غربت کے خاتمے کی چھوٹی چھو ٹی مگر بڑی کہانیاں

غربت کے خاتمے کی چھوٹی چھو ٹی مگر بڑی کہانیاں
غربت کے خاتمے کی چھوٹی چھو ٹی مگر بڑی کہانیاں

  

چین 2020 میں  اپنے ملک سے غربت کے خاتمے کا ہدف حاصل کرلے گا۔2019 کے اختتام تک ستتر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا جاچکاہے ۔ غربت کے خاتمے کیلئے بڑے جامع اور تفصیلی انداز میں منصوبہ بندی کی گئی ۔ اور مختلف منصوبوں اور ماڈلز کے تحت ملک کے طول وعرض میں واقع پسماندہ آبادیوں کی نشاندھی کرکے غربت سے نکالا گیا۔ غربت کے خاتمے کی یہ کہانیاں سبق آموز بھی ہیں اوردلچسب بھی۔ چند  آپ کی خدمت میں پیش کررہاہوں۔ تاکہ ہم بھی اپنے ملک سے غربت کے خاتمے کے سلسلے میں  ان سے سیکھ سکیں۔ 

یازاچین کے صوبے گان سو کے دورافتادہ پہاڑی علاقے  میں واقع ایک پسمناندہ گاؤں  تھا ۔ ماضی میں اس گاوں تک آمدورفت کی سہولت نہیں تھی اور میٹھا پانی بھی دستیاب نہیں تھا جس  کی وجہ سے مقامی لوگ نہایت مشکل زندگی گزاررہے  تھے ۔ تاہم یہ گاوں اور اس کے آس پاس کا علاقہ قدرتی حسن سے مالا ما ل تھا ۔  ارد گرد رہنے والے اور دوسرے علاقوں کے لوگ اس گاوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی سیر کرنا چاہتے تھے لیکن گاوں تک پہچنے اور گاوں کے اندر مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہ  ممکن نہیں تھا  ۔ غربت کے خاتمے کے منصوبے کے تحت حکومت نے گاوں تک سڑک کی تعمیرکی، میٹھے پانی کا بندوبست کیا، اور دکانوں کی ازنو تعمیر اور سجاوٹ  کی۔ گاؤں  کے  سربراہ کی رہنمائی میں گاؤں کے پچیس خاندانوں نے نجی ہوٹل کھولے  ۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اب یہ گاوں غربت سے نکل آیاہے اور یہان کے مکین خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

غربت سے نجات کی اس سے ملتی جلتی کہانی چین کے جنوبی صوبہ ہائی نان کے بو ہو گاؤں  کی بھی ہے ۔یہ گاوں بھی قدرتی وسائل سے مالامال تھا لیکن اس میں رہنے والے کسان انتہائی غربت کی زندگی گزاررہے تھے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ روز گار  کے حصول کے  لیے دوسرے علاقوں کا رخ اختیار کیا ۔ دو ہزار تیرہ میں مقامی حکومت نے سیاحتی شعبے کو فروغ دینے  کا آغاز کیا منصوبے کے تحت کسانوں کے مکانات کو نجی ہوٹلوں میں تبدیل کیاگیا ۔ اس وقت  اس وقت گاؤں میں تیرہ سو کمروں پر مشتمل چوالیس نجی ہوٹل قائم ہو چکے ہیں ۔  اس کے علاوہ گاوں کو سیاحتی مقام میں تبدیل کردیا گیاہے ۔یہاں رہنے والے کسانوں کی آمدنی میں خوب اضافہ ہوگیا ہے ۔ اور اب وہ  اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید اورپر اعتماد ہیں ۔

اور اب تھوڑی الگ نوعیت کی کہانی ۔ چین کے شمالی علاقے میں واقع حہ زے  قومیت کے رہنے والوں کی اکثریت  ماہی گیری سے وابستہ تھی ۔ پچھلی صدی کے آخر میں ماہی وسائل میں کمی کی وجہ سے اس قومیت کے لوگوں  کو بقا کا مسئلہ درپیش آگیا ۔ حکومت نے متبادل کے طور پر کاشت کاری اور مویشی بانی کے منصوبے متعارف کروائے۔ مقمی رہنماوں نے وافر قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاحتی شعبے کی ترقی کی بھر پور کوشش کی ۔  جس کے نتیجے میں گزشتہ تین سالوں کے دوران چالیس ہزار سے زائد سیاحوں نے  ان دیہات کا سفر کیا ۔اور سیاحت سے حاصل ہونے والی  آمدنی تقریباً دس لاکھ یوان رہی ۔ اب  گاؤں کی فی کس آمدنی بائیس ہزار چینی یوان تک پہنچ چکی ہے ۔ گاؤں کے چودہ غریب خاندانوں نےغربت سے نجات حاصل کرلی ہے۔  اتنی خوشحالی آئی ہے کہ گاؤں نے اپنی ضرورت کے مطابق دو بڑے مسافر برادر جہاز بھی  خریدلیے ہیں۔ جس سے سے گاؤں کی آمدن میں سالانہ چالیس لاکھ کا مزید اضافہ متوقع ہے۔

چین کے شمالی علاقے میں صوبہ حہ لونگ جیانگ واقع ہے ۔ گزشتہ سالوں میں اس صوبے میں واقع  شینگ ہو گاؤں کے کسانوں کی اکثریت روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں میں ہجرت کر گئی۔ یوں کاشت کاری تعطل کا  شکار ہو گئی اور دیہی زندگی بے رونق ہوگئی۔ دو ہزار اٹھارہ میں گاؤں کے رہنماؤں کی ہدایت پر محترمہ ہان لیو ہوا گاؤں میں واپس آ ئیں اور دوسرے کسانوں کی رہنمائی کر تے ہوئے کھادوں سے پاک  سبزیاں اگانے لگیں۔ ۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کی آمدنی میں خوب اضافہ ہوا ۔  خوشحال دیہات حکمت عملی کے تحت اس وقت شینگ ہو گاؤں زرعی پیداوار ، سیروسیاحت اور ثقافت کے حامل خوبصورت دیہات میں شامل ہو چکا ہے،جہاں ترقی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے ۔

غربت کے خاتمے میں جدید ٹیکنالوجی نے زبردست کردار ادا کیاہے۔ چین کے اندرونی منگولیا میں  تھائی پنگ گو گاؤں واقع ہے ۔ یہ ایک بہت خوبصورت  اور سرسبز گاؤں ہے ۔اس گاؤں کی کھاد سے بغیر  خالص قدرتی زرعی پیداوار  لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے ۔ گاؤں کی دا یو نامی لڑکی نےاپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر  دو سال پہلے آن لائن ویڈیو کے ذریعے خوراک کی براہ راست فروخت شروع کی ۔ اس کے نتیجے میں یہاں  کی مقامی  پیداوار دیکھتے ہی دیکھتے پورے  چین میں مقبول ہوگئی۔ اور کسانوں  کی آمدنی میں خوب اضافہ ہوا ۔ اور اب اس گاوں کے لوگ خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔

اور آخر میں ایک ایسے باہمت نوجوان کی کہانی جس نے اپنی  محنت اورحکومت کی سرپر ستی سے وہ کرد کھایا جو بہت سے نوجوان وں کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتاہے۔

انتالیس سالہ جانگ دع ہوا  چین کے صوبہ حو نان کے شہر ای یانگ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ  کم عمری میں ہی باپ کے سائے سے محروم ہو گیا ۔ اسی باعث نوعمری میں ہی اسے اسکول کو چھوڑ کر ملازمت اختیار کرنی پڑی ۔ مشکلات نے اسے سخت جان اور محنتی بنا دیا ۔ وہ اپنی قوتِ بازو سے  کامیابی حاصل کرنا چاہتا تھا۔دو ہزار آٹھ میں شہر ای یانگ کی جامع امدادی پالیسی کے تحت چانگ دع ہوا اپنا ذاتی  کاروبار شروع کرنے کے لیے اپنے آبائی وطن واپس آگیا۔

جانگ دع ہوا کے خیال میں اس کی تقدیر کو بدلنے والا لفظ "علم "تھا۔ ان تمام سالوں میں  ، جانگ دع ہوا نے نا صرف خود سے تیاری کر کے امتحانات دیئے اور کالج کا ڈپلومہ حاصل کیا ، بلکہ بیچلر ڈگری کے لیے بھی سخت محنت کرتے رہے۔اپنے کاروبار کے دوران اسے علم کی طاقت کا احساس بہت شدت سے ہو ا۔خوش قسمتی سے ، ای یانگ یوتھ انٹرپرینیورشپ بیس کے ذریعے ، جانگ دع ہوا نے حو نان زرعی یونیورسٹی کے کالج آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے سبزیوں کا پروسیسنگ پلانٹ لگایا۔اس وقت جانگ دع ہوا کی کمپنی ای یانگ میں 1193 غریب گھرانوں کی مدد کرچکی ہے۔

نئے دور کے نئے کسان کیسے ہونے چاہئیں ؟اس بارے میں ان کی رائے ہے کہ  نئے  کسان کے پاس علم ، ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانےکی سوچ ہونی چاہیے۔جانگ دع ہوا مسقبل میں اپنے ہم وطن دیہاتیوں کے ساتھ ایک اور انداز کا جدید کسان بننے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اپنے آبائی شہر کی زرخیز زمین کو خوشحال بنانے کے لیے سخت محنت کرنا چاہتے ہیں۔

۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -