طالبات سے نازیبا حرکات، سکول اور عملے کیخلاف تحقیقات شروع

  طالبات سے نازیبا حرکات، سکول اور عملے کیخلاف تحقیقات شروع

  

لاہور(کرائم رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس لینے پرلاہور پولیس نے لاہور کے ایک مقامی سکول واقع غالب مارکیٹ میں طالبات کو نازیبا حرکات کرنے پر انکوائری شروع کردی ہے۔واضح رہے کہ لاہور کے ایک معروف انگلش میڈیم سکول کی طالبات کو کئی سال تک ہراساں کیا جاتا رہا، تنگ آکر طالبات اور فارغ التحصیل طلبہ نے ہمت کی اور اسکول انتظامیہ کو آگاہ کر دیا۔اسکول انتظامیہ نے ٹیچر سمیت 4 افراد کو ملازمت سے نکال دیا تاہم پولیس کو معاملے سے آگاہ نہ کیا۔طالبات کے مطابق چاروں افراد کئی سال سے طالبات کو ہراساں کر رہے تھے۔ اسکول انتظامیہ کو کئی مرتبہ آگاہ کیا گیا لیکن کوئی کارروائی نہ کی گئی، بعض طالبات نے تنگ آکر اسکول ہی چھوڑ دیا۔ بالاآخر درجنوں طالبات نے اس معاملے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور مل کر اسکول انتظامیہ کو شکایت درج کرائی اورچاروں اسکول ملازمین کی جانب سے بھیجے جانے والے غیراخلاقی پیغامات، ویڈیوز اور تصاویر بھی ثبوت کے طور پر پیش کیں۔طالبات نے الزام عائد کیا کہ ٹیچر کلاس کے دوران طالبات سے غیر اخلاقی حرکات کی کوشش کرتا تھا۔طالبات کے مطابق انہوں نے اپنی خاتون ٹیچر مائرہ عمیر رانا کو آگاہ کیا لیکن انہوں نے بھی ساتھ نہ دیا اور خاموش رہنے پر زور دیا۔سکول انتظامیہ نے طالبات کی شکایت کے بعد انکوائری کی اور کیمسٹری کے استاد زاہد وڑائچ، ایڈمن افسر اعتزاز، اکاؤنٹنٹ عمر اور چوکیدار شہزاد کو ملازمت سے نکال دیا، تاہم سکول انتظامیہ نے پولیس سے اس معاملے کو چھپالیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے طالبات سے نازیبا حرکات کیے جانے کا نوٹس لے لیا اور انکوائری کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم کر دی، تحقیقاتی کمیٹی 3 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اس جرم کامعاملہ ناقابل دست اندازی کے زمرے میں آتا ہے۔ جرم بڑا ہے لیکن شکایت کنندہ کو ثبوت کے ساتھ پولیس کو درخواست دینی ہو گی۔ادھر سی سی پی ا و لاہور نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے ہدایت ملنے پر نجی سکول میں طالبات کو ہراساں کرنے کے معاملے کی ایس ایس پی آپریشنز فیصل شہزاد کو انکوائری کی ذمے داری سونپ دی ہے۔سی سی پی او لاہور کی جانب سے ایس ایس پی کو 72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نازیبا حرکات

مزید :

صفحہ آخر -