نئے ماڈل آئین نے کلب کرکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، نوجوانوں کیلئے تشویشناک خبر

نئے ماڈل آئین نے کلب کرکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، نوجوانوں کیلئے ...
نئے ماڈل آئین نے کلب کرکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، نوجوانوں کیلئے تشویشناک خبر

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے ماڈل آئین نے کلب کرکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا جبکہ وقف شدہ گراﺅنڈ، 3ٹرف پچز، جم اور لیول ون کوچ کی شرائط پر پورا اترنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق نئے ماڈل آئین میں ہرٹیم کیلئے ایک ایسا وقف شدہ گراﺅنڈ لازمی قرار دیا گیا جو کسی دوسرے کے زیر استعمال نہ ہو، متعدد نیٹس،3 ٹرف پچز اور وقف شدہ مدت کیلئے جمنازیم کا ہونا بھی ضروری ہے،کسی سیاسی عہدیدار، وزیر، رکن اسمبلی، ناظم یا کونسلر وغیرہ کے ساتھ سرکاری ملازم کو بھی کلب میں عہدہ نہیں دیا جا سکتا۔

کرکٹ آرگنائزرز نے ان شرائط کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہروں میں کتنے میدان ہیں جو کلبز کو دستیاب ہوسکیں،کئی گراﺅنڈز کی مینجمنٹ ہفتے یا اتوار کو صرف ایک میچ کھیلنے کا 15 سے 20 ہزار روپے کرایہ وصول کرتی ہے، لیز پر بھی ہو تو روزانہ کے 5 ہزار روپے کون دے گا؟

اگر کسی کے پاس گراﺅنڈ ہو بھی تو3 ٹرف پچز کی تیاری پر 4 لاکھ روپے کون خرچ کرے گا؟ کوئی اپنا جمنازیم بنائے تو 40 سے 50 لاکھ کی لاگت آئے گی، کرائے پر بھی حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا، لاہور میں 50 کے قریب لیول ون کوچز ہیں، 133 کلبز کی ضرورت کیسے پوری ہو گی؟ آرگنائزرز کے مطابق کسی دوسرے علاقے سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو کلب میں عہدہ نہ دینے کا فیصلہ درست ہے،اس طرح صرف سیاسی مقاصد کیلئے دوسرے علاقوں سے اٹھ کر عہدوں پر قابض ہونے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی،البتہ کلب کرکٹ اتنی زیادہ محدود ہوگئی تو گراس روٹ سے ٹیلنٹ کس طرح سامنے آئے گا۔

آرگنائزرز نے بتایا کہ لاہور میں ماڈل ٹاﺅن وائٹ اور گرین، علی گڑھ، لاہور جیم خانہ، کرکٹ سینٹر، شاہ فیصل اور نیو اتفاق کے ساتھ شاید 1،2 مزید کلبز گراﺅنڈ کی شرط پوری کرسکیں لیکن جم ان کے پاس بھی نہیں ہوں گے، سیاسی عہدیداروں اور سرکاری ملازمین کو کلبز کیلئے کام کرنے سے روکنے کے بعد سپانسرز کی بھی شدید کمی محسوس ہوگی،ان لوگوں کے اثر و رسوخ اور وسائل سے گراس روٹ لیول پر ملنے والی معاونت بہت کم رہ جائے گی،جہاں پی سی بی کو صوبائی ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کیلئے سپانسرز نہیں مل رہے وہاں کلبز پر پیسہ خرچ کرنے والے کہاں سے آئیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں تو پی ایچ اے کے تحت اور سوسائٹیز میں چند گراﺅنڈز موجود ہیں، ماضی میں ایک پچ پر3 ٹیمیں بھی باری باری پریکٹس کر لیتی تھیں لیکن اب یہ سہولت حاصل نہیں رہے گی، یہی صورتحال کراچی کی ہے، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان سمیت دیگر شہروں میں تو گراﺅنڈز کی تعداد بہت کم ہے، اس صورتحال میں چند ایک کے سوا کلبز کیلئے کوالیفائی کرنا بہت مشکل ہو جائے گا، لاہور میں اگر جم کی سہولت حاصل ہو بھی جائے تو 8 سے 10 تک معیار پر پورا اتر سکیں گے۔

مزید :

کھیل -