وہ وقت جب آئی ایس آئی کے ایک جنرل کی طرف سے چیف جسٹس کو جج بھرتی کروانے کیلئے سفارش کی گئی ، سابق جج نے خود ہی بھانڈا پھوڑ دیا

وہ وقت جب آئی ایس آئی کے ایک جنرل کی طرف سے چیف جسٹس کو جج بھرتی کروانے کیلئے ...
وہ وقت جب آئی ایس آئی کے ایک جنرل کی طرف سے چیف جسٹس کو جج بھرتی کروانے کیلئے سفارش کی گئی ، سابق جج نے خود ہی بھانڈا پھوڑ دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے سابق  جسٹس اعجاز چودھری نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ساتھ  آئی ایس آئی کے ایک جرنیل کی طرف سے جج بھرتی کروانے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن ان کی  بات سننے کے بعد وہ   فون ہی بند ہوگیا  ۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کو غیر ملکی خبررساں ادارے کے لیے دیئے گئے انٹرویو میں عام لوگوں کی ضمانت کے بارے سوال کے جواب میں اعجاز چودھری نے بتایا کہ " جب آپ کے پاس معاملہ آئے تو جج صاحبان جو ہیں اپنی کنوینینس کے مطابق پہلی دفعہ ٹال دیتے ہیں"۔

ججوں کے انتخاب اور مداخلت کے بارے میں سوال کے جواب پر جسٹس اعجاز چودھری نے موقف اپنایا کہ "میں چیف جسٹس کے طور پر ڈھونڈتا رہا کہ کوئی اچھے ججز مل جائیں، میرے پاس کوئی پینتیس جج تھے اور 25 سیٹیں خالی تھیں۔ لیکن مجھے نہ ملے اس قسم کے آدمی، پورے ججز تو نہیں فل کرسکا، لیکن اس دوران  ایک واقعہ ضرور ہوا،ایک دفعہ مجھے میرے سیکرٹری نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے جرنیل صاحب بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کروادیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ جج رکھ رہے ہیں؟ میں نے کہا ہاں جی ،رکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فلاں فلاں آدمی کو جج بنادیں،۔ میں نے ان کو کہا کہ آپ لیفٹیننٹ جنرل بناتے ہیں تو  میرا بھی ایک لیفٹیننٹ جنرل بنادیں، تو انہوں نے کہا کہ یہ تو نہیں ہوسکتا، پھر ٹیلی فون بند ہوگیا، اس دور میں کوئی انٹرفیئرنس نہیں تھی، انٹرفیئیرنس بھی اس وقت ہوتی ہے جب لوگ تھوڑی سی گنجائش پیدا کرتے ہیں"۔ یا درہے کہ دسمبر 2010 سے نومبر 2011 تک جسٹس اعجاز چودھری لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس رہے ، اس کے بعد وہ بطور جج سپریم کورٹ میں چلے گئے ۔ ویڈیو دیکھئے 

اس سے قبل پاناما کیس ، وزیراعظم کی نااہلی اور فیصلے کے نقائص کے بارے سوال کے جواب میں اعجاز چودھری نے بتایا کہ "میں 2014ءمیں سپریم کورٹ میں ہی تھا ،2015 دسمبر کی 15 کو ریٹائرڈ ہوا، ملازمت کے دوران ہی وہاں ایک پریس کانفرنس  سنی، ایک دھرنا ہوا تھا عمران خان صاحب کررہے تھے، اس دھرنے میں  جاوید ہاشمی بھی تھے ، میں اور  جاوید ہاشمی صاحب سٹوڈنٹ لیڈر ہوتے تھے ، اکٹھے بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نکالے گی، ہم بڑے حیران ہوئے،  ناصر الملک صاحب چیف جسٹس تھے، میں نے سوچا کہ ناصر الملک صاحب تو بڑے ٹھیک آدمی ہیں، اس قسم کے بندے نہیں لگتے کہ انہوں نے بات چیت کرلی ہو کسی قسم کی ،خیر وہ وقت گزرتا گیا اور پھر نواز شریف کو سپریم کورٹ نے ہی پاناما کیس میں نکالا "۔

سہیل وڑائچ کے سوال کہ "وہ تو جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ کے دور میں نکالا"پر سابق جسٹس اعجاز چودھری نے موقف اپنایا کہ اب پتہ نہیں کس سے ان کی بات ہوئی ہے یہ تو میں نہیں کہہ سکتا،پریس کانفرنس انہوں نے کی، پھر یہ کام تو ہوا، سپریم کورٹ نے ہی نوازشریف کو نکالا ۔

اقامہ کی بنیاد پر نااہلی کے بارے سوال پر جسٹس اعجاز چودھری نے کہاکہ بہت سارے سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں جن کو لوگوں نے  اچھے دل سے تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ یہ فیصلے درست نہیں ہیں، ان میں ذوالفقار علی بھٹو کا کیس ہے، کب سے چل رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں، اس وقت بھی پیپلزپارٹی بہت سارا شور ڈالتی تھی او راس طرح کے کئی فیصلے ہیں، یہ بھی اسی طرح کا ایک فیصلہ ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -