دست شفاء

 دست شفاء

  

 اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر حیدر کو کئی صلاحیتوں سے نوازا ہے جن کی مدد سے وہ مرض کی جڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔قدرت نے شاید انھیں خاص دست ِشفا عنایت کر رکھا ہے۔

    اقبال میرے بچپن کا دوست ہے۔کچھ عرصے سے اسے بدہضمی کی شکایت تھی۔وہ بہت خوش خوراک تھا،لیکن اب کچھ کھاتا تو ہضم نہ ہوتا۔معدے کے امراض کے ماہرین سے علاج کے باوجود افاقہ نہ ہو سکا۔ایک دن میں اقبال کو لے کر ڈاکٹر حیدر کے پاس جا پہنچا اور تفصیل سے اقبال کے مسئلے سے آگاہ کیا۔ڈاکٹر صاحب خود اقبال سے بھی اس کا حال غور سے سنتے رہے اور کئی سوالات کرکے مسئلہ کے تمام پہلوؤں کے بارے میں تفصیلات نوٹ کرتے رہے۔پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا:”بیٹا!بالکل فکر نہ کرو،انشاء اللہ کل ہی سے سب کچھ بالکل معمول کے مطابق کھانے لگو گے۔تمہارے لئے بہترین دوا تیار ہے۔یہ دوا میری ساری عمر کے تجربے کا نچوڑ ہے۔تم اس کے چند قطرے ابھی میرے سامنے پانی میں ملا کر پی لو۔“

    اقبال نے فوراً ان سے دوا لے کر پانی میں اس کے چند قطرے ملائے اور پانی پی لیا۔تھوڑی دیر بعد بات کرنے کے بعد ڈاکٹر حیدر بولے:”لو جی اب تمہارا معدہ تمام نقائص سے پاک ہو چکا ہے۔اب تم مجھے بتاؤ کیسا محسوس کر رہے ہو!“

    ”ڈاکٹر صاحب!آپ کی دوا واقعی جادو اثر ہے۔میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔“اقبال نے جواب دیا۔

    ڈاکٹر حیدر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:”اقبال بیٹا!گھر جاؤ اور جو دل چاہے پیٹ بھر کر کھاؤ،صرف بازاری کھانوں سے پرہیز کرنا۔کھانے کا ایک اْصول یہ ہے کہ کھانا کم اور خوب چبا کر کھایا جائے۔یاد رکھو تمہیں جینے کے لئے کھانا ہے،کھانے کے لئے نہیں جینا۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر تمہیں بدہضمی ہوئی تو میں پریکٹس چھوڑ دوں گا۔“

    پھر ہم دونوں اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔میں رات گئے تک اقبال کے فون کا منتظر رہا کہ کہیں اس کے معدے میں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوئی،مگر اس کا فون نہیں آیا۔

    اگلے روز اقبال کی والدہ نے خوش خبری سنائی کہ اقبال بالکل ٹھیک،بہت خوش ہے اور اب رغبت سے کھا رہا ہے۔یہ سْن کر میں بہت خوش ہوا۔

    دو دن بعد میں یہ سوچ کر ڈاکٹر حیدر کے پاس چلا گیا کہ ان سے اس حیرت انگیز دوا کے متعلق پوچھوں جو ان کی ساری عمر کے تجربے کا نچوڑ تھی۔

    میں نے ڈاکٹر صاحب کے پاس جا کر انھیں اقبال کا سارا احوال سنایا اور ان سے دوا کی قیمت دریافت کی،تاکہ اسے خرید سکوں۔

    ڈاکٹر صاحب اپنی نشست سے اْٹھے اور مسکراتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے:”وہ تو محض سادہ پانی تھا۔“

    وہ میرے حیرت میں ڈوبے چہرے کو نظر انداز کرتے ہوئے مزید بولے:”آپ کے دوست کو درحقیقت کوئی مرض تھا ہی نہیں۔زیادہ اور بازاری کھانے کے ساتھ ساتھ اسے وہم بھی ہو گیا تھا کہ وہ جیسے ہی کچھ کھائے گا،اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا۔میں نے تو بس اس کا نفسیاتی علاج کرکے وہم کی بیماری سے اسے نکالا ہے۔اسے اسی علاج کی ضرورت تھی۔اب اگر وہ میری ہدایت پر عمل کرتا رہا تو اسے انشاء اللہ کبھی یہ تکلیف نہیں ہو گی۔“

اور واقعی اقبال کو اس علاج اور ہدایت کے بعد اس مسئلے کا سامنا نہیں ہوا۔

 دور دراز کے کسی قصبے میں ایک محنتی لکڑ ہارا رہتا 

مزید :

ایڈیشن 1 -