”روزویلٹ ہوٹل نہیں بیچا جائے گا“ حکومت کو ’حکم‘ مل گیا

”روزویلٹ ہوٹل نہیں بیچا جائے گا“ حکومت کو ’حکم‘ مل گیا
”روزویلٹ ہوٹل نہیں بیچا جائے گا“ حکومت کو ’حکم‘ مل گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری کی ایک میٹنگ میں نیویارک میں واقع پی آئی اے کے ملکیتی روزویلٹ ہوٹل کا ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر چرچا شروع ہو چکا ہے تاہم معروف صحافی طلعت حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کو یہ ہوٹل فروخت نہ کرنے کا ”حکم“ دیدیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق طلعت حسین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں لکھا ” عمران حکومت کو روزویلٹ ہوٹل بیچنے سے متعلق منصوبے ترک کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔ دوہری شہریت کے حامل وہ افراد جو ملک و قوم کے نقصان کے عوض ذاتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کیلئے یہ دھچکا ہے۔ دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے۔“

واضح رہے کہ نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کے قیام کو ایک صدی ہو گئی ہے جس کا افتتاح 23 ستمبر سن 1924ءمیں ہوا تھا۔ امریکی صدر تھیوڈر روزویلٹ کے نام پر بنائے گئے اس ہوٹل کی تعمیر پر اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر رقم صرف ہوئی تھی۔ یہ ہوٹل ایک خفیہ زیر زمین راستے سے نیویارک کے گرینڈ سینٹرل سٹیشن سے بھی جڑا ہوا تھا۔

روزویلٹ ہوٹل دنیا بھر میں وہ پہلا ہوٹل تھا جس نے اپنے مہمانوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چائلڈ کیئر اور پالتو جانوروں کیلئے بھی خصوصی سروس مہیا کرنا شروع کی تھی۔ اس کے علاوہ 1947ءمیں روزویلٹ وہ پہلا ہوٹل تھا جس نے کمروں میں ٹیلی ویژن سیٹ مہیا کیے۔

کونریڈ ہلٹن نے 1943ءمیں یہ ہوٹل خرید لیا لیکن بعد ازاں وہ والڈورف ایسٹوریا اور دی پلازہ جیسے اعلیٰ معیار کے ہوٹلوں کے مالک بھی بن گئے مگر انہوں نے اپنا قیام روزویلٹ ہوٹل کے صدارتی سوئٹ میں ہی رکھا۔سن 1979ءمیں پی آئی اے نے سعودی عرب کے شہزادے فیصل بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے ساتھ مل کر اس کو لیز پر حاصل کر لیا۔ اس لیز کی شرائط میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ 20 برس بعد اگر پی آئی اے چاہے تو اس ہوٹل کی عمارت بھی خرید سکتی ہے۔

سن 1999ءمیں پی آئی اے نے اس شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہوٹل کی عمارت کو تین کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں خرید لیا۔ پی آئی اے کو ہوٹل کی عمارت خریدنے سے پہلے ہوٹل کے اس وقت کے مالک پال ملسٹین کے ساتھ ایک طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی کیونکہ پال ملسٹین کا خیال تھا کہ ہوٹل کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اس سے قبل سن 2005ءمیں پی آئی اے نے سعودی پرنس کے ساتھ ایک سودے میں روزویلٹ کے 99 فیصد شیئرز خرید لئے اور سعودی شہزادے کے پاس صرف ایک فیصد شیئر ہی رہ گئے۔سن 2007ءمیں پی آئی اے نے ہوٹل کی مرمت اور از سر نو تزئین و آرائش کا کام شروع کیا جس پر چھ کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچہ آیا۔ اس کے بعد پی آئی اے نے اپنے مالی خصاروں کو پورا کرنے کے ہوٹل کو بیچنے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا لیکن بعد میں یہ فیصلہ ترک کر دیا گیا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -