سماجی اور اقتصادی امور کے فروغ اور باہمی روابط تیز کرنے کی ضرورت: سارک چیمبر

    سماجی اور اقتصادی امور کے فروغ اور باہمی روابط تیز کرنے کی ضرورت: سارک ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر) 80 ویں ایگزیکٹوکمیٹی سارک چیمبرکے اجلاس کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا سارک چیمبر کے تمام ممبر ممالک کے تعلقات کو بہتر کرنے کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، معاشی تعلقات اور دیگر سماجی و اقتصادی امور کے فروغ اور باہمی روابط کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سارک ممالک جنوبی ایشین ممالک پر مشتمل انسانی آبادی کا 25فیصد حصہ جو 1.94 بلین ہے اور ایک بڑی افرادی قوت کی نمائندگی کرتے ہوئے کاروبار اورسرمایہ کاری کے زبردست مواقع موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سارک ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ کرونا وائرس سے دوسرے ممالک کی طرح سارک ریجن کا بھی شدید جانی، مالی نقصان ہو اہے معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔اس صورتحال میں تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر اس وبائی مرض سے نکلنے اور معیشت کی بحالی کیلئے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت انٹرا علاقائی تجارت سارک خطے کی کل تجارت کا محض 5 فیصد ہے جبکہ جنوبی ایشیائی ممالک میں علاقائی تجارت کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے لیکن مضبوط تجارتی پالیسیوں کا فقدان، ناقص انفراسٹرکچر، ناکافی لاجسٹک مینجمنٹ سسٹم جیسے مسائل رکاوٹ ہے۔سارک کی مجموعی تجارت 20 فیصد تک بین الاقوامی علاقائی تجارت میں اضافہ ہمارا حدف ہوناچاہئے۔سارک چیمبر نیشنل چیمبر زکے تعاون سے بین الاقوامی علاقائی تجارت او ر سرمایہ کاری کے فروغ اور مشترک سرگرمیوں کے انعقاد اور گردشی بنیادوں پر تجارتی وفود کے تبادلے کیلئے اپنا کردار اداکرنا ہو گا۔جس سے علاقائی رابطے میں اضافہ، تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع نہ صر ف مدد ملے گی بلکہ بے روزگاری میں کمی سمیت سارک ریجینز کی معیشت بہتر ہو گی۔میری تجویز ہے جو کہ سارک کے آئندہ اجلا س میں پیش کروں گاکہ سارک چیمبر میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سرگرمیوں،سارک ممالک کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری کے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی سمیت، تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔سارک ریجن کو اقتصادی معاملات جیسے باقاعدہ سیفٹا (SAFTA) کے نفاذ کی پیشرفت، مالیاتی و تجارتی قواعد کی ہم آہنگی، سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق امور، عدم محصول کے اقدامات وغیرہ پر باریک بینی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں حاجی غلام علی نے کہاکہ بین اقوامی علاقائی تجارت کو فروغ، بنکاری، زمینی و سمندری رابطہ، انشورنس اور کلیئرنس وغیر ہ کیلئے باقاعدہ لائحہ عمل بنانا 21 ویں صدی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ ویزا، تجارت، سیاحت اور لوگوں کے رابطے میں آسانی پیدا کرنے کیلئے پالیسیوں کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ سارک ممالک میں تاجروں کو سارک ویزا اسٹیکرکی تعدادبڑھا کر 1000کرنے سمیت سارک سی سی آئی کو اپنی نیٹ ورکنگ کو دوسرے علاقائی یعنی سی اے سی سی آئی، ای سی او سی سی آئی وغیرہ کے ساتھ متحرک کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ سارک چیمبر پہلے ہی MoU پر دستخط کر چکا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ سارک ممالک اور اس کی بزنس کمیونٹی کے مابین دیر پادوستانہ روابط کے قیام کیلئے سارک فارما، لیدر، ٹیکسٹائل، زرعی ایکسپوزسمیت کلچراور کھیلوں کے مقابلے سارک ممالک میں منعقد کرانے پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت کی بھی خواہش ہے کہ سارک ممالک کے درمیان دوستی، باہمی تجارت اوربزنس مین کے درمیان اچھے تعلقات قائم رہیں جس کیلئے سارک چیمبر اور خا ص کر سارک ممالک کے نیشنل چیمبرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔عہد ہ سنبھالنے پر ایگزیکٹو اور جنرل اسمبلی ممبران، بزنس کمیونٹی اور ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے افتخار علی ملک او ر حاجی غلام علی کو صدر اور نائب صدر رسارک چیمبر کا عہد ہ سنبھالنے پر مبار ک باد پیش کی اور پھولوں کے ہار پہنائے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -