اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشتگرد حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشتگرد حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

  

کراچی(کرائم رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، اور دہشت گردوں کو قندھار سے ہدایات دی جارہی تھیں،دہشت گردوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پہنچنے کیلئے لیاری ایکسپریس وے استعمال کیا، لیاری ایکسپریس وے غریب آباد انٹر ایکسچینج سے چڑھے اور ماڑی پور انٹر چینج سے ٹاور پہنچے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والے موبائل فون کا ریکارڈ تحقیقاتی اداروں نے حاصل کرلیاہے۔اس حوالے سے تفتیشی حکام نے بتایاکہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان تک جا پہنچے ہیں، دہشت گردوں کو سہولت کاری اور ہدایات دینے والا افغانستان کے شہرقندھار سے تعلق رکھتا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق دہشت گردوں سے ملنے والے موبائل فون سے افغانستان کی کال ٹریس ہوگئی ہے، مزید کالز کاریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے خریدی گئی کار کے شو روم پر سیکیورٹی اداروں نے چھاپہ مارا ہے، چھاپے کے دوران شو روم کے مالک سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔ذرائع کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے متعلق شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں، شوروم کے مالک نے گاڑی کی ملکیتی دستاویزات اداروں کے حوالے کیں۔سیکیورٹی اداروں نے شوروم کے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی حاصل کرلی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں خریدار کو گاڑی کا سودا کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ گاڑی کے شوروم سے روانگی کی فوٹیج بھی کیمرے میں فلم بند ہے۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج پہنچنے کیلئے لیاری ایکسپریس وے استعمال کیا۔ دہشتگرد لیاری ایکسپریس وے غریب آباد انٹر ایکسچینج سے چڑھے اور ماڑی پور انٹر چینج سے ٹاور پہنچے۔دہشتگرد کسٹم ہاؤس کی جانب سے ہوتے ہوئے براہ راست اسٹاک ایکسچینج تک آئے۔ ممکنہ طور پر لیاری ایکسپریس وے کا راستہ سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے اختیار کیا۔ادھر تفتیشی حکام نے غریب آباد سے اسٹاک ایکسچینج تک کی جیوفینسگ مکمل کر لی ہے جبکہ غریب آباد کی طرف آنے والے تمام راستوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -