وہ ملک جس کے 30 لاکھ باشندوں کو برطانیہ نے اپنے ملک آنے کی پیشکش کردی، چین کو شدید غصہ چڑھا دیا

وہ ملک جس کے 30 لاکھ باشندوں کو برطانیہ نے اپنے ملک آنے کی پیشکش کردی، چین کو ...
وہ ملک جس کے 30 لاکھ باشندوں کو برطانیہ نے اپنے ملک آنے کی پیشکش کردی، چین کو شدید غصہ چڑھا دیا

  

ہانگ کانگ(مانیٹرنگ ڈیسک) ہانگ کانگ کو برطانیہ کی طرف سے چین کے حوالے کیے جانے کی 23ویں سالگرہ پر ہانگ کانگ میں ایک بار پھر ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور دوسری طرف برطانیہ نے ہانگ کانگ کے 30لاکھ سے زائد شہریوں کو اپنے ملک آنے کی پیشکش کرکے چین کا غصہ دو آتشہ کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چین کی طرف سے ہانگ کانگ میں ایک نیا سکیورٹی قانون لاگو کیا گیا تھا جس پر پہلے سے احتجاج جاری تھا۔ اب اس احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ ہانگ کانگ بھر میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی پھینکا ، آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور مرچوں کا سپرے کیا۔ پولیس کی طرف سے سینکڑوں لوگوں کو نئے سکیورٹی قانون کے تحت احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا ہے جن میں ایک 15سالہ لڑکی بھی شامل ہے جس نے ہانگ کانگ کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا اور آزادی کے حق میں نعرے لگا رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق چند ہفتے قبل ایسے ہی احتجاج اور پولیس کے تشدد کے واقعات پیش آنے پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ہانگ کانگ کے 30لاکھ سے زائد شہریوں کو برطانوی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا۔ گزشتہ دنوں ڈومینیک راب نے بھی اس بات کو دہرایا جس پر چین کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ لندن میں واقع چینی سفارتخانے کی طرف سے ایک بیان میں برطانوی حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ”چین ہانگ کانگ کے لوگوں کو برطانیہ کی طرف سے کی جانے والی اس پیشکش کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس کے خلاف لازمی اقدامات کرے گا۔“رپورٹ کے مطابق چینی پولیس نے کانگ کانگ میں کل 370لوگوں کو حراست میں لیا۔پولیس نے ہانگ کانگ کے اس شہری کو بھی گزشتہ روز گرفتار کر لیا جس نے ایک پولیس آفیسر کو خنجر سے زخمی کیا تھا۔ یہ ملزم ایئرپورٹ سے برطانیہ کی پرواز میں سوار ہو چکا تھا جس سے اسے اتار کر گرفتار کیا گیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہانگ کانگ 1997ءتک برطانوی کالونی رہا ہے۔ اس سال برطانیہ نے یہ علاقہ چین کے حوالے کر دیا تھا، جس کے بعد اس کی حیثیت چین کے ایک خودمختار خطے کی تھی تاہم اب چینی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے اس خطے کی خودمختاری کم یا ختم ہو جائے گی۔ اب بھی ہانگ کانگ میں 3لاکھ 49ہزار 881لوگ ایسے ہیں جو ’برٹش نیشنل اوورسیز‘ کی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ یہ لوگ بیرون ملک برطانوی شہری کہلاتے ہیں۔چنانچہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اگر چین نے خطے میں نئے سکیورٹی قانون جیسے اقدامات جاری رکھے تو وہ اپنے اوورسیز شہریوں اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو اپنے ملک بلا لے گا اور انہیں مکمل شہریت دے دے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -