پائلٹوں کے جعلی لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری،ممنوعہ اسلحہ لائسنس کے اجراء کا معاملہ موخر،ای او بی آئی کی پنشن میں 2000روپے اضافہ،وفاقی کابینہ

پائلٹوں کے جعلی لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری،ممنوعہ اسلحہ لائسنس کے اجراء کا ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کو وزیر اعظم آفس میں ہوا جس میں 14 نکاتی ایجنڈے سمیت اہم امور پر غور کیا گیا۔ کابینہ نے پی آئی اے پائلٹس کے جعلی لائسنسز کو منسوخ کرنے کی منظوری دے دی جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے ممنوعہ اسلحہ لائسنس کے اجراء کا معاملہ موخر کردیا گیا۔کابینہ نے عثمان ناصر کو ایم ڈی پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ تعینات کرنے کی منظوری دی۔ ایس ای سی پی کے آڈٹ کے لیے ہارورتھو حسین چوہدری کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے مرغذار چڑیا گھر اسلام آباد کا انتظامی کنٹرول وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو دینے کی منظوری دیدی۔ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی سکیموں سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی منظوری دی۔ کابینہ اجلاس میں سٹاک ایکسچینج کراچی پر ناکام حملے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔وزیر اعظم اور کابینہ اراکین نے حملے کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز اور گارڈز کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ شہید ہونے والے سکیورٹی گارڈ اور اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی۔کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جان کا نذرانہ دیکر ملک کو بڑی دہشت گردی سے بچا لیا اور پوری قوم سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتی ہے۔ وفاقی کابینہ نے ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹ انسٹی ٹیوشنز کی پنشز میں 2000 اضافے کی منظوری بھی دیدی اور اب ای او بی آئی کے پنشنرز کو 6500 کے بجائے 8500 پنشن ادا ہوگی۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری اور متعلقہ حکام نے پنشن کے اضافے کے معاملے پر بریفنگ دی۔2000 اضافے کی سفارش وزارت اوورسیز نے کی تھی جس کو کابینہ نے منظور کرلیا بدھ کو کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مائنس ون اپوزیشن کی ذہنی اختراع ہے،اپوزیشن اپنی کرپشن چھپانے کیلئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے،اپوزیشن کو اپنے گناہوں کی معافی مانگے، لوٹی ہوئی رقم واپس لائے، وزیر اعظم عمران خان کا اپنا کوئی کاروبار نہیں، تمام اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،موٹرسائیکلوں پر آنے والوں نے محل بنا لیے، ان کے کیسز کا کیا بنا؟،بلاول بھٹو سیاست کے نشیب و فراز سے آشنا نہیں،عمران خان اپنی سیاست کیلئے گلی گلی پھرے،پیپلز پارٹی اداروں میں میرٹ اور شفافیت پر یقین نہیں رکھتی، ماضی میں پنجاب میں سینٹرل لاہور پر زیادہ ترقیاتی کام ہوئے، باقی پنجاب کو نظر انداز کیا گیا،تمام ائیر لائنو ں کے سٹاف کی ڈگریوں کی تصدیق کو یقینی بنایا جائے گا،مشکوک لائسنس والے پائلٹس بر طرف کر دیئے گئے ہیں،ہمارے پائلٹس جو جہاز اڑا رہے ہیں ان کی ڈگریاں سو فیصد کلیئر ہیں،جعلی ڈگریوں کے حامل پائلٹس کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہو گی جبکہ وفاقی کابینہ نے ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے 3منصوبو ں، عثمان ناصر کی ایم ڈی سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اورسکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن کیلئے آڈیٹر جنرل کی تعیناتی کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ سستی بجلی کے منصوبوں سے مہنگے پلانٹس بندہو جائیں گے سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ کابینہ اجلاس میں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر بحث ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ نے ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے 3منصوبو ں کی منظوری دی گئی،متبادل توانائی کے منصوبوں کے فروغ پر بھی بات ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ متبادل توانائی کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سستی بجلی کے منصوبوں سے مہنگے پلانٹس بندہو جائیں گے۔شبلی فراز نے کہاکہ ماضی میں پنجاب میں سینٹرل لاہور پر زیادہ ترقیاتی کام ہوئے جبکہ باقی پنجاب کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پروونشیل فنانس کمیشن کے ذریعے صوبوں میں بلاتفریق ترقیاتی کام ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ترقیاتی کاموں میں پیسوں کے ضیاع کوروکنے کیلئے خسرو بختیار کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی،کمیٹی 90 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ عثمان ناصر کو ایم ڈی سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کے پی کے میں ای ٹینڈرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ سکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن کیلئے آڈیٹر جنرل تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ زائرین کیلئے بنائے گئے ایس او پیز میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔شبلی فراز نے کہاکہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں نجی شراکت دارو ں کوراغب کیا جائے گا۔شبلی فراز نے کہاکہ وزیراعظم اداروں کو فعال کرنے اور میرٹ میں شفافیت لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ تمام ائیر لائنو ں کے سٹاف کی ڈگریوں کی تصدیق کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پی آئی اے ایک عظیم ماضی کا حامل ادارہ ہے،سول ایوی ایشن اتھارٹی میں اصلاحات لائی جائیں گی۔شبلی فراز نے کہاکہ جن پائلٹس کے لائسنس مشکوک تھے انہیں برطرف کر دیا گیا ہے،ہمارے پائلٹس جو جہاز اڑا رہے ہیں ان کی ڈگریاں سو فیصد کلیئر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جعلی ڈگریوں کے حامل پائلٹس کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ مائنس ون اپوزیشن کی ذہنی اختراع ہے،اپوزیشن اپنی کرپشن چھپانے کیلئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔شبلی فراز نے کہاکہ اپوزیشن کو ایسی باتیں کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ کیا اس سے ملک کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور لوٹی ہوئی رقم واپس لائے۔شبلی فراز نے کہاکہ ماضی میں بجلی کے مہنگے منصوبوں کے معاہدے کیے گئے،ماضی میں بجلی کے ترسیلی نظام پر توجہ نہ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اپوزیشن کورونا سے متعلق بے یقینی کی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اتحادی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کا اپنا کوئی کاروبار نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ موٹرسائیکلوں پر آنے والوں نے محل بنا لیے، ان کے کیسز کا کیا بنا؟۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ بلاول بھٹو سیاست کے نشیب و فراز سے آشنا نہیں،عمران خان اپنی سیاست کیلئے گلی گلی پھرے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ماضی میں پی آئی اے میں بے شمار سیاسی بھرتیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اداروں میں میرٹ اور شفافیت پر یقین نہیں رکھتی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ اپوزیشن عمران خان کو مافیاز کے خلاف کارروائیوں پر اپنانشانہ بنا رہی ہے۔

وفاقی کابینہ

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز سرپر کھڑے ہیں، متحد ہو کر عالمی و قومی سطح کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز سر پر کھڑے ہیں، وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو متحد ہوکر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا۔ عمران خان نے کہاکہ ہم متحد ہوکر ہی عالمی اور قومی سطح کے چیلنجز کا مقابلہ کرسکتے ہیں، تخفیف غربت کے حوالے سے ہمارے اقدامات کو دنیا مین سراہا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی صحت یاب ہونے پر وفاقی وزیر شیخ رشید کو مبارکباد دی،شیخ رشید صاحب ویلکم بیک، تمام کابینہ ارکان نے خیر مقدم کیا۔ذرائع کے مطابق شاہ محمود اور اسد عمر نے پائلٹس کے معاملے پر کابینہ اجلاس میں کھل کر بات کی اور کہاکہ پی آئی اے کی جعلی ڈگری کے معاملے سے بدنامی اور جگ ہنسائی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اس معاملے کو بہتر طریقے سے بھی ہینڈل کیا جاسکتا تھا، وفاقی وزیر ہوا بازی نے کابینہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ اسد عمر نے کہاکہ پائلٹس کی اہلیت اور ڈگریز کا معاملہ حساس ہے، اس کو فہم و فراست سے دیکھا جائے۔کابینہ ارکان کے خدشات سامنے آنے پر وزیر اعظم نے تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ رپورٹ میں معاملے کو واضع کیا جائے اور سفارشات بھی پیش کی جائیں۔ ذرائع کے مطابق پائیدار ترقی گولز پر پاکستان کی شاندار پرفارمنس کاچارٹ کابینہ میں پیش کیا گیا۔ پائیدار ترقی کے 17 اہداف پر وفاقی کابینہ کو مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی اور غربت کے خاتمے میں اہداف پر پرفامنس پلس کا مقام حاصل کرلیا۔پائیدار ترقی اہداف حاصل ہونے پر وزیر اعظم اور کابینہ ارکان نے اظہار مسرت کیا۔اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کا انتظامی کنٹرول موسمیاتی تبدیلی کو مل گیا۔

اندرونی کہانی

مزید :

صفحہ اول -