’یہ ٹیچر بہانے بہانے سے لڑکیوں کو ہاتھ لگاتا تھا اور۔۔۔‘ لاہور گرائمر سکول کی مزید لڑکیاں سامنے آگیں، ٹیچروں کی شرمناک حرکتیں بے نقاب کردیں

’یہ ٹیچر بہانے بہانے سے لڑکیوں کو ہاتھ لگاتا تھا اور۔۔۔‘ لاہور گرائمر سکول ...
’یہ ٹیچر بہانے بہانے سے لڑکیوں کو ہاتھ لگاتا تھا اور۔۔۔‘ لاہور گرائمر سکول کی مزید لڑکیاں سامنے آگیں، ٹیچروں کی شرمناک حرکتیں بے نقاب کردیں

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور گرائمر سکول کے متعلق گزشتہ ہفتے مبینہ جنسی سکینڈل سامنے آیا جس میں آئے روز نئی طالبات سامنے آ رہی ہے اور ٹیچرز اور دیگر عملے پر مختلف طرح کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ اب مزید کئی لڑکیاں سامنے آ گئی ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی کہانیاں بیان کر دی ہیں۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں ان لڑکیوں کی کہانیاں بیان کی ہیں۔ ایل جی ایس ماڈل ٹاﺅن 137ای کی ایک طالبہ نے سر شاہد نامی ایک ٹیچر پر الزام کیا ہے کہ وہ دوران کلاس لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا کرتے ہیں۔ یہ ٹیچر بچوں کو فزکس پڑھاتے ہیں اور طالبہ کا کہنا ہے کہ وہ بہانے بہانے سے طالبات کو نازیبا انداز میں ہاتھ لگاتا تھا۔میں بھی او لیول سے اس کی سٹوڈنٹ ہوں اور اس کی موجودگی مجھے بہت بے سکون کرتی ہے۔ وہ لڑکیوں کو دیکھتا ہی ایسے انداز سے ہے کہ الجھن ہونے لگتی ہے۔ وہ لڑکیوں کی شکل و صورت اور لباس وغیرہ پر بھی کمنٹس کرتا ہے۔ اکثر وہ کلاس کے بعد لڑکیوں کو روک لیتا ہے اوران سے پوچھتا ہے کہ میں کیسا لگتا ہوں آپ کو؟

طالبہ کا کہنا تھا کہ ”کئی طالبات نے سر شاہد کے خلاف شکایت کی لیکن انتظامیہ نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ الٹا انتظامیہ طالبات پر الزام عائد کر دیتی کہ تم جھوٹ بول رہی ہو اور ’می ٹو‘ مہم کی طرف دار ہو۔انتظامیہ کے لوگ ہمیں الٹا شرمندہ کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم اپنے بال کھلے چھوڑو گی اور مغربی لباس پہنو گی تو اس کا مطلب ہے کہ تم خود چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ ایسا کیا جائے۔ یہ سب کچھ کرکے تم لڑکوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہو۔ اب ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ہم سوشل میڈیا سے دور رہیں اور ایسے ٹیچرز کے متعلق پوسٹس نہ کریں۔“ اس طالبہ نے ٹیچرز کے طرف سے کیے گئے کچھ میسجز کے سکرین شاٹس بھی اپنی پوسٹ میں شیئر کیے جن میں وہ اس مہم میں سوشل میڈیا پر پوسٹس کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک اور طالبہ نے سر فہیم نامی ٹیچر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھی طالبات کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بناتا تھا جن کی عمریں 13سے 16سال کے درمیان تھیں۔ واضح رہے کہ طالبات کی طرف سے سوشل میڈیا پر اس مہم کے بعد ایل جی ایس کی انتظامیہ نے 4ٹیچرز کے خلاف ایکشن لے لیا ہے تاہم لگتا ہے کہ انتظامیہ کو ابھی بہت سے ٹیچرز کے خلاف ایکشن لینا پڑے گا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -