صوبہ سندھ کی جامعات مستقل وائس چانسلرز کی منتظر

صوبہ سندھ کی جامعات مستقل وائس چانسلرز کی منتظر

  

آئین پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن قائم کردیئے تھے۔صوبہ سندھ میں اس ادارے کی کارکردگی انتہائی خراب دکھائی دے رہی ہے۔ایک خبر کے مطابق اس وقت کراچی یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی جامشورو سمیت سات جامعات میں قائم مقام وائس چانسلر کام کررہے ہیں۔مستقل وائس چانسلرز کی تقرری اس حد تک ”مشکل“ ہوگئی ہے کہ کراچی یونیورسٹی ایک طویل عرصہ سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے۔سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بعض الزامات کی وجہ سے جبری رخصت پر بھیج دیا گیا تھا جبکہ کراچی یونیورسٹی میں وائس چانسلرکی تقرری کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات بھی زیر سماعت رہے۔سندھ اسمبلی میں ترمیمی بل کے ذریعے یونیورسٹی کے معاملات میں گورنر سندھ کے اختیارات محدود کردیئے گئے تھے اور وزیراعلیٰ سندھ کو زیادہ بااختیار بنادیا گیا تھا۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن سندھ مفادات کے ٹکراؤ کی زد میں بھی رہا ہے اور شاید آج بھی ہے۔سابق مشیر توانائی ڈاکٹرعاصم حسین ایک نجی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں لیکن گزشتہ کئی سال تک وہ اس ادارے کے چیئرمین رہے۔اس وقت سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی کمیشن کے ممبر ہیں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دو اہم عہدیدار اور اردو یونیورسٹی کی انچارج وائس چانسلر بھی سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ممبر ہیں۔یوں یہ ادارہ مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے بدترین مثال پیش کررہا ہے کیونکہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ پر موجود ہیں۔اس وقت سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں 41 یونیورسٹیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے آٹھ غیر فعال ہیں،یوں کئی وجوہ کی بنا پر مستقل وائس چانسلرز کی تقرری سیاسی رنگ اختیار کرچکی ہے۔صوبے کی اہم ترین جامعات میں اعلیٰ تعلیمی ادارے ایڈہاک بنیادوں پر چلانے سے بہترین تعلیمی نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں۔سندھ حکومت کو چاہیے کہ کم از کم اعلیٰ تدریسی اداروں سے ایڈہاک ازم ختم کرکے جلد از جلد مستقل وائس چانسلرز تعینات کرے تاکہ ان یونیورسٹیوں میں بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -