اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں ،سپریم کورٹ نے آغا افتخار الدین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا

اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں ،سپریم کورٹ نے آغا افتخار الدین کو توہین ...
اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں ،سپریم کورٹ نے آغا افتخار الدین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے آغا افتخار الدین مرزا توہین آمیز وڈیو ازخود نوٹس کیس میں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آئندہ سماعت پر آغا افتخار الدین مرزا کو پیش کریں ،اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں آغا افتخار الدین مرزا توہین آمیز وڈیو ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس پاکستا ن نے کہاکہ آغاافتخار مرزا کی طرف سے کون پیش ہو رہا ہے، وکیل نے کہاکہ آغا افتخارالدین مرزا نے غیرمشروط معافی نامہ جمع کرا دیا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ ججز کا نام لے کر توہین کی گئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معافی نامہ ہمارے سامنے نہیں ہے، ایف آئی اے کی رپورٹ فائل ہوچکی،ایسی زبان تو گلیوں میں بھی استعمال نہیں ہوتی، افتخارالدین مرزا کا اپنا ویڈیو چینل ہے، اس سے پیسے کماتے ہیں،افتخارالدین مرزا کی ویڈیو کسی بچے کی بنی ہوئی نہیں،جو الفاظ استعمال کیے گئے کیا ایسے الفاظ استعمال کیے جاسکتے تھے؟

وکیل نے کہاکہ گزشتہ سماعت پرآغاافتخارالدین عدالت آئے تھے پولیس نے پیش ہونے نہیں دیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ معافی نامہ دینے کا فائدہ نہیں ہوگا،چیف جسٹس پاکستان نے افتخار الدین مرزا کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ افتخارالدین کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیتے ہیں ،آپ کو اس کیس کی نوعیت کا اندازہ نہیں،آپ کیس کو بہت ہلکا لے رہے ہیں۔

وکیل نے کہاکہ میرے موکل آغا افتخار الدین مرزا دل کے مریض ہیں،چیف جسٹس پاکستا ن نے کہاکہ ہم کیا کریں، ان کو اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اٹارنی جنرل کے مطابق یہ فوجداری اور دہشتگردی کاجرم بھی بنتا ہے ،فوجداری مقدمہ ،انسداد دہشتگردی کے مقدمے میں معافی نہیں ہوتی ،ملزم نے تو معاف مانگ کر اپنا جرم تسلیم کرلیا،آغاافتخار الدین مرزاکہہ رہے ہیں میں نے جرم نہیں کیا،ایف آئی اے کے سامنے ملزم نے تسلیم کیا7 نمازیوں کے سامنے ویڈیو ریکارڈہوئی ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ معافی نامے کابیان حلفی قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں ،سادہ کاغذپر لکھ کر دیاگیا،معافی نامہ پڑھیں کیا لکھا ہے اس مقدمے کو عام مقدمے کی طرح نہ لیں ،آغاافتخار الدین مرزا کو ابھی سزا سنادیں گے کئی ماہ جیل میں رہنا پڑے گا۔

عدالت نے آغا افتخار الدین مرزا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 15 جولائی تک ملتوی کردی،سپریم کورٹ نے آغا افتخار الدین مرزا سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیاچیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آئندہ سماعت پر آغا افتخار الدین مرزا کو پیش کریں ،اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -