کالم نگاری سے اقبال کی تنہائی تک

کالم نگاری سے اقبال کی تنہائی تک
کالم نگاری سے اقبال کی تنہائی تک

  

پاکستان میں کالم نگاری کی روایات کا معمول تو یہ بن چکا ہے کہ جو کچھ مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا پر صبح سے شام تک (بالخصوص شام سے آدھی رات تک) دیکھو اور سنو، قلم پکڑ کر فوراً بیٹھ جاؤ اور وہی کچھ اپنے اندازِ تحریر میں اگل دو اور بس!…… میں نے بھی بارہا سوچا ہے کہ اس بینڈویگن پر سوار ہو جایا کروں۔ ماضی کی یادوں کا تمتمہ یا تکملہ ٹانک کر حسب موقع و محل ایک دو اشعار لگا کر کالم لکھ دیا کروں۔ ایک عرصے سے اخبارات میں سیاسی کالموں کی بھرمار ہے۔ کوئی صحافی اگر ”اعزازیہ گیر“ نہ بھی ہو تو ہر قومی موضوع پر کچھ نہ کچھ ”خبر گیر“ تو ہوتا ہے۔ بس اسی مواد کو لے کر قلم فرسائی کی اور کالم پورا کر دیا۔آج کل پرنٹ میڈیا مالکان نے ایک اور آسانی بھی ایزاد کر دی ہے یعنی کالم کے طول و عرض پر پابندی لگا دی ہے۔ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ دو کمروں (بیڈ رومز) اور دو واش رومز کا مکان قابلِ خرید ہو گا، اس سے زیادہ مکانیت ہو تو یا تو کالم نگار خود ”ڈھا“ دے وگرنہ ایڈیٹر اس کو گرانے کا مجاز ہو گا۔اس قدغن نے بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ لکھنے والے کے لئے بھی اور پڑھنے والے کے لئے بھی۔ لکھنے والا بھی جلد فارغ ہو جاتا ہے اور پڑھنے والے کی طبعِ نازک بھی زیادہ گرانی محسوس نہیں کرتی۔

اندریں حالات ہر روز جب میرے ہاں اردو اور انگریزی اخباروں کا پلندا آتا ہے تو ان کی شہ سرخیاں اور ذیلی سرخیاں وغیرہ پڑھ کر دل و دماغ میں خارش ہونے لگتی ہے۔ جی چاہتا ہے حکومت یا اپوزیشن میں سے کسی ایک فریق کا نقطہ ء نظر لے کر یا تو اس کی ”ڈبل سلائی“ کرکے اس کا پاجامہ کُرتا تیار کر دوں یا اس کے بخیئے ادھیڑ کر دوبارہ سلائی کرکے گاہک کے حوالے کر دوں ……غالب بھی تو یہی کیا کرتے تھے:

بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے

میری آہیں بخیہء چاکِ گریباں ہو گئیں

میرے کالم کے قارئین کو اکثر شکائت رہتی ہے کہ میں مشکل نویسی کی طرف مائل ہوں لیکن میں ان کو کیا بتاؤں کہ میں تو ہمیشہ غالب کا”طرفدار“ رہا ہوں اس لئے دعویٰ کر سکتا ہوں کہ دیکھتے ہیں اس سے بڑھ کر اور کون یہ ”سہرا“ لکھ سکتا ہے۔ میرے موضوعات سیاسیاتِ امروزہ نہیں ہوتے، سیاستِ ریجن یا سیاست عالم کو محیط ہوتے ہیں۔ میں ہمیشہ سے دفاع اور اقبالیات کا ایک ادنیٰ طالب علم رہا ہوں اور یہ دونوں موضوعات ایسے ہیں کہ ان کا اندازِ نگارش سہل نہیں ہو سکتا۔ دفاع پر اردو میں لکھنا لکھانا اور سمجھنا سمجھانا پاکستان میں ویسے بھی Taboo خیال کیا جاتا ہے اور اقبالیات پر طبع آزمائی اس لئے مشکل ہے کہ ان کا دو تہائی کلام فارسی زبان میں ہے۔ فارسی اشعار کا اردو میں ترجمہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن شعریت کا ترجمہ ممکن نہیں۔ اس کو سمجھایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کی تشریح کی جا سکتی ہے۔

