زیورا کی 5ماہ سے ایکسپورٹ معطل، مختلف ممالک کے خریداروں نے سود منسوخ کر نیکی دھمکی دیدی

زیورا کی 5ماہ سے ایکسپورٹ معطل، مختلف ممالک کے خریداروں نے سود منسوخ کر نیکی ...

  

کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان سے سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ 5 ماہ سے معطل ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی اور پروازوں کے آغاز کے بعد ایکسپورٹ آرڈرز پورے کرنے والے ایکسپورٹرز کو وزارت تجارت کے سرخ فیتوں کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ برطانیہ، گلف اور متحدہ عرب امارات کے خریداروں نے سودے۔منسوخ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ایکسپورٹرز کے مطابق ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ کے اجازت نامے جاری کرنے سے انکار کردیا ہے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فروری تک ایکسپورٹ ہونے والے زیورات کی ترسیلات لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو زرمبادلہ کے قوانین کے مطابق مئی تک لائے جاسکتے تھے تاہم کرونا کی وباء اور(بقیہ نمبر30صفحہ7پر)

لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے برامدی ترسیلات کی مدت میں مزید 90 روز کا اضافہ کردیا ہے تاہم ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران ایکسپورٹرز سے مطالبہ کررہے ہیں کہ لاک ڈاؤن سے قبل کی جانے والی ایکسپورٹ کا زرمبادلہ اسٹیٹ بینک کی اضافی مہلت سے پہلے پاکستان لایا جائے اور ایکسپورٹ کے اجازت ناموں کی توثیق بند کردی ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ وہ ایکسپورٹرز متاثر ہورہے ہیں جو خریداروں سے ایڈوانس سونا لے کر زیورات تیار کرتے ہیں ایسے ایکسپورٹرز پر پر نادہندگی کی تلوار لٹک گئی اور غیرملکی خریداروں نے جرمانوں کے ساتھ ایڈوانس گولڈ کی واپسی کا مطالبہ کردیا ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی 90 روز کی اضافی مہلت پر عمل نہ کرنا جیولری انڈسٹری کے ساتھ امتیازی رویہ ہے اس ضمن میں جیم اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت تجارت کو بھیجے گئے مراسلے میں وزارت سے فوری مداخلت اور ایکسپورٹرز کی مشکلات کے خاتمہ کی اپیل کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے سیکریٹری وزارت خزانہ کو آگاہ کیا کہ سونے کی زیورات سے متعلق جاری کردہ ایس آراوکے مطابق سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ ترسیلات 120 روز میں واپس لائی جاسکتی ہے کرونا کی عالمی وباء کہ وجہ سے ایکسپورٹرز یہ ترسیلات پاکستان نہ پاسکے کیونکہ پوری دنیا بالخصوص یورپ امریکا کینیڈا گلف اور دبئی کی مارکیٹیں بند تھیں اس دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 20 مارچ کو فارن ایکسچینج مینوئل میں ترمیم کرتے ہوئے ایک پی ڈی سرکلر نمبر 7 کے زریعے برامدی ترسیلات لانے کی مدت میں مزید 90 روز کی توسیع کردی تاہم۔ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے برآمدی ترسیلات کے لیے اضافی مہلت کا اطلاق نہیں کیا جارہا اور ایسے ایکسپورٹرز جن کے پاس اسٹیٹ بینک کی جانب سے دی جانے والی مہلت موجود ہے نئے ایکسپورٹ آرڈرز کی توثیق نہیں کی جارہی جس سے ایکسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے ایسوسی ایشن نے وزارت تجارت سے اپیل کی ہے کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو سونے کے زیورات کے ایکسپورٹرز کے ساتھ اختیار کردہ امتیازی سلوک ترک کرنے کی ہدایت کی جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -