مہنگائی کیخلاف مسلم لیگ (ن) آج لاہور کے 14مقامات پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے گی

مہنگائی کیخلاف مسلم لیگ (ن) آج لاہور کے 14مقامات پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے گی

  

لاہور(لیاقت کھرل) اپوزیشن جماعتوں نے بڑھتی ہوئی منگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا، تاجر برادری اور کسانوں سمیت مزدور تنظیموں کو بھی دعوت دے دی گئی۔ لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں آج سے احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاہور میں آج 14مقامات، فیصل آباد،سیالکوٹ،گوجرانوالہ سمیت ملک کے بڑے شہروں میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے۔ مسلم لیگ ن اڑھائی سال کے بعد پہلی مرتبہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔ جس میں مسلم لیگ ن اپنی پاور کا مظاہرہ کرے گی۔دوسری جانب بلاول بھٹو اور ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما فاروق ستار نے بھی لاہور میں ڈیرے ڈال لیے ہیں جس کے بعد لاہور کا سیاسی ٹمپریچر اچانک گرم ہو گیا ہے۔میاں نواز شریف کو بتایا گیا ہے کہ ملک کے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے اور اوپر سے ساڑھے تین ماہ سے جاری لاک ڈاؤن سے مزدور اور بالخصوص دیہاڑی دار طبقہ شدید اور بری طرح متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ جس کے باعث ایک عام آدمی کا اعتماد حکومت سے اٹھ کر رہ گیا ہے اور لوگ سڑکوں پر نے کے لئے تیاریاں پکڑ رہے ہیں۔ جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے خلاف پیپلز پارٹی نے بھی کمر کس لی ہے اور پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے لانگ مارچ کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری نے تمام اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میاں نواز شریف کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو باقاعدہ گرین سگنل بھی دے دیاگیا ہے۔تاہم میاں شہباز شریف اور مریم نواز کو احتجاجی مظاہروں اور بھوک ہڑتالی کیمپوں میں نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ مسلم لیگ ن نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بلائی جانے والی اے پی سی میں شرکت کے لیے بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ جس میں خواجہ محمد آصف،خواجہ سعد رفیق سمیت مسلم لیگ ن کے چار رہنماؤ شرکت کرینگے۔احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں مال روڈ پر ریگل چوک میں سب سے بڑا احتجاجی کیمپ لگایا جائیگا جبکہ شالیمار چوک، ماڈل ٹاؤن،والثن روڈ،دروغہ والا،ٹھوکر نیاز بیگ،شاہدرہ،بادامی باغ،کپ سٹور چوک،سمن آباد، ٹاؤن شپ سمیت شہر کے 14مقامات پر احتجاجی مظاہرے اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جارہے ہیں۔ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی گرفتاری کاٹارگٹ دے دیا گیا ہے جس کیلئے فہرست تیار کر لی گئی ہے۔سی سی پی او لاہور زولفقار حمید نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ لاہور میں لاک ڈاؤن کے باعث کسی قسم کے سیاسی اور سماجی اجتماعات پر مکمل پابندی ہے۔قانون ہاتھ میں لینے پر قانون کے مطابق دفعہ 144کے تحت گرفتار کرکے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ جس کیلئے ڈی آئی جی پولیس آپریشن کی نگرانی میں سپیشل کمانڈوز اینٹی رائیٹ فورس کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔جبکہ خفیہ مانیٹرنگ کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

بھوک ہڑتال

مزید :

صفحہ اول -