آن لائن تعلیم امتحانات کی فیسیں اور مشکلات!

آن لائن تعلیم امتحانات کی فیسیں اور مشکلات!

  

حکومتی سطح پر محکمہ ایجوکیش نے کرونا کی صورت ھال میں نرسری سے لے کر انٹر تک کے تعلیمی مسائل کو کسی حد تک حل کر لیا ہے۔نہم اور گیارہویں کے طلبہ وطالبات کو پروموٹ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی تین پرسنٹ نمبروں کا اضافہ بھی عمل میں لانے کی بات کی گئی ہے۔ امتھانات کے حوالے سے تمام تعلیمی بورڈ لاکھوں کروڑوں روپے کی فیسیں جمع کرچکی ہے۔ کچھ لوگوں کو مطالبہ ہے کہ یہ فیسیں واپس کی جانی چاپئیں۔ اسی طرح مختلف یونیورسٹیوں نے بھی ایم اے ایم ایس سی امتحانات کے لیے فیسیں وصول کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے جس کی وجہ سے طلبہ وطالبات بڑی پریشانی کے عالم میں بغیر کسی پبلک ٹرانسپورٹ کے روزے کے ساتھ امتحانی فیس اور فارم جمع کرنے کے لیے اپنے اپنے اداروں کا چکر لگانے پر مجبور ہیں۔یہ سب کام بغیر کسی پلیننگ کے شروع کردیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن اور حکومتی پالیسی کو بھی مد نظر نہیں رکھا گیا۔

10مئی 2020ء کو دی پنجاب آرٹس کونسل۔ ساہیوال کے زیر اہتمام کانفرنس میں استقبالیہ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے کہا کہ مشاہیر کسی بھی معاشرے کا فخرا ور حسن ہوتے ہیں۔مجید امجد نہ صرف ساہیوال بلکہ اردو ادب کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ وہ ساہیوال کے فخر کے طورط پر ساری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ فطری حوالے سے انسان دوست ماحول پیدا کریں کہ جدید موضوعات پر گفتگو ہوسکے۔ موجودہ مجید امجد کے حوالے سے دیا جانے والا موضوع عصری حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے کہا کہ یہ موضوع جو منتخب کیا گیا ہے اس کی فوری ضرورت اور نوعیت تھی کہ جب ساری دنیا ایک تالا بندی کی کیفیت میں ہے۔ اس میں فطرت اور نیچر کو نئی زندگی ملی ہے۔اگر فطرت کی زبان کو ہم سمجھ سکیں تو زیادہ بہتر ہے۔انڈسٹریلزم نے جس طرح نیچر کو نقصان پہنچایا ہے اس کا نتیجہ سامنے ہے اور اب فطرت نے ایک نیا جنم لیا ہے۔ اسی لیے یہ موضوع ہمارے موجودہ حالات سے متعلق ہے۔

ڈاکٹر اسلم ضیاء نے کہا کہ پہلے حصے میں یہ بتانا چاہوں گھا کہ نظام فطرت کیا ہے اور مجید امجد کے شعری وجدان پر آب وہوا اور جغرافیائی حالات کا کیا اثر ہے دوسرا مجید امجد کی نظموں میں فزیکل، جسمانی، موریل،اخلاقی اور سپرچویل تناظر میں اور تیسرا حصہ اس مضمون کا ورڈز ورتھ اقبال، جوش اور مجید امجد کی فطرت نگاری کا تقابل ہے۔

