وزیر بحری امور کی فضائی امور پر پریس کانفرنس

وزیر بحری امور کی فضائی امور پر پریس کانفرنس
وزیر بحری امور کی فضائی امور پر پریس کانفرنس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ فرانزک انکوائری میں 2010 سے 2018 تک 236 مشکوک پائلٹس سامنے آئے جنہیں معطل کردیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک موقف لانے کی کوشش کر رہی ہے کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل فروخت ہو رہا ہے تو ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے مینڈیٹ کے تحت ماضی میں ملک کے اداروں کو جس طرح سے تباہ کیا گیا تھا، اس کے خلاف تحقیقات شروع کیں، اسی طرح پی آئی اے اور سول ایویشن بھی ادارے ہیں، ہر انڈسٹری میں یہ کام شروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بے باضابطگیوں اور مشکوک چیزوں کی اطلاعات موصول ہوئیں اور پتا چلا کہ کچھ پائلٹس کے لائسنس میں بے ضابطگیاں تھیں لہٰذا 54 ایسے لوگوں کو فوری معطل کردیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری آرگنائزیشن کی تفصیلی فرانزک انکوائری شروع کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی قومی اثاثے ہیں ان پر مستقل مشاورت ہوتی ہے کہ کیسے ان سے زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جا سکے لہٰذا اس وقت محض مشاورت ہو رہی ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس وقت تو امریکا میں کوئی گاڑی نہیں خرید رہا لہٰذا یہ کہنا انتہائی احمقانہ بات ہے کہ روزویلٹ فروخت ہو رہا ہے، کچھ نہیں فروخت ہورہا۔

مزید :

قومی -