ضمنی کے بعد کیا ہوگا؟

 ضمنی کے بعد کیا ہوگا؟
 ضمنی کے بعد کیا ہوگا؟

  

جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کی لارجر (فل) بنچ کے فیصلے سے بظاہر پنجاب میں جاری بحران ختم ہونا چاہیے لیکن شاید ایسا نہ ہو مسلم لیگ(ن) کی حد تک تو آج (جمعہ) شب تک سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے جن فیصلوں کا اعلان کیا ان کے مطابق یہ بحران اور بڑھے گا تاہم حالات و واقعات کی رو سے یہ سلسلہ ویسے چلے گا جس طرح اب تک وفاق میں چلتا آ رہا ہے خیال تھا کہ آج رات تک جو نتیجہ سامنے آئے گا اس کے باعث حمزہ شہباز کی راہ میں رکاوٹ ختم اور وہ پھر سے اکثریتی ووٹوں کی بناء پر وزیراعلیٰ ہوں گے اور عدالتی حکم کے مطابق پھر حلف اٹھا لیں گے جس کے بعد ان کو کابینہ کی تشکیل میں بھی کوئی دشواری نہیں ہو گی اور منتظر سبھی اراکین وزراء کی حیثیت سے حلف اٹھا لیں گے لیکن معاملہ عدالت عظمیٰ کے روبرو جانے سے حالات تبدیل ہو گئے ہیں آج پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو سکا۔

اس سلسلے میں جو ہوا وہ ”سب سے پہلے“ والی دوڑ کے باعث ہوا۔ ہمارے الیکٹرونک میڈیا کے دوستوں نے عدالت میں موجود ہوتے ہوئے فیصلے کے اعلان کے ساتھ ہی ٹکر چلا کر اپنی پسند کے معنوں کے مطابق خبر چلا دی۔ یوں منتظر عوام کو بھی غلط فہمی ہوئی حتیٰ کہ مجھے بھی گزشتہ روز کے کالم میں کئی بار تبدیلی کرنا پڑی۔ صرف الیکٹرونک میڈیا والے ہی نہیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے بھی فتح کا نشان بنا کر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے اور عثمان بزدار بحال ہو گئے ہیں۔ یہ ساری غلط فہمی تھی کہ جب فاضل بنچ کی طرف سے حکم سنایا گیا تو ابتداء ہی میں یہ تھا کہ درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں۔ اس سے فوری طور پر یہی نتیجہ اخذ کیا گیا کہ درخواستوں میں کی گئی استدعا بھی منظور ہو گئی جو حمزہ شہباز کی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انتخاب کالعدم قرار دے کر ان کی علیحدگی کے لئے کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک غلط فہمی نے بھی جنم لیا جو پانچ رکنی فاضل بنچ کے ایک رکن کے اختلافی نوٹ والی تھی۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی بحالی کے حق میں رائے دی تھی۔ یوں یہ شور مچ گیا کہ حمزہ شہباز کے حوالے سے استدعا منظور کی گئی اور وہ وزیراعلیٰ نہیں رہے اور اب عثمان بزدار وزیراعلیٰ ہوں گے اور وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ ہوگا۔ اس سلسلے میں قانونی فہم سے غور نہ کیا گیا کہ اگر فاضل بنچ سردار عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ تسلیم کرتی تو پھر ان کے استعفیٰ کی منظوری کالعدم ہوتی اور ایسی صورت میں بعد کے سارے عمل کالعدم ہو جاتے یوں نہ صرف حمزہ شہباز واپس قائد حزب اختلاف ہوتے بلکہ گورنر کی نامزدگی اور ان کے سارے احکام بھی کالعدم قرار پاتے یہ اتنا بڑا بحران ہوتا کہ سنبھالا نہ جا سکتا اسی لئے فاضل بنچ کے چار اراکین کا فیصلہ مختلف تھا۔

جب یہ فیصلہ وضاحت کے ساتھ سامنے آیا تو بڑی بڑی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ فاضل عدالت نے نہ تو حمزہ شہباز کی وزارت علیہ ختم کی اور نہ ہی سابقہ عمل اور احکام کو کالعدم قرار دیا حتیٰ کہ نیا انتخاب بھی کرنے کی ہدایت نہ کی البتہ یہ حکم دیا کہ رائے شماری پر اعتراض قبول اور منحرف اراکین کے ووٹ درست نہیں تھے اس لئے دوبارہ گنتی کرائی جائے اور ان 25اراکین کو شمار نہ کیا جائے جو نااہل قرار دیئے گئے۔ فاضل عدالت نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کر دی کہ اگر پہلی گنتی میں 197 اراکین کی حمایت حاصل نہ ہو تو پھر دوبارہ (رن آف الیکشن) کرایا جائے اس طرح جو جیتے اس سے ہفتہ 11بجے حلف لے لیا جائے۔

اس صورت حال نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت سب کو ششدر کر دیا اور وہ جو کل تک عدالت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے فیصلے کو مبہم قرار دے کر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے کیمپ میں اطمینان تھا اور جمعرات ہی کو اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد 177 اراکین کی حمایت کا دعویٰ کر دیا گیا جبکہ ان کے مقابلے میں چودھری پرویز الٰہی کو مشترکہ حمایت کی صورت میں 168 کی حمایت حاصل ہے، اب صورت حال یہ ہے کہ 25ارکان کو نکال کر ایوان کی کل تعداد 344 رہ گئی ہے اور اگر یہ تناسب سمجھا جائے تو پھر 171 ووٹ والا جیتے گا اور اگر سابقہ تناسب 371 کے حساب سے ہو تو پھر سے 186 ووٹ کی ضرورت ہو گی جو اس وقت کسی کے پاس نہیں ہیں۔ امیدوار دو ہی ہیں اس لئے ”رن آف الیکشن“ ہی حل ہوگا اور اس مرحلے میں حمزہ شہباز کو اکثریت حاصل ہے کہ ان کو 177اور پرویز الٰہی کو 168کی حمایت حاصل ہے اگر پانچ خواتین کے لئے نوٹیفکیشن جاری ہو تو پھر بھی یہ 173 بنتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) چار اراکین کی اکثریت رکھتی ہے جبکہ عدالتی حکم میں 20نہیں 25 منحرف (نااہل) ووٹوں کو شامل نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اب تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کا یہ احتجاج بھی سامنے آیا کہ فاضل عدالت نے فوری گنتی اور دوبارہ الیکشن کی جو ہدایت کی وہ مہلت کے لحاظ سے بھی درست نہیں کہ ان کی پارلیمانی پارٹی کے 8 اراکین حج کے لئے گئے ہوئے ہیں اور وہ اتنی جلد واپس نہیں آ سکتے، اب تک کی اطلاعات یہ ہیں کہ گزشتہ روز (جمعہ) کو صبح چودھری پرویز الٰہی اور سبطین خان کی صدارت میں پارلیمانی پارٹی کا جو اجلاس ہوا اس میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ان کی طرف سے یہ اپیل تیار کرکے دائر کر دی گئی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران تحریک انصاف اور چودھری پرویز الٰہی کے وکلاء اور خود چودھری پرویز الٰہی کی طرف سے دلائل جو دیئے گئے ان کے مطابق پانچ خواتین اراکین کے نوٹیفکیشن کے اجراء اور رائے شماری کے لئے کم از کم سات روز کا التوا مانگا گیا اگرچہ خواہش یہ بھی نظر آئی کہ 17جولائی کے انتخابی نتائج کے بعد انتخاب کرایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عدالت عالیہ پر چھوڑ دیا گیا اور حمزہ شہباز نے ویڈیو لنک کے ذریعے سوال کے جواب میں کہا وہ عدالتی فیصلے کا احترام کریں گے۔ یوں یہ سماعت جاری رہی۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں رائے شماری کا وقت گزر چکا، یوں بھی مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس تھے کہ آج رائے شماری اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس ممکن نہیں۔ یوں یہ معاملہ بھی عدالت عظمیٰ کے فیصلے تک چلا گیا۔ عدالت نے فریقین سے آئندہ رائے شماری کی تاریخ خود طے کرنے کی تجویز دی مجھ سمیت پوری قوم منتظر ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا سوال ہے۔ حمزہ کو بہرحال ڈی سیٹ (وزارت عالیہ سے الگ) نہیں کیا جا سکے گا آخری اطلاع یہ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے بھی کہا کہ عدالتی فیصلہ منظور ہو گا۔ اب بتایا گیا کہ عدالت کی تجویز پر چودھری پرویز الٰہی اور بابر اعوان نے آگاہ کیا کہ17 جولائی ضمنی انتخابات کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب کرا لیا جائے اس وقت تک حمزہ وزیراعلیٰ منظور ہیں۔ عدالت نے اتفاق پر اطمینان ظاہر کر دیا وزیراعلیٰ کا انتخاب 22جولائی کو ہو گا یہ بھی طے پایا۔

مزید :

رائے -کالم -