وفاقی بجٹ پر حکومت اور حزب اختلاف کے کتنے اراکین نے  کتنے گھنٹے عام بحث میں حصہ لیااور کتنے اراکین گونگے بنے بیٹھے رہے؟سپیکر اسد قیصر نے تمام تفصیلات بتادیں

وفاقی بجٹ پر حکومت اور حزب اختلاف کے کتنے اراکین نے  کتنے گھنٹے عام بحث میں ...
وفاقی بجٹ پر حکومت اور حزب اختلاف کے کتنے اراکین نے  کتنے گھنٹے عام بحث میں حصہ لیااور کتنے اراکین گونگے بنے بیٹھے رہے؟سپیکر اسد قیصر نے تمام تفصیلات بتادیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اسمبلی میں بجٹ پیش کرنا اور اس کی منطوری ایک آئینی ذمہ داری ہے، اس لئے کرونا وائرس کی موجودگی میں خصوصی انتظامات کے تحت اجلاس منعقد کیا گیا،بجٹ پر عام بحث میں حزب اقتدار سے 107 اور حزب اختلاف کے 101 ممبران نے حصہ لیا،بجٹ پر عام بحث 57 گھنٹے 8 منٹ تک جاری رہی، ورچویل اجلاسوں کےمستقل انتظامات کرنے کےلئےکمیٹی رومز کی ڈیجیٹلائزیشن کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر بابر اعوان سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اسمبلی میں بجٹ پیش کرنا اور اس کی منظوری ایک آئینی ذمہ داری ہے، اس لئے کرونا وائرس کی موجودگی میں خصوصی انتظامات کے تحت اجلاس منعقد کیا گیا،مذکورہ بالا مشکلات کے باوجود ممبران کو بجٹ کی منظوری میں شامل عمومی بحث اور دیگر عمل میں حصہ لینے کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ پر عام بحث میں حزب اقتدار سے 107 اور حزب اختلاف کے 101 ممبران نے حصہ لیا،بجٹ پر عام بحث 57 گھنٹے 8 منٹ تک جاری رہی جو ابتدائی طور پر حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے 40 گھنٹے طے کیا گیا،اسمبلی میں عددی تناسب کے مطابق حکومت اور حزب اختلاف کے لیے بالترتیب 21 گھنٹے 35 منٹ اور 18 گھنٹے 24 منٹ کا وقت مختص کیا گیا تھا تاہم حزب اختلاف اور حکومت کو بالترتیب 10 گھنٹے اور 49 منٹ اور 6 گھنٹے اور 20 منٹ اضافی وقت دیا گیا۔

سپیکر نے بجٹ اجلاس کے انعقادمیں پارلیمانی لیڈرز کے تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود حکومت کی طرف سے ٹیکس فری اور عوام دوست بجٹ کا پیش کرنا قابل تحسین ہے، ٹیکس فری بجٹ سے عام آدمی کی معاشی مشکلات میں کمی ہو گی، کوویڈ۔19 کی وجہ سے عالمی معیشتں متاثرہوئی ہیں اور پاکستان کی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات پڑے ہیں۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ کوڈ 19 نے ملک میں عوام کی روز مرہ زندگی کے معاملات اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے علاوہ پارلیمنٹ کی کارکردگی کو بھی متاثر کیا تاہم ایگزیکٹو پر پارلیمنٹ کی نگرانی کے آئینی کردار کو ادا کرنے کے لیے اس وبائی مرض کے دوران کمیٹیوں کے ورچوئل اجلاس بلائے گئے، کمیٹیوں کے ورچویل اجلاسوں کے مستقل انتظامات کرنے کے لئے کمیٹی رومز کی ڈیجیٹلائزیشن کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں وبائی امراض کے دوران کمیٹیاں اپنا آئینی کردار بہتر طور پر ادا کر سکیں ۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -