سابق صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی کی جانب سے بریت کیلئے درخواست دائر

  سابق صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی کی جانب سے بریت کیلئے درخواست دائر

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اورسابق صوبائی وزیرضیاء اللہ آفریدی کی بریت کے لئے صوبائی انٹی کرپشن کی عدالت میں درخواست دائرکردی گئی ہے ضیاء اللہ آفریدی نے صوبائی انٹی کرپشن کورٹ میں طارق آفریدی ایڈوکیٹ کی وساطت سے ایک درخواست دائرکی ہے جس میں موقف اختیارکیاہے کہ جب اسے صوبائی احتساب کمیشن نے گرفتارکیاتواس وقت احتساب کمیشن کے تفتیشی افسربہرام خان اورنواب خان سرے سے تفتیشی افسرتھے ہی نہیں اوراسی بناء یہ کیس بنتاہی نہیں ہے یہ ایک سنگین نوعیت کی غلطی ہے جس پرباقاعدہ طورپرکیس کے لاء افسرنواب خٹک اوردوسرے لاء افسر نے بھی حکومت کوباربارآگاہ کیاعلاوہ ازیں تنگی کرومائیٹ کیس اوردیگرکیسزمیں بھی اس وقت کے پراسیکیوٹرزنے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف کوئی ٹھوس شواہدنہیں اوریہ ریفرنس دائرنہیں ہوسکتاعلاوہ ازیں تنگی کرومائیٹ کیس میں جلال خٹک کو ملزمان کی فہرست سے نکال کرپراسیکیوشن کے گواہوں میں ڈال کرکیس خراب کردیاگیاہے ماماخیل مائیننگ کیس میں بھی اسی طرح کوئی ثبوت نہیں اسی طرح مزید کہاگیاہے کہ احتساب کمیشن کے پراسیکیوشن ونگ نے ضیاء اللہ کے خلاف تفتیش کرنے والے افسروں کونااہل قرار دیا جس کاباقاعدہ دستاویز21اپریل2016ء کواحتساب عدالت کے ریکارڈ پرموجودہے درخواست کے مطابق کیپٹن(ر)حامدکمال نے بھی ضیاء اللہ کے خلاف کیس کوبلاجوازقراردیاہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -