تنخواہوں میں کٹوتی ،انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اساتذہ نے ایسا اعلان کر دیا کہ گورنر پنجاب بھی شرم سے نظریں چھپانے پر مجبور ہوں گے 

تنخواہوں میں کٹوتی ،انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اساتذہ نے ایسا اعلان کر ...
تنخواہوں میں کٹوتی ،انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اساتذہ نے ایسا اعلان کر دیا کہ گورنر پنجاب بھی شرم سے نظریں چھپانے پر مجبور ہوں گے 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن یوای ٹی لاہور نے اساتذہ، ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن ہولڈرز کی پنشن میں دس سے پچاس فی صد کٹوتی کے اقدام کے خلاف 8 جولائی کو گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹی ایس اے کے مرکزی دفتر میں ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس صدر ڈاکٹر فہیم گوہر اعوان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر عامر اخلاق، ڈاکٹرتنویرقاسم، ڈاکٹر وسیم،ڈاکٹر اویس، ڈاکٹر یوسف، ڈاکٹر طارق نواز اور دیگر فیکلٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کےبعدمیڈیاسےگفتگو  کرتے ہوئے ٹی ایس اے کے راہنماؤں کا کہنا تھا اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کا اقدام توہین آمیز ہے،اس سے اساتذہ کی بے توقیری کی گئی،ہم اس وقت بھی اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں،ہر ٹیچر آ ن لائن کلاسز لے رہا ہے،ہم کورونا کے اس عہد میں حکومتی فنڈمیں بھی کٹوتی کرواچکے ہیں،قومی سانحات وآفات پر پہلے بھی کٹوتیاں کرواتے رہے ہیں مگر اب ہماری آدھی آدھی تنخواہیں کا ٹنے کا بھی وقت آگیا ہے،ہم نے یہ دن بھی دیکھنے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوای ٹی پاکستان کی سب سے قدیم یونیورسٹی ہے،100 سال کی حامل یہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی تاریخ کے بد ترین مالی بحرا ن کا شکار ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ رچنا انجینئرنگ کالج گوجرنوالہ اور محمد نوازشریف یوای ٹی ملتان کی تعمیر میں یوای ٹی کے بجٹ سے ایک ارب 20 کروڑ کا استعمال ہے،جو حکومت پنجاب نے اس مد میں ادھار لیے تھے، جو آج تک واپس نہیں ملے، اس لحاظ سے یوای ٹی کے مالی خسارے اور بد انتظامی کی ذمہ دار حکومت پنجاب ہے، وائس چانسلر نے متعدد بار وزیر اعلی، گورنر، وزیر تعلیم،سیکرٹری تعلیم اور دیگر حکام بالا کو خطوط بھی لکھے مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور ایک روپیہ واپس نہیں کیا۔

راہنماؤں نے کہا کہ یوای ٹی پبلک سیکٹر کی سب سے بڑی ٹیکنیکل یونیورسٹی ہے جس کا سب زیادہ میرٹ ہےاور سب سے کم سمسٹر فیس ہے،ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو سالانہ ہزاروں انجینئرز پیدا کرتا ہے،جہاں غریبوں کے بچے پڑھتے ہیں، ملک کی طاقتور اشرافیہ غریبوں کی اس یونیورسٹی کو دیوالیہ کرنا چاہتی ہے،ایک طرف حکومت پیسے کے بحران کا رونا روتی ہے اور دوسری طرف وزیر اعلی پنجاب اپنے من پسند شعبوں کے ملازمین کے لیے تین تین تنخواہوں کے اعزازیے کا اعلان کرتا ہے۔ جس سے دیگر شعبوں میں محرومیاں پیدا ہورہی ہیں، یہ طبقاتی نواز شات کی بد ترین مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے، نیب اور دیگر وفاقی اداروں کو الاوئنسز دیے گئے ہیں حتی کہ مختلف محکموں میں تعینات انجینئرز جو ہمارے شاگر د ہیں کو ٹیکنیکل الاؤنسز دیے گئے ہیں جو تنخواہ کا ڈیڑھ گنا ہے،ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے مگر یہ سراسر ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں اساتذہ کے وقار کا خیال رکھا جاتا ہے مگر جب سے موجودہ حکومت آئی ہے اساتذہ کوبے توقیر کرکے رکھ دیا ہے، ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں کٹ لگا کر حکومت نے یونیورسٹیوں کا گلا دبا دیا ہے،یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ جہاں کٹوتیاں لگ رہی ہیں وہاں مستحق بچوں کے سکالر شپ بھی بند کردیے گئے،یونیورسٹی کے اساتذہ کی اپنی الگ پہچان ہوتی ہے،تشخص ہوتا ہے یہ اگر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے سڑکوں پر آئیں گے تو حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس احتجا ج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، یوای ٹی انتظامیہ کی کسی اپیل کی سرکاری سطح پر کوئی شنوائی نہیں ہورہی، وائس چانسلر کے کسی خط کا جواب نہیں دیا جارہا، گورنر پنجاب چوہدری سرور کو تعلیم اور استاد دوست ہونے کا عملی مظاہر ہ کرنا ہو گا، ہم چانسلر کی حیثیت سے ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یوای ٹی کو تباہ ہونے سے روکیں بصورت دیگر ہم سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے،ہم نے 8 جولائی کو گورنر ہاؤس کے باہر ایک پرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے، جو ہماری قانونی اور جمہوری حق ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -