بجٹ پر ووٹنگ،اسمبلی میں 294اراکین موجود تھے،ووٹ کے وقت 279نکلے،15غائب ہوگئے

  بجٹ پر ووٹنگ،اسمبلی میں 294اراکین موجود تھے،ووٹ کے وقت 279نکلے،15غائب ہوگئے

  

اسلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے وفاقی بجٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خفیہ مفاہمت سامنے آگئی ہے جس کے نتیجے میں اپوزیشن نے نہ صرف بجٹ منظور کرانے میں تعاون بلکہ وزیراعظم کو با آسانی تقریر کا موقع فراہم کرنے کے لئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔قومی اسمبلی کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق پیر کو بجٹ منظوری کے دوران ایوان میں 294 اراکین حاضرتھے لیکن جب ووٹنگ ہوئی تو 279اراکین نے گنتی کے وقت ایوان میں موجود تھے،15 اراکین غیر حاضر تھے۔تحریک انصاف کے 12 اراکین ایوان میں آئے ہی نہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے دو درجن سے زائد اراکین بھی بجٹ منظوری کے وقت ایوان سے غیر حاضر رہے۔279 میں سے حکومت کو 160 اور اپوزیشن کو119 ووٹ ملے تھے۔قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف کے 12 اراکین بجٹ منظوری کے دوران غیر حاضر رہے جن میں ساجد طوری،جواد حسین،طاہر صادق،امتیاز چوہدری،عامر سلطان چیمہ،راحت امان اللہ بھٹی،سردار طالب نکئی،فاروق اعظم ملک،باسط احمد سلطان بخاری،جعفر خان لغاری،نصر اللہ دریشک اور عامرحسین شامل تھے۔تحریک انصاف کے اتحادی عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید،جی ڈی اے غوث بخش مہر اور حکومت کے حمایت کرنے والے ایک آزاد ایم این اے علی نواز شاہ بھی ووٹنگ کے موقع پر موجود نہیں تھے جبکہ ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی خان بھی ووٹنگ کے دوران ایوان میں موجود نہیں تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے 11 اراکین بجٹ منظوری سے لاتعلق رہے،افتخار الحسن،شہباز بابر،برجیس طاہر،جاوید لطیف،شہباز شریف،رشید احمد خان،معین وٹو،چوہدری اشرف،افتخار نذیر،عالم داد لالیکہ اور حسان الحق باجوہ ان اراکین میں شامل تھے۔پیپلز پارٹی کے 10 اراکین نے ایوان میں نہ آ کر حکومت کو بجٹ پاس کرنے میں آسان موقع فراہم کیا۔ان میں اراکین میں آفتاب شعبان میرانی،خالد احمد،خورشید شاہ،آصف علی زرداری،روشن جونیجو،منور علی تالپور،یوسف تالپور،نور احمد،جمیل الزماں اور شمس النساء شامل تھے۔مجلس عمل کے تین اراکین آفرین خان،محمد انور اور عبد الواسیع غیر حاضر رہے۔اے این پی اے کے امیر حیدر خان ہوتی،بی این پی کے اختر مینگل نے بھی ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

اعداو شمار

مزید :

صفحہ آخر -