماعتوں سے آزادی دلانی ہے تو اْس کا بھی واحد حل طلباء یونینز کی بحالی ہے تاکہ اْن کو فنڈز تعلیمی اداروں سے ملیں ان کو سیاسی جماعتوں کا آلہ کار نہ بننا پڑے اور نہ ہی اْن کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بھیک مانگنی پڑے۔ طلباء یونینز کی جانب سے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے پر پابندی عائد کرنی چاہیے، تاکہ ایک باشعور، با کردار اور مستقبل کی بہترین سیاسی قیادت تیار کی جا سکے اور اسی میں پاکستان کا روشن مستقبل بھی پنہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -