مقبوضہ کشمیر میں بچے کے سامنے نانا کے قتل پر انسانی حقوق تنظیموں کو جاگنا ہوگا:شاہ محمود

مقبوضہ کشمیر میں بچے کے سامنے نانا کے قتل پر انسانی حقوق تنظیموں کو جاگنا ...

  

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تین سالہ معصوم فرشتے کے سامنے اس کے نانا کو گولیوں سے بھون ڈالنے والے واقعہ نے دل دہلا دیئے ہیں،بھارت مقبوضہ کشمیرمیں ماروائے عدالت قتل کررہا ہے، پاکستان واقعہ کو ہر فارم پر اٹھائے گا، بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں، بھارت کشمیر میں ہونے والے مظالم کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے،انسانی حقوق کی تنظیمیں آخر کب تک خاموش رہیں گے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو آواز اٹھانا ہوگی۔ بدھ کو اپنے بیان میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کردی گئی، اس سے بڑی بربریت کا عملی مظاہرہ نہیں کیا جاسکتا۔ یورپی یونین کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا، یورپی یونین کو اس تمام صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے، یورپی یونین سے مقبوضہ کشمیر پر تشویش اور پاکستان کے غم و غصے کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان نے ہر فورم کشمیر میں ہونے والی ظلم و بربریت کو اٹھایا ہے، یہ واقعہ ماورائے عدالت قتل کے ذمرے میں آتا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیرمیں ماروائے عدالت قتل کررہا ہے۔بھارت نے ظلم کی انتہا کردی ہے،بھارت نے کشمیر میں انٹرنیٹ بند کیا ہوا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں، بھارت کشمیر میں ہونے والے مظالم کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں آخر کب تک خاموش رہیں گے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو آواز اٹھانا ہوگی۔ کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانا انسانی تقاضہ ہے۔قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے امریکی نمائندہ خصوصی افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال،افغان امن عمل کے حوالے سے خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔زلمے خلیل زاد نے پی ایس ایکس حملے پر اظہارافسوس اور بروقت کارروائی پر خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان امن عمل میں ہونے والی پیشرفت انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ فریقین کی جانب سے بین الافغان مذاکرات پر آمادگی خوش آئند ہے،ان مذاکرات سے افغانستان میں مستقل اوردیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔ افغان امن عمل،اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے تاہم ان عناصر سے خبردار رہنا ہوگا جو قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 40 برس سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے،افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے عالمی برادری کو ہاتھ بڑھانا ہوگا۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا،پورے خطے کی تعمیر وترقی کا انحصار افغانستان میں قیام امن سے مشروط ہے۔علاوہ ازیں شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات، کورونا وبا کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کرونا وباکی صورتحال کے مضمرات سے نمٹنے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دی جانے والی ڈیٹ ریلیف تجویز کے مندرجات سے اپنے یورپی ہم منصب کو آگاہ کیا اور کہا کہ کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ مربوط اور جامع لائحہ عمل سامنے لانے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ یورپ آنے والے پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔یورپی یونین ائیر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے (پی آئی اے) پر عائد کی جانے والی پابندی کے حوالے سے وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب پر واضح کیا کہ پاکستان، مسافروں کی جانوں کے تحفظ اور سفری سہولیات کے بین الاقوامی معیار پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے پی آئی اے میں جامع اصلاحات لا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے خامیوں پر مبنی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب کو، بھارت کی جانب سے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیااور کہا کہ بھارت، اقوام متحدہ اور عالمی قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنا چاہتا ہے۔بھارت سرکار کی طرف سے پچیس ہزار غیر کشمیریوں کو خلاف قانون ڈومیسائل کا اجراء قابل مذمت ہے جسے تمام کشمیری مسترد کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنی مخلصانہ اور مصالحانہ کاوشیں جاری رکھے گا۔اس موقع پر افغانستان کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ سامنے لانے پر بھی اتفاق ہوا۔یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ نے کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشت گردی کے حملے اور قیمتی جانوں کے نقصان پر، وزیر خارجہ سے اظہار تعزیت کیا۔وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب کو، پاکستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے شرپسند عناصر کو حاصل بھارتی سرپرستی سے بھی آگاہ کیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ کو حالات معمول پر آنے کے بعد دورہ ء پاکستان کی دعوت دی۔یورپی یونین کے سربراہ خارجہ امور، جوزف بورل نے وزیر خارجہ کو دورہ ء برسلز کی جوابی دعوت بھی دی۔دریں اثناء اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے صوبے بلوچستان میں مسلسل مداخلت اور افغانستان میں امن کی کوششوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔بھارت مسلسل کوشش کرتا چلا آرہا ہے کہ پاکستان میں عدم استحکام ہو۔ بھارت افغانستان میں امن کی کوششوں کو بھی متاثر کر رہا ہے، اس حوالے سے وہ امریکی نمائندہ خصوصی کو بھی بھارت کی ان مذموم کوششوں سے متعلق بتا چکے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا سٹاک ایکسچینج پر حملے میں دہشت گرد لوگوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے، پاکستانی جوانوں نے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنایا، بھارت اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کیلئے دہشت گردی کرا رہا ہے۔ بھارت دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے دہشت گردی کے واقعات چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر عالمی توجہ بڑھنے پر بھارت نے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا۔ادھر بدھ کو یہاں پاکستان کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل سمیت خطے کے امن و استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام پورے خطے کی تعمیر و ترقی کیلئے ناگزیر ہے،پاکستان،افغانستان میں قیام امن سمیت خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔ بھارت، اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے خطے کے امن کو سبوتاژکر سکتا ہے۔خطے میں امن و امان کی صورتحال سے عالمی برادری کو مسلسل باخبر رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے مشترکہ ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے خلوص نیت کے ساتھ افغان امن عمل میں مصالحانہ کردار ادا کیا جسے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی۔

شاہ محمود قریشی

مزید :

صفحہ اول -