ّسپریم کورٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس مسترد کردیا لیکن اپنی طرف سے ایک شامل کردیا کہ ۔ ۔۔ "سابق جسٹس اعجازچودھری نے بھی کھل کر اپنا موقف پیش کردیا 

ّسپریم کورٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس مسترد کردیا لیکن اپنی ...
ّسپریم کورٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس مسترد کردیا لیکن اپنی طرف سے ایک شامل کردیا کہ ۔ ۔۔

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف بھیجا گیا صدارتی ریفرنس مسترد کردیا تھا جس کے بعد حکومت اپنی اور جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے وکلا اپنی فتح گردان رہے تھے ، اب اس بارے میں سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ، جسٹس اعجاز چودھری کا موقف بھی آگیا۔

وائس آف امریکہ کیلئے سہیل وڑائچ کو دیئے گئے انٹرویو میں قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اٹھنے والے سوالات اور ججز کے کنڈکٹ، اور ایف بی آر کے سامنے معاملہ رکھنے کے بارے میں سوال کے جواب میں جسٹس اعجاز چودھری نے کہا کہ" سپریم کورٹ نے اس کیس کو سنا ہے اور انہوں نے اس ریفرنس کو چیلنج کیا تھا، مختصر فیصلہ آیا ہے، اس کی گراﺅنڈ ابھی آنی ہے، یہ ضرور انہوں نے کیا ہے کہ اس ریفرنس کو تو ختم کردیا ہے لیکن ایک اپنی طرف سے ایڈ ( شامل ) کردیا ہے کہ ایف بی آر کے سامنے فائز عیسیٰ کی بیگم اور بچے پیش ہوں اور اپنا کیس پیش کریں، اور ایف بی آر سات دن میں ان کو نوٹس دے گا اور پھر پتہ نہیں، چالیس دن میں یا پینتالیس دن میں ایف بی آر فیصلہ کرے گا اور پھر اس فیصلے کے نتیجے میں سپریم جوڈیشل کونسل   اور پھر چیف جسٹس اس کو دیکھ لیں، اس میں جو لکھا ہے کہ ان کے بچوں کا نوٹس ان کے مکان کے سامنے لگایاجائے، دروازے پر یا پیش ہوں،  اتنے دنوں میں ، نہ بھی ہوں تو فیصلہ کردیں، یہ ذرا میں سمجھتا ہوں کہ ایک جج کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے"۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -