ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبوں کے فروغ کو ترجیح حاصل ہے: محمود خان

ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبوں کے فروغ کو ترجیح حاصل ہے: محمود خان

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے موجودہ صورتحال میں ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبوں کے فروغ کو موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ان شعبوں کو نجی سرمایہ کاری کے لئے پر کشش بنانے اور سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات اور سہولیات دینے کے لئے ایک قابل عمل اور جامع پلان تشکیل دیکراس پر عملدرآمد کے لئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز مقر رکئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ نجی شعبے میں ہاؤسنگ اسکیموں کے لئے زمین کی خریداری اور نقشوں کی منظوری سمیت تمام مراحل کو آسان سے آسان بنانے کے لئے متعلقہ رولزاور قواعد وضوابط میں ضروری ترامیم کئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو صوبے کی طرف راغب کیا جا سکے۔ یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز مذکورہ شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں ان شعبوں کو فوری طور پر ترقی دینے کے لئے سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور مراعات کی فراہمی سے متعلق مختلف اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیرقانون سلطان محمد خان، وزیر ہاؤسنگ امجد علی خان اور معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا صورتحال کے پیش نظر حال ہی میں آرڈیننس اور ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو صوبائی ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ کو باقاعدہ قانونی شکل دینے سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں اور صارفین کے تمام حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس موقع پر ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبوں کو ہر ممکن سہولیات اور مراعات دینے پر اتفاق کیا گیا اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے خواہشمند لوگوں کو بینکوں کے توسط سے قرضوں کی فراہمی کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نجی ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری کے لئے تمام مراحل کو آسان بنانے کے لئے متعلقہ قوانین اور رولز میں ضروری ترامیم کے مسودے منظوری کے لئے کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں اور صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ان مواقع کو استعمال میں لاکر صوبے میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے اور لوگوں کے رہائشی مسائل کے حل کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے گی۔انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ اگلے چند مہینوں کے اندر صوبے میں ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبوں میں بڑے بڑے منصوبوں پر ٹھوس اور عملی پیش رفت کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو دریائے سوات پر غیر قانونی عمارتوں اور دیگر تجاوزات کے خلاف مرحلہ وار کاروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں پر کام کو فوری طور پر روک دیا جائے اور دریا سوات کے آس پاس قائم ہوٹلوں کے مالکان کو اپنے ہوٹلز کے سیوریج کے نظام کو درست کرنے کیلئے وقت دے کر اُس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ دریاؤں کو آنے والی نسلوں کی امانت قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں دریاؤں کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک کیا جائیگا اور ان دریاؤں کے کنارے ناجائز تعمیرات کو روکا جائیگا تاکہ سیلاب آنے کی صورت میں جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ محکمے اور ادارے اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کریں۔ وہ گزشتہ روز اس حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈوکیٹ جنرل شمائل احمد بٹ، کمشنر ملاکنڈ ریاض محسود، ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو دریائے سوات پر تجاوزات کی موجودہ صورتحال، تجاوزات کے خاتمے کے لئے اب تک کی گئی پیش رفت اورآئندہ کے لائحہ عمل پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ دریا کے کنارے غیر قانونی تجاوزات کی وجہ سے دریا کے پانی کا بہاؤ متعدد مقامات پر متاثر ہو چکا ہے۔ کالام سے کالاکوٹ تک متعدد مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں تجاوزات دریا کو کسی نہ کسی صورت میں متاثر کر رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے تجاوزات کے خلاف مرحلہ وار کاروائی کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ دریاؤں پر ناجائز تجاوزات کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریا ؤں کے کنارے غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے نہ صرف دریاؤں کا پانی آلودہ ہوجاتا ہے بلکہ ان کی وجہ سے انسانی جانیں بھی خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے میں دریاپر غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کو بند کیا جائے اور ساتھ ہی ہوٹل مالکان کو اپنا سیوریج نظام درست کرنے کے لئے وقت دیا جائے۔ محمود خان نے کہا کہ دریا ئے سوات سے خطے کا مستقبل وابستہ ہے جس کو محفوظ بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اوردریا کے کنارے ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کو بروقت روکنے کے لئے اقدامات کریں۔

مزید :

صفحہ اول -