بعض اشعار تو سہل ممتنع کی ذیل میں آتے ہیں لیکن اکثریت ایسے فارسی اشعار کی ہے جن کو اردو میں ترجمہ کریں تو ان کی ”روح“ کچلی جاتی ہے۔ ورڈز ورتھ نے درست کہا تھا کہ پھول کو ”پھر ولنے“ سے اس کی پتیاں بکھر جاتی ہیں اور وہ پھول نہیں رہتا۔ پھول کی خوش نمائی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ ایک ”کُل“ کی صورت میں باقی رہے اور دیدہ زیب نظر آئے۔ جہاں ہم نے اس کو کھول کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ برگِ گل کیا چیز ہے اور زرِ گل کیا بلا ہے تو ہم نہ صرف یہ کہ اس پھول کا حلیہ بگاڑ دیتے ہیں بلکہ اس کی خوشبو بھی بکھر کر اتنی دھیمی ہو جاتی ہے کہ محسوس نہیں ہوتی۔ اس لئے شاعر کہتا ہے کہ ”پھول کا تجزیہ گویا اس کا ”قتل“ ہے:

We murder to dissect

ورڈز ورتھ کی یہ نظم زمانہ ء طالب علمی میں پڑھی تھی اور پروفیسر صاحب نے اگرچہ فرمایا تھا کہ شاعر نے بطور خاص ”پھول“ کا تذکرہ نہیں کیا لیکن لفظ (Dissection) کا مطلب اس وقت تک واضح نہیں ہوتا جب تک ہم پھول (اور خصوصاً) خوشبودار پھول کو ذہن میں نہ رکھیں۔آٹھ بندوں کی اس خوبصورت نظم کا عنوان شاید Tables Turned تھا اور یہ درجِ بالا مصرعہ شائد نظم کے آخری بند کامصرعہ تھا۔پورا بند اب تک یاد ہے:

Sweet is the love which Nature brings;

Our meddling intellect

Mis-shapes the beauteous things:

We murder to dissect.

وہ لذت جو فطرت اپنے ساتھ لاتی ہے کتنی شیریں ہوتی ہے

ہماری اندھی عقل و دانش

خوبصورت چیزوں کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتی ہے

اور ہم ان چیزوں کی چیر پھاڑ کرکے گویا ان کو قتل کر دیتے ہیں!

انگریزی ادب میں ورڈز ورتھ کے پائے کا کوئی دوسرا فطرت شناس شاعر نہیں ملتا۔ ورڈز ورتھ کی فطرت (Nature) سے شیفتگی، اس کے کلام کی سادگی اور پُرکاری اور دقیق موضوعات و مطالب سے اس کی کدورت، انگریزی شعر و ادب کے انمول خزینے ہیں۔اقبال بھی ورڈزورتھ سے حد درجہ متاثر تھے۔ بانگ درا کے حصہ اول میں اقبال نے بچوں کے لئے جو سات مختصر اور آسان نظمیں کہی ہیں، ان میں ایک (ایک پہاڑ اور گلہری) ایمرسن ہے اور دوسری (ہمدردی) ولیم کوپر سے ماخوذ ہے۔ لیکن جب وہ 1905ء میں یورپ میں تشریف لے جاتے ہیں تو ان کو لندن کی زمستانی ہواؤں میں شمشیر کی تیزی کا تجربہ ہوتا ہے اور وہیں حوریانِ فرنگی میں دل و نظر کا حجاب بھی ان کو دکھائی دیتا ہے لیکن جب وہ کچھ ماہ کے لئے انگلستان سے جرمنی جاتے ہیں تو وہاں کی پُرسکوت اور پُرسکون فضائیں ان کا دامنِ دل کھینچ لیتی ہیں۔ قیامِ یورپ کے تین برسوں میں اقبال نے شاعری کی طرف بہت کم توجہ دی ہے۔ بانگ درا کے دوسرے حصے میں جو 1905ء سے لے کر 1908ء تک کے تین برسوں کو محیط ہیں۔ اقبال کے قلم سے صرف 24مختصر نظمیں اور سات غزلیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان منظومات میں بیشتر کے موضوعات سنجیدگی لئے ہوئے ہیں۔ مثلاً محبت، سوامی رام تیرتھ، طلبا علی گڑھ کالج کے نام، وصال، عاشقِ ہرجائی، نوائے غم، عبدالقادر کے نام اور صقلیہ وغیرہ۔ لیکن اسی عرصے میں ان کے قلم سے ایسی سہل ممتنع منظومات بھی نکلیں جو ورڈز ورتھ سے متاثر ہو کر کہی گئی معلوم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر حقیقتِ حسن، اخترِ صبح، حسن و عشق، کلی، چاند اور تارے، سُلیمیٰ، انسان، جلوۂ حسن اور ایک شام (دریائے نیکر کے کنارے پر) وغیرہ۔ لیکن ان میں ایک نظم ایسی بھی ہے جس کا عنوان ہے”تنہائی“ اور وہ عین مین ورڈز ورتھ کے افکار کی گویا صدائے بازگشت ہے۔ اس نظم کی بحر بہت مختصر، سادہ اور ذخیرۂ الفاظ اتنا سہل ہے کہ یقین نہیں آتا اتنے مشکل مضمون / موضوع کو اقبال نے اتنے غیر مشکل اسلوب میں کیسے نظم کر دیا ہے۔صرف پانچ شعروں کی یہ نظم درجِ ذیل ہے:

