حکومت گھڑی اور چھڑی ساتھ ہونے کے باوجود ناکام،22ماہ میں رو پڑی:سراج الحق

  حکومت گھڑی اور چھڑی ساتھ ہونے کے باوجود ناکام،22ماہ میں رو پڑی:سراج الحق

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ گھڑی اور چھڑی ساتھ ہونے کے باوجود حکومت ڈلیور نہیں کرسکی،حکومتیں جو رونا عموماً پانچ سال بعد روتی ہیں موجودہ حکمرانوں نے 22ماہ بعد ہی رونا شروع کردیا ہے۔وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مجھے مائنس کرکے بھی کچھ نہیں ہوگا،میں رہوں یا نہ رہوں حالات یہی رہیں گے اور کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر یہ بات ہے تو انہیں چلے جانا چاہئے۔ ملک کا کوئی ایک مسئلہ حل نہیں ہوا۔ وزیروں اور مشیروں کے اپنے مسائل حل ہوگئے۔اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیاں اپنے مسائل میں الجھی رہیں،ایک اپنی صوبائی حکومت بچانے اورمقدمات نپٹانے میں لگی رہی۔عوام کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ اندرون و بیرون ملک پی آئی اے کی پراپرٹی ہتھیانے اور قومی ایئر لائن کو پرائیویٹائز کرنے کیلئے ادارے کو بدنام کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں سینئر سیاسی راہنما ڈاکٹر فاروق ستا ر کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر،امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فاروق ستار وفد کے ہمراہ سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی تعزیت کیلئے منصورہ آئے تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عقل سے عاری حکمرانوں نے گھر کے کپڑے بیچ باز ار لاکر دھونے شروع کردیئے ہیں۔ پائلٹس کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے ان افسروں کو پکڑا جائے جنہوں نے ان جعلی لائسنسزوالے پائلٹس کے انٹرویوزاور تعیناتیاں کیں۔ چاروں صوبوں میں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔وزیر اعظم عشائیے دیکر اور کھانے کھلا کر کب تک حکومت چلاسکیں گے۔ڈاکٹر فاروق ستا ر نے کہا کہ موجودہ صورتحال گھمبیر کے بجائے خوفناک ہو گئی ہے۔اس بحران سے ملک کو نکالنا اور قوم کی مایوسی دور کرنااسے آگے کا راستہ دکھانا کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں۔ قومی ایجنڈا سیٹ کیاجائے جس کیلئے قومی اتفاق رائے اور مشاورت کی جائے۔حکمران ملکی اداروں کوکمزور کرنے والوں کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جماعت اسلامی اور ہمارے آباؤ اجداد نے جو امیدیں پیدا کی تھیں ان کو پورا کرنے کیلئے ہم مل کر کوشش کریں تو کراچی کی مایوسی دور ہوگی، قوم کو بھی امید کی کرن دے سکیں گے۔ میں سراج الحق کا شکریہ ادا کرتاہوں جنہوں نے میری باتیں سنیں اور حوصلہ افزائی کی۔

حکومت رو پڑی

مزید :

صفحہ آخر -