کائنات میں جو کچھ ہے وہ فطرت ہے۔ مظاہر فطرت خدا تعالیٰ کی خلاقی کا ثبوت ہیں۔

ڈاکٹر اشرف کمال نے کہا کہ مجید امجد کی نظم ”کنواں“ ۱۹۴۱ء میں سامنے آئی۔پہلے کنواں صرف کھیتوں کو سیراب کرنے والا پودوں کو پانی پہنچانے والا صرف ایک ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ زندگی اور سماج کی ایک متحرک سرگرمی کا حامل بھی تھا۔ خاص طور پر گرمیوں میں گرمی کے احساس کو کم کرنے کے لیے کنوئیں کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کے لیے بوڑھوں، جوانوں، نوجوانوں کا ہجوم، شورو غل، ہلا گلا دیدنی ہوتا تھا۔جہاں کنواں ہوتا تھا وہاں رونق، ہری بھری فصلیں، ہریالی اور پھلوں سبزیوں،بور کا زیور اٹھائے درختوں کی قطاریں نظر آتی تھیں۔ مگر اس نظم میں مجید امجد نے نظم کا آغاز ایک المیے سے کیا ہے کہ کنواں تو مسلسل چل رہا ہے مگر نہ ہری بھری فصلیں ہیں نہ پھل پھول، نہ درخت نہ پودے۔کنواں چل تو رہا ہے مگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہا ہے، کہیں کیاروں کو پانی سے لبالب بھردیا ہے، جس کی وجہ سے ہرے بھرے درختوں کا خون ہوچکا ہے، جیسے سیلاب شہر بھر کو ہلاک کر کے رکھ دے، اور کہیں خشک سالی کا سماں ہے۔کنواں چل رہا ہے اور اس کے چلنے کی آواز سے تھکے ہارے بیلوں کا جوڑا زنجیروں میں جکڑا اور تازیانے کھاتے ہوئے اپنے مخصوص رستے پر چلے جارہا ہے۔یہ دراصل زندگی کا سفر ہے جو جیسے جیسے طے ہورہا ہے موت کی منزل قریب آتی جارہی ہے۔اور دونوں بیل مسلسل رواں دواں ہیں مگر منزل کا کسی کو بھی نہیں پتا کہ آخر کہاں انجام ہونا ہے۔یہ مقدر کا عجیب کھیل ہے کہ زندگی گزرنے والے نہ رک سکتے ہیں اور نہ چلنے کی ہمت ہے۔اس میں زندگی کے جبر کی بات کی گئی ہے کہ سب کچھ ایک لگے بندھے اصول کے تحت ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہاں کوئی ہنستا ہے کوئی روتا ہے،کوئی مرتا ہے کوئی جیتا ہے۔بیل یہاں علامت ہیں ان انسانوں کی جو زندگی کے بوجھ کو ڈھو رہے ہیں جنھیں شب وروز کا تازیانہ تھکنے کے باجودو بیٹھنے اور آرام نہیں کرنے دیتا۔لفظ ”کنواں“ اردو شاعری میں کوئی نیا لفظ یا استعارہ نہیں پہلے بھی حضرت یوسف ؑ کے واقعہ میں بار بار ذکر آیا ہے جسے شعراء نے مختلف حوالوں سے اپنی شاعری میں بیان کیا ہے، اس کے علاوہ کنوئیں سے پانی بھرنے والی پنہاریوں اورپنگھٹ پر رنگا رنگ لڑکیوں کے ہجوم کے حوالے سے بھی استعمال ہوتا رہا مگر یہاں کنواں ایک سماجی تہذیبی وثقافتی علامت بھی ہے اور زندگی کا استعارہ بھی۔ جس کے گرد زندگی کا پہیہ گھومتا ہے۔

اس نظم میں کنواں چلنے کے باوجود ہریالی نہیں ہے سبزہ نہیں اگ رہا ہے، کھیت کھلیان ویران پڑے ہیں۔ آخر منظر کو یہ کیا ہوگیا ہے؟ کیونکہ کنواں تو شادابی کی علامت ہے مگر یہاں معاملہ الٹ ہے۔کنواں تو ہے، پانی بھی ہے مگر ان کی خاصیتیں بدل گئی ہیں، پانی خوں رنگ ہوگیا ہے۔

مجید امجد کی اس نظم میں زندگی کو مسلسل حرکت کرتا دکھائی دیا گیا ہے۔کائنات اور یہاں وقت کی رفتار اور روانی کو خوبصورت انداز میں نظم کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس نظم میں مجید امجد نے استعاراتی انداز میں دکھوں بھری زندگی کا احوال بیان کیا ہے کہ کس طرح ہمیں اپنے پنے حصے کا بوجھ زندگی بھر اپنی پشت پر لادے چلتے چلے جانا ہے۔

ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا کہ انسان نے درد دل کو چھوڑ کر اپنے فیصلوں میں خدا کو بھلائے رکھا ہے اسی لیے انسان خود خدا بن بیٹھے اور انسانی تاریخ میں نمرودوں فرعونوں نے ان پر ظلم وستم ڈھائے ہیں۔سچا انسان وہ جس پر خدا نے اپنی امانت اتاری تھی۔مجید امجد نے اس سچے انسان کی بات کی ہے جو نیہ تہذیب کی وجہ سے ماحول کو خراب کررہا ہے انھوں نے اس انسان کی تمنا کی ہے جو کہ فطرت سے قریب ہے۔ انسان نے چونکہ جنگل کا صفایا کردیا ہے۔ مجید نے اپنے ارد گرد کے ماحول کو اپنی نظر سے دیکھا اور اس حوالے سے بات کی۔

کوئٹہ سے عابد میر نے کہا کہ مجید امجد کی دونظمیں ہیں فطرت نگاری اور ماحولیات کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے خاص طور پر بلوچستان کے قارئین مجید امجد کو انھیں نظموں کے حوالے سے دیکھتے ہیں جیسا کہ ان کی نظم گوئٹے تک۔ان کا ایک ہی مختصر سا سفر ہے مگر اسی سفر میں انھوں نے جس طرح مقامیت کا ذکر کیا ہے وہ اہم ہے۔انھوں نے مقامیت کو رومانویت کے ساتھ جوڑا ہے۔ اورنگزیب نیازی نے مجید امجد کی نظم توسیع شہر کے حوالے سے بات کی۔ مجید امجد کی باقاعدہ پہلی نظم ۱۹۲۱ء میں آئی۔ توسیع شہر، فروٹ فام، جیسی نظموں میں مقامیت کو زیر بحث لایا گیا۔

ساہیوال سے ڈاکٹر ندیم عباس اشرف نے مجید امجد کا تصور مقامیت کے حوالے سے بات کی۔مجید امجد اردو جدید شاعروں میں سے ہیں۔ان کی شاعری کا خاص وصف زندگی، مقامیت اور قریب کی اشیاء کو پیش کرنا ہے۔ مجید امجد کی شاعری کا منظر نامہ پنجاب اور سندھ کی دیہاتی منظر نامے سے ترتیب پاتا ہے وہ پہلا شاعرہے جس کے ہاں مقامی بولیوں اور یہاں کے لینڈ سکیپ کو زندہ جاوید کیا گیا۔

انھوں نے فارسی آمیز اردو، ہندی آمیز اردو اور مقامی زبانوں کے امتزاج سے اپنی شعری زبان بنائی۔ اسلام آباد سے ڈاکٹر قاسم یعقوب نے کہا جدید نظم نگاروں میں مجید امجد واحد شاعر ہے جس کے ہاں مقامیت کا تصور بڑی توانائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ حشرات میں اردو نظم میں چیونٹی کو جو موضوع بنایا گیا ہے شاید ہی کسی نے اتنی باریک بینی سے موضوع بنایا گیا ہو۔ چڑیا کو موضوع بنایا گیا ہے۔

افتخار شفیع نے کہا کہ بول وزیر آغا کے ہم تو ایک کونے میں سمٹے ہوئے ہیں ہم ساؤتھ ایشیا کے جو لوگ ہیں ہم پہ دوسروں کی اتنی توجہ نہیں۔ عالمی سطح پہ ایسا کوئی ذخیرہ نہیں جس پر فخر کیا جاسکے۔ انعم نقوی نے کہا کہ فکری اعتبار سے ان کی نظموں کی علامتی اعتبار سے کنواں، توسیع شہر علامتی اعتبار سے ان کے بارے میں لکھا جائے گا۔آخر میں ڈاکٹر سید ریاض ہمدانی نے اظہار تشکر پیش کیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -