سلک بینک نے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

  سلک بینک نے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) گزشتہ روز سلک بینک نے اپنے 30 ستمبر،2019، 31 دسمبر،2019 اور 31 مارچ، 2020 کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا۔بینک نے غیر مستحکم اکاؤنٹس کی احتیاط سے شناخت کے ذریعے اپنی بیلنس شیٹ کے منافع کو مستحکم بنایا اور مارچ2020 کی سہ ماہی میں انتہائی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔بینک نے یہ بھی بتایا کہ گرتی ہوئی رعایتی شرح کے منظر نامے میں،یہ ایک پی آئی بی پورٹ فولیو قائم کررہا ہے، جو اس وقت تقریباََ 91 بلین روپے پرہے۔بینک نے ستمبر،2019 سے مارچ،2020 تک کی مدت کے حوالے سے پہلے ہی 1.5 بلین روپے کا سرمایہ کارانہ منافع حاصل کیا ہے اور 2020 کی دوسری سہ ماہی میں 4.4 بلین روپے کا متاقابلِ ذکر نفع اور تقریباََ 1.4 بلین روپے کا مارک ٹو مارکیٹ(MTM) بک کرچکا ہے۔ملک میں درپیش معاشی صورتحال کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ کے نرخوں میں کمی کے سبب سال 2019 میں بینک کی کارکردگی کم رہی۔جس کے نتیجے میں بینک کو وصولیابی کے ایک جامع منصوبے کے ساتھ محتاط بنیاد پر منافع بخش ریئل اسٹیٹ قرضہ جات کی درجہ بندی کرنا پڑی۔مزید برآں، اپنے گزشتہ معائنہ کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ریئل اسٹیٹ پورٹ فولیوکی ضمانتوں کے حوالے سے سیکیورٹی کے فقدان/کمی کی نشاندہی کی۔ہر چند یہ کہ ایس بی پی کے تعاون سے اس کمی کو موزوں کو طور پرپورا کرلیا گیااور بینک نے اسٹیک ہولڈرز کے مفاد ات کے تحفظ کے لیے ضروری سرمایہ کاری حاصل کرلی ہے۔بینک کو آنے والی دو سہ ماہی میں ان قرضہ جات کے حوالے سے خاطر خواہ ادائیگیوں اور بینک کی مالیات میں بہتری کی توقع ہے۔دستاویزات،طے شدہ وقت پر عمل کے ساتھ مستقبل میں اہم ریئل اسٹیٹ پورٹ فولیو کی فروخت کو ظاہر کرتی ہیں۔ریئل اسٹیٹ پورٹ فولیو کو باضابطہ بنانے کے ساتھ پی آئی بیز میں حاصل ہونے والا سرمایہ کارانہ نفع، نہ صرف 2020 میں مستحکم منافع جات کو یقینی بنائے گا، بلکہ بینک کے سرمایہ کی پوزیشن کو بھی طویل وقت تک بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔سال 2020 میں بینک مثبت آؤٹ لک کا حامل ہے کیوں کہ اس کے ریٹیل اور کنزیومر بینکنگ کے امور(کاروبار) بہترین انداز میں کام کررہے ہیں اور یہ رہن (مارگیج)نیز آٹو فنانس، ایس ایم ای بزنس اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹ پر اضافی توجہ کے ساتھ مستقبل کی حکمت عملی پر کام جاری رکھے گا۔سلک بینک سینئر بینکر شوکت ترین کی سرپرستی میں ایک بین الاقوامی کنزورشیم کی ملکیت ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -