بھارت میں انتہاء پسندی کا خطرناک رجحان

 بھارت میں انتہاء پسندی کا خطرناک رجحان

  

بھارت کی مشرقی ریاست راجستھان کے شہر اُودے پور میں توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر دو مسلمانوں کے ہاتھوں ایک ہندو درزی کے قتل پر صورت حال انتہائی خراب ہو گئی اور پولیس کو سات تھانوں کی حدود میں کرفیو لگانا پڑا۔یہ واقعات بھارت میں بڑھتی مذہبی انتہاء پسندی کا شاخسانہ ہیں  جو ہندو انتہاء پسندوں کی طرف سے پے در پے واقعات کے باعث شدت اختیار کر چکی ہے۔رپورٹس کے مطابق اُودے پور کا کنہیا لال نامی درزی سوشل میڈیا پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی معطل رہنما نوپور شرما کی حمایت میں مسلسل مواد پوسٹ کر رہا تھا۔ یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی چینل پر مسلمانوں کے مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کا مذاق اڑایا تھا جس کے بعد پورے بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔مسلمانوں نے اس پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نو پور شرما کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا لیکن بھارتی حکومت نے ایسا کرنے کی بجائے مسلمانوں کی آواز دبانے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، جب حالات کنٹرول سے باہر ہونے لگے تو حکمران جماعت نے نو پور شرما کی رکنیت معطل کر دی تاہم اُس کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ہندو انتہاء پسند نو پور شرما کی مسلسل حمایت کرتے رہے اور انہوں نے اُس کے حق میں مظاہرے بھی کئے جس سے کشیدگی مزید بڑھتی چلی گئی۔ اس واقعے کی وجہ سے مسلمانوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اب بھی بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ہندو انتہاء پسند سوچ کے زیر اثرکنہیا لال نامی ہندو درزی  سوشل میڈیا پر نو پور شرما کے موقف کی حمایت میں مسلسل توہین آمیز مواد پوسٹ کر رہا تھا جس پر اسے مقامی مسلمانوں نے سمجھایا بھی مگر وہ باز نہ آیا۔اُس کے خلاف مقامی پولیس کو ایک درخواست  بھی دی گئی جس پر مقدمہ درج ہوا اور پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تاہم کمزور دفعات کی وجہ سے اگلے ہی روز اُسے ضمانت مل گئی۔کنہیا لال نے باہر آ کر نہ صرف دوبارہ شر انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع کر دیا بلکہ پولیس کو تحفظ کے لیے درخواست بھی دی۔ ہندو انتہاء پسند درزی کی جانب سے نوپور شرما کے حق میں مسلسل مواد پوسٹ کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اشتعال بڑھ رہا تھا اور اسی دوران  محمد غوث اور محمد ریاض نامی دو افراد کپڑے سلوانے کے بہانے اُس کی دکان میں داخل ہوئے اور پھر اُس پر تیز دھار خنجر سے حملہ کر دیا اُس پر26 مرتبہ خنجر کے وار کیے گئے جس سے اُس کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی،حملہ آوروں نے اس واقعے کی ویڈیو بنائی اور اُسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کر دیا۔اس واقعے کے فوراً بعد انتہاء پسند تنظیموں کی طرف سے شہر کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا گیا، پولیس نے دو گھنٹے بعد حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا لیکن  ہنگامے پھوٹنے کی وجہ سے سات تھانوں کی حدود میں کرفیو لگا دیا گیا جبکہ پوری ریاست راجستھان میں دفعہ144 نافذ کر دی گئی۔ہندو تنظیموں کے برعکس مسلمان تنظیموں کی طرف سے اس واقعے کی مذمت کی گئی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، جماعت اسلامی ہند، جمعیت علماء ہند سمت مسلم مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا تاہم یہ بھی کہا گیا کہ یہ واقعہ ایک ردعمل ہے جو بھارت میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی وجہ سے سامنے آیا۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی رہنما نو پور شرما کا  متنازع بیان مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ حکومت کی طرف سے اُن کے خلاف کارروائی نہ کرنا مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے تاہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جماعت اسلامی ہند نے بھی اس واقعے کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کو ایک جرم قرار دے کر پابندی لگائے۔جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ بھارت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک ہے۔بھارت کے بعض غیر جانبدار مبصرین نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ کچھ عرصے سے بھارت میں مذہبی منافرت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی بنیاد انتہاء پسندی ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا سیکولر ازم نریندر مودی سرکار کے آنے سے دفن ہوتا جا رہا ہے۔ نریندر مودی کے دور میں ہندو انتہاء پسندی کو جس قدر فروغ ملا ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور اس انتہاء پسندی کا نشانہ بھی مسلمان ہی بنتے ہیں۔مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسلامی شعائر کی  توہین بھی کی جاتی ہے،جب بھی بھارت میں ہندو مسلم فسادات پھوٹے ہیں، اُن کا آغاز ہمیشہ ہندو انتہاء پسندوں نے کیا ہے۔اپنی جماعت کی ترجمان  نورپور شرما کی گستاخی پر جس طرح بی جے پی نے جانبداری سے کام لیا وہ سب کے سامنے ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے نوپورشرما کو بھارت میں آگ لگانے کے ساتھ ساتھ اُودے پور واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نوپور شرما کی درخواست پر تو ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا لیکن خود نوپورشرما پر متعدد مقدمات درج کئے جانے کے باوجود دہلی پولیس نے ان کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں نوپورشرما کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور سستی شہرت کی کوشش قرار دیا۔حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والی کوئی شخصیت اگر انتہا پسندی کی مرتکب ہوتی ہے تو اُس کے معاشرے یا عام آدمی پر کیا اثرات ہوں گے۔بھارت کا آئین سیکولر ازم کی بنیاد پر کھڑا ہے جس میں ضمانت دی گئی ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ برابر ہیں اور اُن کی مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے گا لیکن عملاً ایسا نہیں ہو رہا۔اس حوالے سے بھارتی آئین اس وقت کاغذ کا ایک پرزہ بن کر رہ جاتا ہے جب ہندو انتہاء پسند اپنی اکثریت کی وجہ سے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو اُن کی مذہبی آزادی سے محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بار بار اس امر کی نشاندہی کی کر چکی ہیں کہ ہندو قوم  پرست جماعتیں اور گروپ اپنی عددی برتری کے زور پر بھارت کو سیکولر کی بجائے ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ سب سے زیادہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں کیونکہ ہندوؤں کے بعد سب سے بڑی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں قائم ہونے والی حکومتیں ہندو مسلم فسادات کو سیاسی تناظر میں دیکھتی ہیں، وہ انتہاء پسندوں کو ناراض  نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ اُن کی وجہ سے انہیں اقتدار ملتا ہے۔آج بھارت ہند ازم کی وجہ سے انتہاء پسندی کے جس مقام پر آ کھڑا ہوا ہے وہ نہ صرف بھارت بلکہ خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ بھارتی سیاسی قیادت کو  ہوش کے ناخن لینا چاہئیں اور جیسا کہ جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علمائے ہند نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں انتہا پسندی کو کچلنے کے لیے حکومت بلا امتیاز کارروائی کرے اور ہندو انتہاء پسندوں کو اس طرح کی چھوٹ نہ دے کہ ردعمل میں ایسے واقعات پیش آئیں جیسا کہ اُودے پور میں پیش آیا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -