تدریسی صحافت کا درخشاں،ضو فشاں باب بند

تدریسی صحافت کا درخشاں،ضو فشاں باب بند

  

عالمگیر وبا ء قرار پانے والا کورونا وائرس کتنی ہی نابغہء روزگار شخصیات کو نگل گیا کتنے دیدۂ ور لوگ ہم سے جدا ہو گئے اورکتنے ہی اس کا شکار ہوکر متاثرین میں شامل زیر علاج ہیں۔ استاذی پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی اس موذی مرض کا شکار ہو کر داغ مفارقت دے گئے۔ویسے وہ جلدی کہیں ہار ماننے والے نہیں تھے، کورونا سے کیسے شکست کھا گئے، وہ تو ہر مشکل مرحلے میں سینہ تان کراور برائی کے سامنے اکڑ کر کھڑے ہو جاتے تھے، مردانہ وار مقابلہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے، ہو سکتا ہے کہ وقت آخر انہوں نے کورونا کو بھی للکارا ہو لیکن قویٰ مضمحل ہونے کے باعث جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی ہو، مرحوم نے اپنے اندر کئی بیماریاں بھی پال رکھی تھیں جن کا وہ کسی سے تذکرہ نہیں کرتے تھے اور دن رات اس قدر برق رفتاری سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے کہ دوسرے کو یہ گمان نہ ہو کہ ڈاکٹر صاحب بیمار یا کمزور ہیں۔ برخوردار ظہیر احمد بابر کے ریفرنس سے ایک ڈاکٹرکے پاس گئے چیک اپ کروایا اور ظہیر سے کہا کہ اس بارے میں کسی سے ذکر نہ کرناکیونکہ میں نے اپنی ناسازی طبع کا گھر والوں کو بھی نہیں بتایا (اس نوجوان نے یہ قصہ مجھے بھی ڈاکٹر صاحب کے رخصت ہو جانے کے بعد جنازہ کے روز سنایا) نظر کمزور ہونے کی وجہ سے اگر کسی کو پہچان نہ سکے ہوں تو اسے احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ میں تمہیں پہچان نہیں پایا۔ ویسے اپنے اکثر پرانے شاگردوں کو بھی نام لے کر پکارتے تھے جو کسی استاد کے لئے آسان نہیں ہوتا۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ گئے تو وہاں سے مجھ ناچیز اور برادرم عابد نور بھٹی کو فون کرکے ہیلو ہائے کیا۔ یہ اعزاز انہوں نے صرف ہم دونوں کلاس فیلوز کوہی بخشا، جس کا کئی بار خود تذکرہ بھی کیا۔ وہ اسم بامسمی تھے، شفیق باپ کی طرف ہر شاگرد کو اپنی اولاد سمجھنا ان کی گھٹی میں تھا، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی فراہمی کو انہوں نے ہمیشہ اپنا نصب العین بنائے رکھا، دن رات محنت اور ہر لمحہ کچھ کرنیکی جستجو ان کا خاصہ تھا، ہیرے، جواہرات کی پہچان اور انہیں تراش خراش کے بعد کندن بنانے کا فن بھی خوب جانتے تھے، دوست کے ساتھ حق دوستی نبھانا اور دشمن کو اس کے انجام تک پہنچانا ان کی رگ و پے میں تھا، وہ بلا کے ذہین و فطین تھے، زیرک تھے، دانشور تھے، محبت و اخلاص کا پیکر تھے۔ یہ تمام وہ اوصاف ہیں جن کے ان کے مخالفین بھی معترف تھے، ہیں اور رہیں گے لیکن جس چیز کی انہوں نے عمر بھر مخالفت کی وہ میرٹ سے ہٹ کر کسی کا کام کرنا یا نااہل شخص کو اعلیٰ منصب پر فائز کرنا تھا، اس پر ڈاکٹر مغیث نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا اور شائد اسی بناء پر ان کے اقربا میں سے کئی لوگ مخالف بھی بن گئے۔ اگر کبھی کسی دوست نے آؤٹ آف دی وے سفارش کر دی تو صاف الفاظ میں انکار کر دیا صرف اتنا جواب دیا”کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں غلط کام کروں اور دوسروں کے سامنے میری نظر نیچی ہو۔ آپ میرے دوست ہو یا دشمن۔ ٹال مٹول ان کے پاس سے نہیں گزرا تھا، کام کرنا ہو اور کرنے والا ہو تو فوراً کر دیتے لیکن کسی کو ”لارا“ نہیں لگاتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب کی ایک خوبی کا ذکر کرنا بڑا ضروری ہے، وہ ایک بہت اچھے شریک سفر تھے۔ خصوصی لیکچرز، سیمینار، امتحان اور ورکشاپس وغیرہ پر جانا ہوتا تو اکثر مجھے اپنے ساتھ لے جاتے۔ گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، گجرات یونیورسٹی، جی سی یو فیصل آباد، سرگودھا یونیورسٹی جانے کی غرض سے کئی بار مرحوم کا ہمسفر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ سفر گپ شپ سے بھرپور ہوتا، بوریت نام کی کوئی شے نہ ہوتی تھی۔ راستے بھر چائے بسکٹ اور ڈرنکس سے تواضع کرتے، اگر میں کلاس یا ورکشاپ طویل کر دیتا تو فوراً وہاں پہنچ کر کہتے ”بھئی بس کرو سارا کچھ آج ہی پڑھا دینا ہے“۔