تنہائی شب میں ہے حزیں کیا

انجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا؟

یہ رفعتِ آسمانِ خاموش

خوابیدہ زمیں، جہانِ خاموش

یہ چاند، یہ دشت و در یہ کہسار

فطرت سے تمام نسترن زار

موتی خوش رنگ، پیارے پیارے

یعنی ترے آنسوؤں کے تارے

کس چیز کی تجھے ہوس ہے اے دل!

قدرت، تری ہم نفس ہے اے دل!

ورڈز ورتھ اور قدرت (Nature)کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے اسے ”شاعرِ فطرت“ بھی کہا جاتا ہے۔ فکرِ اقبال کے تدریجی سفر میں تنہائی کی کیفیت نے ایک عجیب سماں باندھا ہے۔ پیامِِ مشرق میں ”تنہائی“ ہی کے عنوان سے ان کی ایک اور نظم ملتی ہے جو مخمس ہے لیکن اس میں الفاظ و تراکیب کی در و بست، فکر و فن کی گہرائی اور موضوع کی جزئیات اتنی جامع اور بلیغ ہیں کہ اگر ان کو بانگ درا والی ”تنہائی“ کے مقابل رکھ کر بات کی جائے تو زمین و آسمان کا فاصلہ ہے۔ میرا مطلب ورڈز ورتھ کے سہل و سادہ اندازِ شعر گوئی کو کم کرکے قارئین کے سامنے رکھنا نہیں بلکہ بتانا یہ چاہتا ہوں کہ جہاں شاعرِ مغرب نے فطرت کو سمجھنے اور سمجھانے میں حد درجہ سہل اندازِ نگارش اختیار کیا ہے وہاں شاعرِ مشرق نے ”نہایت آسان“ اور ”نہائت مشکل“ دونوں انداز ہائے نگارش استعمال کرتے ہوئے کمال کا سماں باندھا ہے۔ پیامِ مشرق کی اس فارسی نظم (تنہائی) میں اقبال پہلے موجِ بحر پھر پہاڑ اور پھر چاند سے ہمکلام ہو کر سوال کرتا ہے کہ تمہاری خامشی اور تنہائی کا سبب کیا ہے؟…… موج یہ سوال سن کر ساحل سے دور چلی جاتی ہے، پہاڑ بقولِ شاعر ”دَڑ وَٹ“ جاتا ہے، چاند از راہِ رقابت تنہائی کا ذمہ دار ستارے کو گردانتا ہے تو آخر شاعر خدا کے پاس چلا جاتا ہے اور فریاد کرتا ہے کہ میری تنہائی کا سبب کیا ہے۔ شاعر کا سوال ہے: ”میں چاند اور سورج تک سے پوچھ آیا ہوں، لیکن تری دنیا میں تو ایک ذرہ تک میرا غم گسار اور آشنا نہیں۔اس بھری دنیا میں تو دل نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں جبکہ میری مشتِ خاک سراپا دل ہے۔ تیرا چمن خوبصورت ہو گا اور ضرور ہوگا لیکن میری نغمہ سرائی کے لئے موزوں نہیں ……“

خدا نے میری بات سنی، اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی اور وہ بھی خاموش رہا…… یہ آخری بند فارسی میں بھی دیکھ لیجئے۔ شائد بعض قارئین فارسی شناس ”نکل“ آئیں!

شدم بحضرتِ یزداں، گزشتم از مہ و مہر

کہ در جہانِ تو یک ذرہ آشنایم نیست

جہاں تہی ز دل و مشتِ خاکِ من ہمہ دل

چمن خوش است دلے درخورِ نوایم نیست

تبسّمے بہ لبِ او رسید و ہیچ نگفت

مزید :

رائے -کالم -