گلوکار عالم لوہار کی 41ویں برسی کل منائی جائے گی

  گلوکار عالم لوہار کی 41ویں برسی کل منائی جائے گی

  

لاہور(فلم رپورٹر)فوک موسیقی کی دنیا کے عظیم گلوکار عالم لوہار کی 41ویں برسی کل منائی جائے گی۔اس دن کی مناسبت سے ان کے صاحبزادے عارف لوہار کی جانب سے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔عالم لوہار یکم مارچ 1928 کو گجرات کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے، انہوں نے کم عمری سے گلوکاری کا آغاز کیا۔عالم لوہار کو چمٹا بجانے اور آواز کا جادو جگانے میں کمال کا فن حاصل تھا۔ان کے گائے ہوئے پنجابی گیتوں کی خوشبو آج بھی جابجا بکھری ہوئی ہے۔ان کی خاص پہچان ان کا چمٹا تھا، انہوں نے چمٹے کو بطور میوزک انسٹرومنٹ استعمال کیا اور دنیا کو ایک نئے ساز سے متعارف کرایا۔وہ اپنے مخصوص انداز اور آواز کی بدولت بہت جلد عوام میں مقبول ہوگئے، ان کی گائی ہوئی جگنی آج بھی لوک موسیقی کا حصہ ہے۔جگنی اس قدر مشہور ہوئی کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فنکاروں نے اسے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا لیکن جو کمال عالم لوہار نے اپنی آواز کی بدولت پیدا کیا وہ کسی دوسرے سے ممکن نہ ہوسکا۔جگنی کی شہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور کی اردو اور پنجابی فلموں میں بھی جگنی کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا۔

جبکہ جگنی کی پکچرائزیشن بھی انہی پر ہوئی۔جگنی کے علاوہ عالم لوہار نے کئی اور منفرد نغمے تخلیق کئے جن میں اے دھرتی پنج دریاں دی، دل والا دکھڑا نئیں، جس دن میرا ویاہ ہو وے گا، قصہ سوہنی ماہیوال کا گیت وغیرہ بہت مقبول ہوئے۔عالم لوہار کی گائیکی کا انداز منفرد اور اچھوتا تھا جو اندرونِ ملک ہی نہیں بیرونِ ملک جہاں پنجابی اور اردو زبان نہیں سمجھی جاتیں وہاں بھی لوگ ان کی خوبصورت دھنوں پر جھوم اٹھتے تھے، خصوصا قصہ ہیر رانجھا اور قصہ سیف الملوک آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔عالم لوہار3 جولائی 1979 کو شامکے بھٹیاں کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔عالم لوہار کی برسی پر ان کے صاحبزادے عارف لوہار نے اپنے والد مرحوم اور اپنے پرستاروں سے درخواست کی ہے کہ وہ میرے والد کے درجات کی بلندی اور ایصال ثواب کیلئے درود پاک پڑھیں۔انہوں نے کہاکہ میرے والد نے اپنی ساری زندگی اپنے وطن کے لئے وقف کئے رکھی اور میں بھی ان کے نقش قدم پر چل رہا ہوں۔

مزید :

کلچر -