عرفان اللہ آفریدی کے قتل کیخلاف دھرنا تسلیم ہونے کے بعد ختم

  عرفان اللہ آفریدی کے قتل کیخلاف دھرنا تسلیم ہونے کے بعد ختم

  

باڑہ (نمائندہ پاکستان)عرفان اللہ آفریدی کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف باڑہ میں پچھلے نو دنوں سے جاری احتجاجی دھرنا حکومت کی جانب سے مطالبات ماننے کے بعد اختتام کو پہنچا۔ ڈی پی خیبر محمود اسلم وزیر اور ڈی پی او خیبر کا مقتول عرفان اللہ آفریدی کے گھر آمد اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق باڑہ بازار میں عرفان اللہ کے قتل کے خلاف احتجاجی دھرنا حکومت کی جانب سے مطالبات ماننے کے بعد اجتماعی دعا کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔ اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری اقبال آفریدی، ایم پی اے شفیق آفریدی، باڑہ سیاسی اتحاد کے تمام سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ مقریرین نے احتجاجی دھرنے کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی اگر خدانخواستہ کوئی مسئلہ درپیش آیا تو ہم سب اتفاق اور اتحاد کے ساتھ اس کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر سیاسی اتحادکے سربراہ محمد رفیق آفریدی نے باڑہ پریس کلب کے صحافیوں سمیت ایم این اے اقبال آفریدی اور ایم پی اے شفیق آفریدی کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی مخلصانہ کوششوں سے مطالبات اعلی حکام تک پہنچیں اور ان سے منوانے میں کامیابی حاصل کی۔ اختتامی دعا کے بعد ڈی سی خیبر محمود اسلم وزیر اور ڈی پی او خیبر ڈاکٹر محمد اقبال باڑہ سیاسی اتحاد کے قائدین کے ہمرا شہید عرفان اللہ آفریدی کے گھر گئے اور ان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی اور مقتول کو دعائے مغفرت کی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -