رمضان شوگر ملز کیس،شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست منظور

رمضان شوگر ملز کیس،شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست منظور

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج امجد نذیرچودھری نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں نامزد اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میاں شہبازشریف کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قراردیا کہ میاں شہباز شریف نہ ہسپتال میں داخل ہیں اورنہ ہی وینٹی لیٹر پر، دو منٹ کے لئے عدالت پیش ہو کر دستخط کردیں تاکہ ٹرائل کا آغاز ہو سکے،میاں شہباز شریف کے وکلاء کی جانب سے آئندہ سماعت پر پیشی کی یقین دہانی پر فاضل جج نے شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مزید سماعت 6اگست تک ملتوی کردی،دوسری جانب احتساب عدالت کے ایڈمن جج جوادالحسن نے آمدنی سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے کیس میں ملوث حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15جولائی تک توسیع کردی ہے۔رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت شروع ہوئی تو جیل حکام کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیاگیا،دوران سماعت میاں شہباز شریف کے وکیل نے ان کی حاضری معافی کی درخواست دائر کی جس کی نیب کے پراسکیوٹر نے مخالفت کی،فاضل جج نے میاں شہباز شریف کے وکیل امجدپرویز سے استفسار کیا کہ میڈیکل کے مطابق تین ہفتوں میں کورونا وائرس کی رپورٹ منفی آجاتی ہے،میاں شہبازشریف کوتین ہفتے بعد آنے کو کہا تھا، کورونا کا مریض 14 دنوں میں صحت یاب ہو جاتا ہے، اصولی طور پر شہباز شریف کو پیش ہونا چاہیے تھا،شہباز شریف تو ہسپتال میں داخل بھی نہیں اور نا ہی وینٹی لیٹر پر ہیں،گھر میں آئسولیٹ ہیں،دو منٹ کے لئے عدالت آئیں تاکہ ٹرائل کا آغاز ہوسکے،اب ان کاکورونا ٹیسٹ کرایا ہے کہ نہیں؟میاں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ میاں شہباز شریف کی عمر 60 سال سے زائد ہے اور وہ کینسر کے مریض ہیں،اس لئے احتیاط برتی جا رہی ہے، ڈاکٹرز نے انکا معائنہ کیا ہے،اس کے مطابق ان کاٹیسٹ 2 جولائی کو ہونا چاہیے، عدالت عالیہ نے بھی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو میاں شہباز شریف کی 7جولائی کوکورونا ٹیسٹ کی رپورٹ طلب کررکھی ہے،شہباز شریف کا 2 جولائی کو کورونا کا سیمپل لیا جائے گا، ڈاکٹرز کے مطابق دو ٹیسٹ کرائے جائیں پھر رپورٹ کے بعد نارمل کہا جا سکتا ہے، فاضل جج نے کہا کہ میاں شہبازشریف کسی ہسپتال میں داخل نہیں،کیا شہباز شریف ایک سائن کے لیے نہیں آ سکتے؟میاں شہباز شریف کے وکیل نے کہاکہ ہم نے ہائیکورٹ میں یہ کہا تھا لیکن عدالت عالیہ نے انہیں ایمبولینس میں لانے سے منع کر دیاتھا، نیب کے پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ میاں شہباز شریف نومبر 2019 ء سے عدالت پیش نہیں ہورہے،ان کے نمائندے یہاں موجود ہیں،عدالت فرد جرم عائد کر کے ٹرائل کا آغاز کرے، میاں شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کویقین دہانی کرائی کہ میاں شہباز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں گے، جس پرعدالت نے میاں شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 6اگست کو دوبارہ طلب کر لیاہے،علاوہ ازیں احتساب عدالت کے جج ایڈمن جج جواد الحسن نے حمزہ شہباز کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات اورمنی لانڈرنگ کا ریفرنس نیب حکام کو جلد دائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 جولائی تک ملتوی کردی،دوران سماعت عدالت کوبتایا گیا کہ حمزہ شہباز کے شریک ملزمان کی مزید تفتیش جاری ہے، ریفرنس تیاری کے آخری مراحل میں ہے،چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد جلد ریفرنس دائر کردیاجائے گا،نیب نے حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات الزام میں گرفتار کررکھاہے،نیب کے مطابق حمزہ شہباز کے اثاثہ جات انکی آمدنی سے زائد ہیں جن کی نیب 2003ء سے 2007 ء کے درمیان بننے والے اثاثہ جات کی تفتیش کر رہا ہے، حمزہ شہبازشریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے خطیر رقم بیرون ملک بھجوائی،حمزہ شہباز کو بیرون ملک سے 18 کروڑ 10 لاکھ کی رقم منتقل ہوئی۔

رمضان شوگر ملز کیس

مزید :

صفحہ اول -