پنجاب یونیورسٹی، سپرئیر یونیورسٹی، یو سی پی اور یو ایم ٹی کی وزیٹنگ فیکلٹیز میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سفر بڑا یادگار رہا۔ وہ جس بھی ادارے میں ہوتے ہمیں ہمسفر کر لیتے اور اس قدر شفقت و رہنمائی کرتے کہ شائد کسی دوسرے کے لئے یہ ممکن نہ ہو۔ میں نے آج تک اتنا کھرا انسان یا استاد نہیں دیکھا جو اپنے اور شاگرد کے درمیان فاصلہ نہ رکھتا ہو، اسے دوست بنا کر ہر اونچ نیچ شیئر کرتا ہو یا پھر اپنے برابر بیٹھا کر اپنے جیسا رتبہ دیتا ہو۔رحلت سے چند روز قبل یو ایم ٹی کی وزیٹنگ فیکلٹی کی آن لائن میٹنگ میں بھی بڑے چاق و چوبند تھے اور معمول کے انداز میں میٹنگ کنڈیکٹ کرتے ہوئے ہم سب کی خوب رہنمائی کی۔ ڈاکٹر قاری مْغیث الدین شیخ مرحوم ابلاغیات کی تعلیم کے شْعبے میں محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ اْن کی ذات ایک ادارے کی حیثیت اختیار کر چْکی تھی۔ بڑے نامی گرامی اساتذہ پی ایچ ڈی کی سطح پر، اور تحقیق کے میدان میں، اْن کے شاگرد تھے۔ ان کی زندگی مْسلسل محنت سے عبارت تھی۔ بے پناہ کام کرنے والا شخص، اعلیٰ مْنتظم اور وقت کی قدر کرنے والا، علم کے دریامیں ہمہ وقت غوطہ زن، طلبہ کے لئے روشنی کا مینار۔۔ ڈاکٹر مْغیث سے جب بھی مْلاقات ہوتی، ابلاغیات کے مْختلف پہلْوؤں،ابلاغیات کے ماڈلز، تصورات، تھیوریز اور اْن کے عملی اطلاق، یا پھر کتابوں، جرائد اور مقالہ جات کی بات تو ہوتی ھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل اور حالات حاضرہ پہ بھی گْفتگْو رہتی۔ کیا گہرائی،گیرائی اور وْسعت تھی اْن کے مْطالعے کی اور کیا خوبصورت پیرایہ اظہار تھا اْن کا۔

ڈاکٹر مْغیث پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کے رگ وریشے سے واقف تھے اور اْسے درپیش چیلنجز اور مواقع کا بھرپْور ادراک رکھتے تھے، اور انہی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ کی رہنمائی اور عملی زندگی میں بھی اْن کی سرپرستی کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ طلبہ اْن سے عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے علم و آگہی سے ہزاروں طلباء فیض یاب ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کمال یاداشت کے حامل تھے۔ مرحوم کا اپنے طلباء سے محبت اور انسیت کا ویسا ھی تعلق اور رشتہ تھا جو کسی فنکار کا اپنے تراشیدہ فن پاروں سے معمہ ہو۔ انہوں نے ابلاغ عامہ کے شعبوں میں جو پودے لگائے تھے وہ اب درس و تدریس،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، تعلقات عامہ، ایڈوٹائزنگ سمیت ابلاغ عامہ کے دیگر شعبوں میں تن آور درخت بن چکے ھیں اور یوں ان کے ذریعے ڈاکٹر مرحوم کا فیض اب بھی جاری ہے۔ ایک شجر سایہ دار تھے اور بلاشبہ ابلاغ عامہ کے تمام شعبے ان کی شفقت اور راہنمائی سے محروم ہوگئے ھیں۔ ڈاکٹر صاحب کے چلے جانے سے ابلاغ عامہ کے تمام شعبوں میں متحرک ان کے تراشے ہوئے نگینوں اور پروردہ بچوں میں روحانی طور پر یتیمی کا احساس ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جب بھی ابلاغ عامہ کی تاریخ لکھی جائے گی، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے تذکرے کے بغیر ادھوری رہے گی…… ڈاکٹر مرحوم ایرانی انقلاب سے بہت متاثر تھے اور انقلاب ایران کے ابتدائی دنوں سے ہی اس کے سیاسی، سماجی، عسکری اورمذہبی پہلوؤں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے اور انتہائی عمیق انداز میں جائزہ لے رہے تھے۔۔وہ ایرانی انقلاب میں امام خمینی اوران کی قریبی ساتھیوں کے بارے میں بھی فرداً فرداً گہرائی سے مطالعہ کرکے انقلاب کے مضمرات جاننے میں کوشاں نظر آتے اور انقلاب ایران کے پاکستان، ایران کے ہمسایہ ممالک، خلیجی ممالک اور سپر پاور پر اثرات کے بارے میں اکثر گفتگو کرتے رہتے۔ یہ غالباً 87-1986 کی بات ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے جنرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں اپنے کمرے میں بیٹھے گفتگو کے دوران انقلاب ایران کا ذکر چھڑ گیا۔۔۔ ڈاکٹر مرحوم پر اس روز ایک خاص کیفیت طاری تھی جیسے وہ بالکل تیاری اور ارادہ کرکے آئے تھے کہ آج تہران میں اپنے مشاہدات کا ذکر کرکے ہی رہیں گے۔

آئی آر کی بالائی منزل کے چند کمروں میں قائم شعبہ صحافت کو باقاعدہ انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن میں تبدیل کروانا محض ڈاکٹر صاحب کا کریڈٹ ہی نہیں بلکہ صدقہ جاریہ بھی ہے، جب تک پنجاب یونیورسٹی کے اس عالی شان ادارہ میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہے گا، ہر طالب علم اور معلم کے دل سے مرحوم کے درجات میں بلندی کی دعا نکلتی رہے گی۔ اس دنیا سے چلے جانے کے بعد پنجاب یونیورسٹی نے بھی بڑے پرتپاک انداز میں اعتراف خدمت کیا، مرحوم کی نماز جنازہ وی سی ہاؤس سے متصل وسیع و عریض گراؤنڈ میں کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے خود نماز پڑھائی اور اختتام پر جس انداز سے ڈاکٹر مغیث مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا وہ بھی خوب ہے ان کا کہنا تھا کہ مرحوم اس دانش گاہ کا قیمتی اثاثہ تھے، مختلف اہم مناصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے جو اعلیٰ خدمات انجام دیں وہ ناقابل فراموش ہیں، اکیڈیمک کونسل میں مرحوم کی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ساتھ تعزیتی ریفرنس کا بھی اعلان کیا گیا اس موقع پر شعبہ صحافت کی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں جبکہ برادرم سلمان غنی نے نماز جنازہ سے قبل شرعی قواعد و روایات کے تحت یہ اعلان کیا کہ اگر ڈاکٹر صاحب سے کسی شخص کا لین دین ہو یا انہوں نے کسی کا دل دکھایا ہو تو خدارا انہیں معاف کر دیں آج وہ اس دارفانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گئے ہیں۔ ان کے فرزند علی مغیث یہاں موجود ہیں جبکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں شاگرد بھی ڈاکٹر صاحب کے بیٹے ہی ہیں لین دین والے افراد ہم سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اختتام نماز پر بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہا رکیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے پنجاب یونیورسٹی کے لئے جو گرانقدر خدمات انجام دیں ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کے ذمہ جو کچھ بھی ہے ہم اس کی ادائیگی کو تیار رہیں۔پیشہ ورانہ چشمک ہر ادارے میں ہوتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت (اب ابلاغیات) میں چونکہ دانشوروں کی تعداد زیادہ ہے اس لئے یہاں آگے نکلنے کی دوڑ دھوپ بھی کچھ زیادہ ہی ہے۔ ڈاکٹر شفیق جالندھری جب ادارے کے سربراہ تھے تو ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی سربراہی کی دوڑ میں شامل تھے، بالآخر وہ یہ منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کا ڈاکٹر شفیق کو گلہ تھا اور وہ اس کا نجی محافل میں اظہار بھی کرتے رہے۔ مرحوم کے بارے میں یہ جو کہا جاتا ہے کہ اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کرتے تھے، بالکل غلط ہے کیونکہ جب وہ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب میں ڈین تعینات تھے اور وہاں ایک ڈاکٹر / پروفیسر کی پوسٹ نکلی تو ڈاکٹر شفیق جالندھری کو قراقرم یونیورسٹی گلگت سے لا کر اس پر بٹھا دیا۔ اعلیٰ ظرفی کی اس قسم کی مثالیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

پاکستان میں پہلی میڈیا یونیورسٹی کا قیام، پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا خواب تھا،، ان کی کوششوں سے پرویز مشرف دور میں اسلام آباد میں میڈیا یونیورسٹی کے قیام کیلئے کچھ اقدامات بھی سامنے آئے لیکن،، پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا یہ خواب ان کی زندگی میں عملی صورت اختیار نہ کرسکا،میڈیا یونیورسٹی کے قیام کا ورکنگ پیپر مرحوم نے اس وقت کے گورنر خالد مقبول (جو بالحاظ عہدہ پنجاب یونیورسٹی کے چانسلر بھی تھے) کو بھی پیش کیا تھا لیکن پنجاب حکومت نے نہ صرف یہ کہ اس دور میں بلکہ آج تک اس پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اس قسم کے کئی واقعات کا تذکرہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اپنی شہرہ آفاق خود نوشت ”سسکتی مسکراتی زندگی“ میں بھی کیا ہے جبکہ ہم نے جب لاہور پریس کلب میں ان کی اعزاز میں ”اعتراف خدمت“ کی ایک تقریب منعقد کی تو ڈاکٹر صاحب نے وہاں اس قسم کے کئی قصے سنائے جو مرحوم کی زندگی کے نشیب و فراز کی جیتی جاگتی تصویر ہے ”سسکتی مسکراتی زندگی“ کی دو تقاریب پذیرائی لاہور میں جبکہ دیگر شہروں میں بھی کئی تقریبات سجائی گئیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -