لاک ڈاؤن نے تعلیمی نظام کو معیشت سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے!

لاک ڈاؤن نے تعلیمی نظام کو معیشت سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے!

  

کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور ترقی یافتہ ممالک بھی جو اپنی معیشت کو تین صدیاں قبل کی کساد بازاری سے تشبیہ دے رہے ہیں کا نظام تعلیم بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ جو تعلیم سکولوں اور کالجوں‘ اور یونیورسٹیوں میں براہ راست حاصل کی جا سکتی ہے وہ آن لائن نہیں‘ ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ تعلیم گجرات چوہدری اورنگزیب نے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا انہوں نے کہا کہ تعلیم کے حصول کیلئے ضائع ہونیوالا ایک دن طالبعلموں کے لیے ایک ماہ کے برابر ہے اور تین ماہ کے لاک ڈاؤن کے اثرات کئی دہائیوں تک پاکستانی نظام تعلیم پر مرتب ہوتے رہیں گے جو تعلیم کلاس روم میں بیٹھ کر حاصل کی جا سکتی ہے اسکا کوئی نعم البدل نہیں‘ پاکستان میں ابجیکٹو اور سب جیکٹو نظام تعلیم نافذ ہے دونوں صورتوں میں اساتذہ اور پروفیسرز کی معاونت کے بغیر تعلیم حاصل نہیں کی جا سکتی انہوں نے کہا کہ اگر ستمبر میں بھی حکومت پنجاب نے تعلیمی ادارے کھولنے کا منصوبہ بنایا تو اس کے لیے ابھی سے ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے صرف گجرات میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد طالبعلم گورنمنٹ کے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں جہاں 16ہزار سے زائد اساتذہ اکرام تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں پاکستان میں ایک کرسی پر دو دو طالبعلم بیٹھتے ہیں ان حالات میں اگر معاشرتی فاصلہ قائم رکھنے کا ایس او پیز جاری کیا گیا تو وہ بری طرح فلاپ ہو جائے گا ہاں البتہ ایک سکول کی کل تعداد کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کچھ نہ کچھ نتائج ضرور حاصل کیے جا سکتے ہیں اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک یوم چھٹی جماعت کو تعلیم جاتی ہے تو دوسرے یوم ساتویں کلاس کی باری ہونی چاہیے تاکہ پاکستانی سکولوں جہاں ہزاروں طالبعلم بیک وقت ایک ہی چھوٹے سے کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تفریح کے لیے مقرر کردہ وقت کے دوران آپس میں گھل مل کر اچھل کود بھی کرتے ہیں کو روکنا انتہائی مشکل ہو جائے گااگر ایسا بھی ممکن نہ ہوا تو طالبعلموں کے لیے تدریس کے اوقات کو کم کر کے سکولوں میں ڈبل شفٹ کرنا اشد ضروری ہو گا پاکستانی نظام تعلیم کے ماہرتعلیم اور چیف ایگزیکٹو محکمہ تعلیم چوہدری اورنگزیب جو اس حوالے سے وسیع تجربہ کے حامل ہیں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس نے جہاں ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے جس میں معیشت اور معاشرتی نظام زندگی سرفہرست ہیں مگر ان کی نظر میں کورونا سے سب سے زیاد ہ متاثر تدریس کا شعبہ ہوا ہے جسے ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے حکومت نے امتحانات کو ملتوی کر کے طالبعلموں کو اگلی جماعت میں پروموٹ کیا ہے کا فائدہ صرف لائق طالبعلموں کو ہوگا نالائق طالبعلم اس سے محروم رہ جائیں گے ہماری تو پوری توجہ نالائق طالبعلموں کو ایک بہتر اور ذمہ داری شہری بنانے پر مرکوز ہے تاکہ وہ بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کر کے ایک ذمہ دار شہری بن سکے مگر ایسا ممکن ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا کورونا خداوند کریم کی طرف سے ایک عذاب کی صورت میں نازل ہوا ہے اور ترقی یافتہ ممالک بھی نہ تو اسکی دوا ایجاد کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسکے خاتمے کی کوئی تاریخ دی جا سکتی ہے ہم سب کو اپنے گناہوں سے توبہ کر کے خداوند کریم سے گڑگڑا کر اسکی مدد مانگنی چاہیے کیونکہ نبی کریمﷺ کو خداوند کریم نے پورے عالم کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا تھا اور اس وقت پورا عالم اس نہ نظر آنے والے انتہائی خطرناک وائرس کا شکار ہے لاکھوں افراد موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں ہزاروں لقمہ اجل بن رہے ہیں انہوں نے کہا کہ جب حکومت سکولوں کو کھولنے کیلئے کوئی ایس او پیز مرتب کرتی ہے تو اس میں ماسک‘ دستانے ضروری قرار دیتے ہوئے داخلی گیٹ پر اینٹی انفیکشن سپرے کا بھی بندوبست فہرست میں شامل رکھے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی یہ انتہا ہے کہ طالبعلموں کی اکثریت فیس بک‘ واٹس ایپ اور یو ٹیوب پر مصروف نظرآتی ہے جہاں سے انکی تربیت کی بجائے وہ کرائم اور جرائم کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان پہلے ہی سوشل میڈیا کی طرف سے جاری ہونیوالی مختلف اخلاق باختہ ویڈیوز اور جعلی پراپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں تو ان کے پیچھے پیچھے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پابندیوں کا اطلاق کرنے کا عندیہ دیا ہے جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے پاکستان میں نظام تعلیم ٹچ اسکرین موبائل کی وجہ سے زوال پذیر ہے جو والدین اپنے بچوں پر گہری نظر رکھتے ہیں وہی انکا مستقبل بھی سنوار سکتے ہیں مگر اکثریت سوشل میڈیا کے گہرے کنویں میں غوطے کھا رہی ہے انہوں نے کہا کہ تدریسی نظام میں اخلاقیات اور سوشل میڈیا کا خصوصی مضمون شامل کر کے بچوں کی تربیت کرنا اشد ضروری ہے اور انہیں اس قانون سے بھی آگاہی حاصل ہو سکے کہ کس جرم کی کتنی سز اہے انہوں نے کہا کہ اگر سکولوں میں وائرس پھیلا تو لوگ گلی اور بازاروں میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بے ہنگم رش اور بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہزار گنا اضافہ کر دیگا انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولز مالکان جو اس امر پر بضد ہیں کہ فوری طور پر سکولوں کو کھولنے کی اجازت دی جائے سر اسر غلط ہیں لوگوں نے گلی محلوں میں پرائیویٹ سکول قائم کر رکھے ہیں حکومت اپنے طو رپر لاکھوں کی آبادی کو ماسک اور دستانے پہننے پر مجبور نہیں کر سکتی کہیں نہ کہیں اسکی خلاف ورزی ضرور ہو جاتی ہے ہمیں بہتر حالات کی توقع رکھنی چاہیے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو کم سے کم سطح پر رکھا جائے اگر کمسن بچے اسکا شکار ہو گئے تو والدین کو بڑے دکھ برداشت کرنا پڑینگے انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولز مالکان اپنے نفع نقصان کو مد نظر نہ رکھیں بلکہ بطور ایک محب وطن پاکستانی مثبت سوچ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کریں کہ اگر ان کے بچے کورونا وائرس کا شکار ہو گئے تو ان کے دل پر کیا بیتے گی دوسروں کیلئے بھی اچھے خیالات رکھنا بحثیت قوم ہمارے فرائض میں شامل ہے لیکن بدقسمتی سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد بھی ابھی تک اکثریتی لوگوں کا قبلہ درست نہیں ہو سکا ذخیرہ اندوز اسی طرح ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ بھی کر رہے ہیں کاش انہیں یہ علم ہو سکے کہ کورونا وائرس کے مریض چند گھنٹوں کے اندر ہی اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں اور پھر دنیا میں واپس آ کر معافی مانگنے کے تمام راستے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -