آسان ہدف پر مشکل فیصلے

  آسان ہدف پر مشکل فیصلے
  آسان ہدف پر مشکل فیصلے

  

 مشکل فیصلوں کی اصطلاح اتنی عام ہو گئی ہے کہ ہر آنے والی حکومت کے ابتدائی دنوں میں  ہی اب لوگ ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں کہ  بس اب اعلان ہوا چاہتا ہے کہ پچھلی حکومت کے  برے اقدامات کی وجہ سے مجبوراً مشکل معاشی فیصلے کرنا پڑیں گے۔سابقہ حکومت کا سب سے زیادہ جملہ جو لوگوں میں مقبول ہوا  وہ بھی یہی تھا کہ ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں اس لئے ”آپ نے گھبرانا نہیں“۔ سالوں سے  ایسی ہی صورت حال سے گزرتے ہوئے کم از کم اب یہ شعور تو عام آدمی میں اجاگر ہو چکا ہے کہ ہم جتنے گھمبیر معاشی مسائل میں گھر چکے ہیں اس سے نکلنے کے لئے کسی  کے پاس بھی کوئی ایسا حل موجود نہیں ہے جس کی طرف کوئی پہلا قدم بڑھایا جا سکے۔ہر حکومت کی کامیابی کا ضامن  آئی ایم ایف کے قرض پروگراموں کا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری رہنا  اور دیگر ملکوں سے ادھار کے نام پر ملنے والی ملکی ضروریات کا ملتے رہنا  اور سٹیٹ بینک کے ڈالر اکاؤنٹ میں  ادھار رقم کا بطور ریزرو پڑے رہنا ہی رہ گیا ہے۔

ہر پاکستانی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر اتنی بڑی قرض کی رقم جو ہم سالہا سال سے لیتے چلے آ رہے ہیں  اور اس سے نہ تو ہم کوئی ایسا نظام قائم کر سکے ہیں کہ ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو کر اس قرض کو اتارنے کے قابل ہو سکے، نہ ہمارے قومی ادارے جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن، پاکستان ریلویز، پاکستان سٹیل اور اس طرح کے دیگر  ادارے جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں وہ درست سمت میں رواں دواں ہو سکے اور  نہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکا۔۔۔ نہ اس کے حل کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی  وضع کی جا سکی اور نہ ہی  عام آدمی کی مشکلات  تبدیل ہوئیں۔ مسائل ہیں کہ ہر طرف منہ کھولے کھڑے ہیں، روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنا  جان جوکھوں کا کام ہو کر رہ گیا ہے، ان حالات میں ہر مشکل فیصلہ عام پاکستانی پر ہی بجلی بن کر گرتا ہے کہ یہی سب سے آسان ہدف ٹھہرتے ہیں اور ان کی مثال گراؤنڈ میں رکھے اس پتلے کی طرح ہو گئی ہے جس پر ہر نشانہ باز اپنی پریکٹس شروع کر دیتا ہے۔

پٹرول، بجلی اور ضروریات زندگی کی قیمتوں کو  بڑھائے چلے جانا کون سا طرز حکمرانی ہے اور اس سے حالات کے بہتر ہونے کی کوئی امید لگائی جا سکتی ہے؟اس سارے معاشی تباہ کاری کے منظر نامے کی وجوہات کا جاننا اب کوئی راکٹ سائنس نہیں رہی کہ ملکی اشرافیہ کس طرح  ملکی وسائل کو ان حالات میں بھی  اپنا حق سمجھ کر استعمال کرتی چلی جا رہی ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافے کی اطلاع ہی ملتی ہے۔حکومت کوئی بھی ہو اگر واقعی وہ چند ایسے مشکل فیصلے کر لے جنہیں واقعی مشکل فیصلے کہا جاسکے تو اسی صورت میں ہی ہم اس نظام کو سنبھالنے اور اسے بچانے کی روش پر گامزن ہو سکتے ہیں۔سب سے پہلا مشکل فیصلہ ان گھمبیر حالات میں بڑے بڑے عہدوں پر براجمان اور مراعات  یافتہ لوگوں کو لسٹ آؤٹ کرنے کا ہے  جو ان حالات میں بھی  ایسی ایسی سرکاری سہولتیں لے رہے ہیں  اتنے خراب معاشی حالات میں ایسی مراعات انجوائے کر رہے ہیں جو بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی  ان عہدوں پر فائز  لوگوں کو میسر نہیں ہیں۔ پہلامشکل فیصلہ  یہی ہے کہ جب تک ہم قرض اور  معاشی بحران سے نہیں نکل جاتے ملک کے ہر عہدے پر براجمان شخص سے اپنے کام کی تنخواہ کے علاوہ ہر قسم کی مراعات واپس لی جانا چاہئیں اور ان کو بھی وسیع تر ملکی مفاد میں اس کو بخوشی قبول کر لینے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔دوسرا مشکل فیصلہ انرجی کے اس بدترین بحران میں یہ ہو سکتا ہے کہ جو  ہزاروں لوگ ملک میں لاکھوں یونٹ مفت استعمال کر رہے ہیں ان کی اس سہولت کو ختم کر دیا جائے۔

ملک کے کسی بھی عہدے  یا ادارے سے تعلق رکھنے والے  فردکو مفت بجلی کی سہولت اس مشکل ترین بحران سے نکلنے تک رکھنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔بڑے عہدوں کی بات تو چھوڑیں واپڈا کے ہزاروں ملازمین بھی ابھی تک اس سہولت سے  فیض یاب ہو رہے ہیں جو سراسر انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔بڑے بڑے قومی اداروں کی  سینٹرل ائر کنڈیشن عمارتیں بھی جب تک انرجی کے دوسرے ذرائع پر منتقل نہیں ہو جاتیں واپڈا کی مفت بجلی کی سہولت سے دستبردار کر دی جائیں  تو کوئی قیامت برپا نہیں ہو جائے گی اور اسی کو مشکل فیصلہ کہا جائے گا۔پارلیمنٹ، سینیٹ اور اس طرح کے قانون ساز اداروں میں پہنچے والے لوگ مالی اعتبار سے اس قدر مستحکم ہوتے ہیں کہ  اگر  ان کی سرکاری مراعات،تنخواہیں اور دیگر سہولیات  حالات بہتر ہونے تک روک بھی دی جائیں تو انہیں کوئی  فرق نہیں پڑے گا لیکن یہ خطیر رقم ایک سال میں بہت سے  ضروری کاموں میں خرچ ہو سکے گی اور یہ ہے دراصل مشکل فیصلہ۔ مجبور اور حالات میں پسے ہوئے  غریب عوام پر  بوجھ ڈالتے چلے جانے کا رخ اب اشرافیہ کی طرف موڑنا چاہئے جو دراصل ایک حقیقی  مشکل فیصلہ ہے۔جب تک وہ لوگ  کام کرتے ہوئے پسینے سے شرابور نہیں ہو جاتے جنہیں سہولتیں  فراہم کرنے میں ہی ملکی وسائل اور لیا گیا قرض  استعمال ہوتا چلا آ رہا ہے تب تک مشکل فیصلوں کی منطق بس پتلے پر تیر چلاتے چلے جانے  کے ہی مترادف ہے۔

مزید :

رائے -کالم -