تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟
تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

  

آزادی اظہار رائے کسی بھی معاشرے کی ترقی اور اس کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے، مگر رائے کی آزادی خواہ وہ کسی عوامی جگہ پر ہو یا نجی سطح پر،سیاسی یا کاروباری مقاصد کے لیے ہو یا فلم، کتابوں تصاویر اور تقاریرکی صورت میں ٹی وی اور سوشل میڈیا پر، ہر صورت میں یہ یقیناً معاشرے کی بقاء، اس میں امن کے قیام اور اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے، اس میں بسنے والے ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ لیکن ایک خاص نظریے، ثقافت، مذہب اور پیشے کے فرد کے لیے اس ”رائے“ کا معیار کیا ہے اور جو کچھ وہ سوچتا، سمجھتا یا جانتا ہے اس کی ترویج میں وہ کس حد تک خود مختار ہے، اس کا احاطہ کرنا بھی بہت ضروری ہے، ورنہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں آج دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یقیناً اس معاملے میں کسی خاص ضابطے یا اصول کے فقدان کا ہی نتیجہ ہے۔

روم و فارس میں قیصر و کسریٰ کا اثرو رسوخ اور اقتدار اس بنیاد پر قائم تھا کہ ان کے حکم اور طریقہ کار کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز خاموش کر دی جائے ؛ عرب میں ’بت‘ خدا مانے جاتے تھے کیوں کہ کسی میں بھی ان کی بے بسی اور لوگوں کی بے وقوفی پرآواز اٹھانے کی ہمت نہیں تھی ؛یورپ میں پادری ”کوپرنکس“ کو پھانسی لگا دیتے تھے تاکہ ان کی کہی ہوئی بات کوئی رد نہ کر سکے ؛ وقت کے امام اندھیر کو ٹھریوں میں قید کر دیے جاتے تاکہ ظالم حکمران اپنے تاج و تخت کو بچا سکیں۔

ہمارے ہاں آج کل اظہار رائے کی آزادی کی ایک عجب رسم چل نکلی ہے۔  ایک پارٹی ، ایک سوچ اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ محض بغض میں دوسروں کے  اچھے کاموں کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔   ہمارے مذہب نے تو دشمن کو بھی گالی دینے سے منع کیا ہے اور یہاں اپنے اپنوں کو گالیوں سے نواز رہے ہیں۔

آج کل سوشل میڈ یا پر ایک ٹرینڈ چل رہا ہے  کہ عوام اپنے لیڈرز کو گالیاں دے رہے ہیں اور مزاحیہ انداز میں اپنے وزیر اعظم کی تضحیک کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص وزرات عظمیٰ کے منصب پر فائز ہے تو یہ عزت اللہ کریم کی عطا کردہ ہے۔ اللہ جسے چا ہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتاہےذلت سے نوازتا ہے۔ ارطغرل نے 60 سال جہاد کیا ، عثمان 35 سال تک لڑا ، قریب ایک صدی بعد "سلطنتِ عثمانیہ" قائم ہوئی جو 7 سو سال تک قائم رہی اور ہم چاہتے ہیں عمران خان پچھلے 70 سالوںکی غلطیوں کا ازالہ دو سالوں میں  کردے اور مُلک ریاست مدینہ بن جائے۔

مزے کی بات یہ کہ ہمارے اعمال بدترین قوموں سے بھی بد تر ہوں  اور  ہم اپنی غلطیوں کو سدھارنےکے لئے سنجیدہ بھی نہ ہوں۔ اس صورت حال میں ہم اور آ پ کون ہو تے ہیں کسی کو برا بھلا کہنے والے جبکہ ہما رے مذہب میں تو دشمن کی بھی عزت کرنے کا حکم ہے جبکہ ہم  لو گ اپنے ہی لوگوں کی تضحیک کر رہے ہیں۔

 میں  توکسی پا رٹی کے خلاف ہوں اور  نہ ہی کسی کے حد سے زیادہ حمایتی تاہم میں محب وطن پاکستانی ضرورہوں جو ان حالات پر کڑھتی ہے ۔ٹھیک ہے   بہت سی حکو متی پالیسیوں سے مجھے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ میں اپنے دل کی بھڑاس حکو مت کو گالیاں دے کر نکالوں ۔نہ جانے کیا ہو گیا ہے ہماری قوم کونوجوان تو نوجوان اچھے خاصے سمجھدار بزرگ لوگ بھی اسی رو ش کا شکار ہیں ذرا غور کیجئے  ہم مختلف سیاسی وابستگیوں کی وجہ سےحق بات کو بھی ایک دوسرے کے بغض کی وجہ سے جھٹلا رہے ہیں۔ کیا بحثیت  قوم ہمارا یہ رویہ درست ہے کیا ہم نے خدا کو جواب نہیں دینا؟کیا آ زاد ی رائےکا مطلب دوسروں کی تضحیک ہے؟

 اب بھی نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے! ماضی میں اسی اتحاد کے فقدان کی وجہ سے مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھا یا ہے  آج مسلمان  ہر جگہ پستی کا شکار ہیں ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں کشمیر، شا م ،برما ،فلسطین اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔مغربی میڈیا اور اقوام متحدہ ان مظالم پر خا موش تماشائی بنے ہوئے ہیں  ۔آج انسان کی زندگی کتنی ارزاں ہوگئی ہے۔وہ انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا  ،حیرت ہے کہ انسانیت کا علمبردار اقوام متحدہ اور دوسری این جی اوزاتنے وسیع پیمانے پر ہونے والے مسلمانوں پر مظا لم اور اتنے اذیت ناک حالات پر چپ کیوں ہیں۔

دنیا کے کسی بھی کونے میں دوسرے مذاہب کے افراد کے ساتھ ذرا سی نا انصافی پر ہر کوئی متحرک ہو جا تاہے مگر میڈیا کے اتنا واویلہ کرنےاور مسلمانوں پر بے بہا ظلم ڈھا نے بلکہ انھیں صفحہ ہستی سے مٹا نے کی ہر  سازش اور بہیمانہ رویہ کے با وجود کسی کی زبان تک نہیں ہلتی۔کیونکہ ہم خود خاموش ہےیں ہمیں آ پس کے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔ ایک پار ٹی  کے لوگ دوسری کو مورد الزام ٹھہرا نے سے بعض نہیں آرہے تو ہم دنیا کی توجہ ان مظالم کی طرف  کیسے مبذول کر وائیں۔

سوشل میڈیا بہت بڑا ہتھیا رہے  لیکن اسے ہم ایک دوسرے کے خلاف  استعمال کر رہے۔ کیا ہم جھوٹ ،بد دیانتی، دھوکہ دہی ،منا فع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا شکا رنہیں  ہیں۔ان تمام برائیوں کی مذمت میں احادیث وقرآنی آیات  کے ذریعے ایک دوسرے کی اصلاح کے بجا ہے  پوری قوم ہنسی مذاق اور طنزو مزاح میں مصروف ہے ۔خدابھی  اسی قوم کی حالت نہیں بدلتا ہے جو خود کو بدلنا نہیں چاہتی۔ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ (الرعد، آیت 11) بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے۔  ہمیں چا ہیے کہ ہم خود کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ ہم بطور بہترین امت اور بہترین قوم  اپنے ملک کو تر قی کی راہ پر گا مزن کر سکیں۔

ایک تھے تو بنا تھا پاکستان

ایک رہیں گے تو بچے گا پاکستان

.

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -