نوازشریف کا معاملہ،  جاوید ہاشمی کا دعویٰ اور پھر اقامے پر نااہلی لیکن سپریم کورٹ  کے سابق جسٹس اعجازچودھری کا اس بارے کیا موقف ہے؟ نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

نوازشریف کا معاملہ،  جاوید ہاشمی کا دعویٰ اور پھر اقامے پر نااہلی لیکن ...
 نوازشریف کا معاملہ،  جاوید ہاشمی کا دعویٰ اور پھر اقامے پر نااہلی لیکن سپریم کورٹ  کے سابق جسٹس اعجازچودھری کا اس بارے کیا موقف ہے؟ نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف کو پاناما کیس میں اقامہ رکھنے پر عدالت عظمیٰ نے نااہل قرار دیدیا تھا جس کے بعد انہیں ایوان اقتدار چھوڑ کر رائیونڈ کی راہ لینا پڑی تھی ، اب اس معاملے پر سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ، جسٹس اعجاز چودھری کا موقف بھی سامنے آگیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے لیے سہیل وڑائچ کو دیئے گئے انٹرویو میں پاناما کیس ، وزیراعظم کی نااہلی اور فیصلے کے نقائص کے بارے سوال کے جواب میں اعجاز چودھری نے بتایا کہ "میں 2014ءمیں سپریم کورٹ میں ہی تھا ،2015 دسمبر کی 15 کو ریٹائرڈ ہوا، ملازمت کے دوران ہی وہاں ایک پریس کانفرنس  سنی، ایک دھرنا ہوا تھا عمران خان صاحب کررہے تھے، اس دھرنے میں  جاوید ہاشمی بھی تھے ، میں اور  جاوید ہاشمی صاحب سٹوڈنٹ لیڈر ہوتے تھے ، اکٹھے بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نکالے گی، ہم بڑے حیران ہوئے،  ناصر الملک صاحب چیف جسٹس تھے، میں نے سوچا کہ ناصر الملک صاحب تو بڑے ٹھیک آدمی ہیں، اس قسم کے بندے نہیں لگتے کہ انہوں نے بات چیت کرلی ہو کسی قسم کی ،خیر وہ وقت گزرتا گیا اور پھر نواز شریف کو سپریم کورٹ نے ہی پاناما کیس میں نکالا "۔

سہیل وڑائچ کے سوال کہ "وہ تو جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ کے دور میں نکالا"پر سابق جسٹس اعجاز چودھری نے موقف اپنایا کہ اب پتہ نہیں کس سے ان کی بات ہوئی ہے یہ تو میں نہیں کہہ سکتا،پریس کانفرنس انہوں نے کی، پھر یہ کام تو ہوا، سپریم کورٹ نے ہی نوازشریف کو نکالا ۔

اقامہ کی بنیاد پر نااہلی کے بارے سوال پر جسٹس اعجاز چودھری نے کہاکہ بہت سارے سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں جن کو لوگوں نے  اچھے دل سے تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ یہ فیصلے درست نہیں ہیں، ان میں ذوالفقار علی بھٹو کا کیس ہے، کب سے چل رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں، اس وقت بھی پیپلزپارٹی بہت سارا شور ڈالتی تھی او راس طرح کے کئی فیصلے ہیں، یہ بھی اسی طرح کا ایک فیصلہ ہے۔

جسٹس ثاقب نثار اورجسٹس کھوسہ  کے نوازشریف کے دور میں جج ایلیگٹ ہونے اور کوئی مشکلات یا تحفظات کے پیدا ہونے کے بارے سوال پر جسٹس اعجاز احمدچوہدری نے بتایا کہ "جب ان کا سال پورا ہوا ایڈیشنل جج کے طور پر تو ان کو کنفرمیشن کے لیےچیف جسٹس نے ریکمنڈ کردیا ،نوازشریف نے بھی صدر تارڑ کو کیس آگے بھجوادیا تھا،   رفیق تارڑ   نے کوئی اعتراض کیا کہ ان کو ابھی ایک سال کے لئے ایکسٹینڈ کیا جائے، اس وقت نے پڑھا تھا کہ نواز شریف شریف پریذیڈنٹ ہاﺅس آئے لیکن پریذیڈنٹ صاحب اس بات پر اڑے رہے، تو پریذیڈنٹ والی بات  ماننی پڑی۔

پھر سہیل وڑائچ نے کہاکہ یعنی صدر رفیق تارڑ نے  جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ کی مستقل تعیناتی کو منظور نہیں کیا جس پر اعجاز چودھری نے بات آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ ایک اور میاں ظفر یسین صاحب تھے جن کو ایکسٹنڈ کردیا گیا تھا، میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ جج صاحبان اس وجہ سے ناراض ہوئے یا نہیں ،  لیکن میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں تکلیف تو آدمی کو ہوتی ہے، کہ باقی بیج کے جو جج صاحبان ہیںم وہ اوتھ لے لیں اور ان کی اوتھ نہ ہو، اچھے قابل آدمی تھے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

کوڈ آف کنڈکٹ اور کسی ناراضی یا اپنے ساتھ زیادتی کرنیوالے فریق کے کیس سننے کے بارے سوال پر جسٹس اعجاز چودھری نے بتایا کہ "بات دراصل یہ ہے کہ ہر جج خود فیصلہ کرتا ہے کہ میں اس میں فیصلہ آزادانہ کرسکتا ہوں یا نہیں، کوئی ان کو مجبور نہیں کرسکتا، اور اس کیس میں مجھے نہیں پتہ کہ ایسی بات تھی ،ناراض تھے یا اس کی وجہ سے کوئی بات چیت، میں  کچھ نہیں کہہ سکتا، بہرحال یہ حقائق ہیں، یہ کنفرم نہیں ہوئے تھے لیکن یہ بعد میں سپریم کورٹ کے جج بن گئے اور پھر چیف جسٹس بھی بن گئے۔

مزید :

قومی -